لالا کیوں خفا ہوگیا
آفریدی اس وقت جس کے مشوروں پر زیادہ عمل کرتے ہیں وہ ان کے چھوٹے بھائی مشتاق ہیں ۔۔۔
میں دفتر میں کام کر رہا تھا کہ موبائل کی بیل بجی، اسکرین پر لالا لکھا دیکھا تو فوراً کال ریسو کر لی۔ ''ارے تم واپس آ گئے'' میں نے سوال کیا، ''ہاں آج ہی آیا ہوں، کل چائے میرے ساتھ پینی ہے'' آفریدی نے جواباً کہا، ''کہاں گھر آنا ہے'' یہ میرا اگلا سوال تھا، '' نہیں موو اینڈ پک ہوٹل، دوپہر ساڑھے تین بجے، میں انتظار کروں گا، پھر بعض رسمی باتوں کے بعد فون بند کر دیا۔ سچی بات یہ ہے کہ اس وقت مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ آفریدی ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے والا ہے،البتہ ماضی میں اس آپشن پر ضرور بات ہوئی تھی۔
اگلے روز ہوٹل میں جب انھوں نے اپنے سابق ساتھی کرکٹرز و دیگر افراد کا شکریہ ادا کرنا شروع کیا تو اندازہ ہوا کہ شاید وہ کرکٹ چھوڑنے کی بات کرنے والے ہیں، پھر یہی ہوا جس نے دنیا بھر میں ان کے پرستاروں کو سخت مایوس کر دیا، واٹس ایپ پر آفریدی نے اپنے ایک مداح کی تصویر بھیجی جس نے احتجاجاً ہاتھ بلیڈ سے کاٹ لیا تھا۔
آفریدی اس وقت جس کے مشوروں پر زیادہ عمل کرتے ہیں وہ ان کے چھوٹے بھائی مشتاق ہیں، ساتھ گھومنے والے دیگر بیشتر لوگ چمچے ٹائپ کے ہوتے ہیں جن کا مقصد قربت پا کر ٹی وی پر آنا یا آل راؤنڈر کے نام پر فوائد حاصل کرنا ہوتا ہے، مشتاق ایک بہترین کرکٹنگ ذہن ہے، بعