جنگ سے انتہا پسندی اور دہشت گردی تک

بچوں کو ذبح کرنے والے، کتابوں اور علم و ادب سے نفرت کرنے والے دنیا کے حاشیوں پر دھکیل دیے جائیں گے۔


Zahida Hina December 23, 2014
[email protected]

دسمبر کا مہینہ تمام ہورہا ہے ۔ 7 دن بعد 2015 دنیا کے دروازے پر دستک دے گا اور ہم سچی جھوٹی امیدوں سے اپنے آپ کو بہلائیں گے۔خودکواور دوسروں کو یقین دلائیں گے کہ آنے والے دن اپنے دامن میں امن کی نوید اورخوشیوںکی وعید لارہے ہیں ۔ بچوں کو ذبح کرنے والے، کتابوں اور علم و ادب سے نفرت کرنے والے دنیا کے حاشیوں پر دھکیل دیے جائیں گے ۔ خوش امیدی کی خوشبو سے گھر اور بازار بھر جائیں گے اور دنیا ایک ایسا خواب ہوگی جس میںانسان ہمیشہ زندگی کرنے کی آرزو رکھیں گے ۔

دنیا کو شہر دل آرا بنانے کی خواہش ہم سب کے سینوں میں دھڑکتی ہے لیکن اس کی طرف پہلا قدم ہم اسی وقت اٹھاسکتے ہیں جب ہم اپنے ذہنوں سے جنگ کا جاہ و جلال اور اس کا تزک و احتشام کھرچ سکیں ۔اس حوالے سے مجھے سوئٹزر لینڈ کے دو بیٹے یاد آتے ہیں جو انیسویں صدی میں پیدا ہوئے اورجنہوں نے بیسویں صدی میں اس دنیا سے کوچ کیا ۔ ان میں سے ایک ایلن ڈوکوموں تھا اور دوسرا چارلس البرٹ گوباٹ ۔ دونوں آدرش وادی اور دونوں دنیا میں امن پھیلانے کا خواب دیکھنے والے ۔ 1902 میں انھیں مشترک طور پر نوبیل امن انعام سے سرفراز کیا گیا ۔ ڈوکومن کی عمر پڑھاتے ، ترجمہ کرتے ہوئے اور کوچۂ صحافت کی جادہ پیمائی میں گزری ۔ دنیا کی پہلی غیر سرکاری امن تنظیم، 'انٹرنیشنل پیس آفس' کا ڈائریکٹر ہوا تو اس نے یہ کہہ کر اپنے عہدے کی تنخواہ لینے سے انکار کردیا کہ دنیا میں امن کا قیام میرا خواب ہے اور خواب دیکھنے کی تنخواہ نہیں لی جاتی ۔

1902 کے نوبیل امن انعام کا دوسرا حصے دار چارلس البرٹ گوباٹ تھا ۔ ایک گھڑی ساز کا بیٹا جو پیشے کے اعتبار سے وکیل اور سیاست دان تھا ۔ نوبیل امن انعام اسے بھی انٹرنیشنل پیس بیورو میں سرگرمی سے حصہ لینے کی بناء پر دیا گیا ۔ ماہر تعلیم کے طور پر اس نے تعلیمی نصاب اور نظام میں بعض دور رس اصلاحات کیں۔ وہ عمر بھر باہم دست وگریباں یورپی ممالک کے درمیان صلح کرانے اور امن قائم کرنے کی کوششوں میںمصروف رہا ۔

نوبیل امن انعام کی تقریب میں تقریر کرتے ہوئے ڈوکوموں کہا کہ''ہمیں اس امر کا اعتراف کرلینا چاہیے کہ اگر ہیگ کنونشن پر دستخط کرنے والی تمام قومیں آپس میں ثالثی کے معاہدے کرلیں اور اگر وہ ان معاملات کو حل کرلیں جو کسی تنازعے کا سبب بن سکتے ہیں ، تو امن کے اعلان کی کوئی ضرورت ہی نہ رہے گی ۔ امن اپنے بل بوتے پر قائم رہے گا ۔ پھر کبھی، امن کی حاکمیت کو جنگ سے دائمی انکار کی ضرورت نہیں رہے گی اس لیے کہ یہ انصاف کے، قانون کے اور عوام کے باہمی اتفاق کی زیریں چٹان پر قائم رہے گا۔ '' (ترجمہ: باقر نقوی)

مجھے افسوس ہے کہ یہاں ایلی ڈوکوموں کا وہ خطبہ تفصیل سے نہیں دیا جاسکتا ۔ اپنے اس خطبے میں اس نے دنیا کی تمام اہم اور مشہورجنگوں کا احاطہ کیا ہے اور اسے 'جنگ کی بے معنویت... تاریخ کی نظر میں' کا عنوان دیا ہے۔ اپنے اس خطبے میں ایلی ڈوکومن نے صلیبی جنگوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ''یورپ کے عوام جنہوں نے صلیبی جنگوں میں حصہ لیا تھا، وہ ان دور دراز مہمات کے بعد بھی اس وقت سے زیادہ جاہل تھے جب پہلی بار ان کے کانوں میں 'خدا یہی چاہتا ہے... خدا یہی چاہتا ہے' کی صدا گونجی تھی۔'' اس نے 1618میں مذہب کی آڑ میں یورپی ملکوں کے درمیان تیس برس کی خوں ریزی اورطویل جنگ کو بھی شدت سے تنقید کا نشانہ بنایا ۔ وہ اسے قتل عام، لوٹ مار، دیہاتوں اور کھیتوں کو جلاکر خاکستر کردینے، قحط اور اخلاقی ابتری کا سبب بتاتا ہے ۔

اس قتل و غارت گری کے زمانوں کے بارے میں وہ یہ کہتا ہے کہ : جنگیں، خواہ کتنی ہی متواتر کیوں نہ ہوں، کبھی اس دانش اور اخلاقی حس کو مار نہیں سکتی ہیں جو آدمی کو وحشی جانور سے ارفع کرتی ہے ۔ دریافت کا جذبہ اور باہمی اتفاق کی ضرورت، جو انفرادی خوش حالی کی پہلی شرط ہوتے ہیں، جنگوں کے بنائے اور بگاڑے ہوئے شاہی خاندانوں کے ملبے میں گم نہیں ہوئے ہیں ۔ عظیم موجدوں اور اہم دریافتوں نے ، پہلے افراد اور پھر گروہوں کی ، تخلیقی سرگرمی کی وسعتوں کو وسیع کردیا تھا اور انسانیت تشدد کے من مانے استعمال کے خلاف تحفظ طلب کرنے لگی تھی جس نے صرف لاعلمی اور جبر کی خدمت کی ہے ۔

سترہویں صدی کے نسبتاً پُر سکون عرصے اور اٹھارویں صدی کے پہلے نصف نے، پہلے چپکے چپکے روشن خیال لوگوں میں فروغ دینے کے لیے اور بعد میں عوام تک پھیلانے کے لیے، اس میلان کی آبیاری کی ہے۔ انصاف کا تصور، تشدد کی بیڑیوں سے چھٹکارا پاکر طلوع ہورہا تھا ۔

ڈوکوموں کے شریک انعام البرٹ گوباٹ نے اپنے خطبے میں یہ کہنے سے گریز نہیں کیا کہ امن پسندوں سے اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ: مانا جنگ ایک برائی ہے، مگر، جب کسی مسئلے کا دوستانہ حل ناممکن ہوجائے تو اس کی جگہ آپ کسے رکھنا چاہیں گے؟ پچھلے چند برسوں میں کیے جانے والے ثالثی کے معاہدے اس سوال کا جواب فراہم کرتے ہیں ، یہ دکھاکر، شرط یہ ہے کہ دونوں جانب خیرسگالی ہو، کہ ہمارے زمانے کے ظالمانہ استغراق، بین الاقوامی تنازعے کتنے آرام اور کتنی آسانی سے سلجھائے جاسکتے ہیں۔1899 Convention for the Pacific Settlement of International Disputes وہ میثاق ہے جس پر دی ہیگ میں چھبیس ملکوں نے دستخط کیے تھے، یہ میثاق بین الاقوامی تنازعات کا ایک حل پیش کرتا ہے، ایسے طریقے کے ذریعے، عہد جاہلیت ، قدیم دنیا، بلکہ جدید تاریخ بھی جس سے ناواقف تھی: بغیر خون ریزی کے قوموں کے درمیان تنازعات کے بندوبست کا طریقہ ۔

یہ سچ ہے کہ یہ طریقہ ابھی درجۂ کمال تک نہیں پہنچا ہے، مگر یہ (کوشش) اس امر کا اظہار ہے کہ ہم ان حالات کی بہتری کی سعی کررہے ہیں جنہوں نے اس کو جنم دیا تھا ۔ ہر ممکن معاملے میں اس کا اطلاق ایک فرض بن جانا چاہیے کہ اس کی ابتداء امن دوستوں کو بھی مطمئن کردے گی۔ بعد میں، جب کچھ تجربہ حاصل ہوجائے گا تو اس کو درجہ کمال تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی اور بالآخر انسانی ضمیر جاگ اٹھے گا ، اور اس کو بنیاد تصور کیا جائے گا قانون اور انصاف کے اس ڈھانچے کی جو مستقبل میں بین الاقوامی رشتوں کی نیابت کرے گا ۔'

ڈوکوموں اور گوباٹ جیسے دانشوروں ، فلسفیوں اور ادیبوں کا اس زمانے میں بھی مذاق اڑایا جاتا تھا اور آج بھی ایسے لوگ دیوانے کہلاتے ہیں ۔ ایسے ہی لوگوں کی آواز کورد کرتے ہوئے کوباٹ نے کہا تھا کہ : آج کی یوٹوپیا کل کی حقیقت بن سکتی ہے ۔ یوٹوپیا خوش امید منطق کی پیداوار ہوتی ہے جو مستقل سماجی اور سیاسی ترقی کو انسانی کوشش کا آخری ہدف گردانتی ہے: مایوسی نااہل انسانیت کو نئے سیاسی یا سماجی انقلاب کی طرف دھکیل دیتی ہے ۔ مگر، چوں کہ میں خودکو خوش امیدوں کے جمگھٹے میں گردانتا ہوں، میں ان مقاصد کے درمیان، جو فوراً حاصل کیے جاسکتے ہیں، اور، ان میں جو ابھی تک تیار نہیں ہوئے ہیں، امتیاز کرتا ہوں ۔'

ان شاندار اور خوش امید جملوں کو کہنے والوں کی ہڈیاں خاک میں مل گئیں ۔ ان جملوں کو کہے ہوئے 112 برس گزر گئے ۔ اس دوران یورپ نے دو عظیم جنگیں لڑیں جن میں سات کروڑ انسان لقمہ اجل ہوئے، دنیا نے اس مدت میںدرجنوں خوں ریز لڑائیاں لڑیں ۔آج دہشت گردی دو ملکوں کے درمیان جنگ سے کہیں زیادہ خوفناک رخ اختیار کرچکی ہے ۔

دنیا شاید جنگوں کے دور سے نکل رہی ہے لیکن شاید وہ انتہا پسندی، مذہبی جنون اور دہشت گردی کے ایک دوسرے اور بہت خطرناک دور میں داخل ہوچکی ہے ۔ دہشت گردی کا عفریت دونوں عظیم جنگوں سے کہیں خطرناک ہے ۔ اس کا ذائقہ ہم دہائیوں سے چکھ رہے ہیں اور اس میں ہمارے ہزاروں لوگ مارے گئے اور لاکھوں در بہ دری کے عذاب سے گزرے اور گزر رہے ہیں ۔ ایک ایسی سیاسی صورتحال میں 'امن' ہمارے لیے ایک ایسا خواب ہے جو ہم سب کی واحد امید ہے ۔ ہماری آنے والی نسلوں کو جائے امان ایسی ہی سرزمین پر مل سکتی ہے جہاں 'امن' ہو اور جس پر جنونیوں اور دہشت گردوں کا سایہ نہ ہو۔ اب ایک ایسی دنیا بنانے کا امتحان درپیش ہے جو دہشت گردی اور مذہبی جنون سے پاک ہو ۔ یہ کام شاید زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ۔

مقبول خبریں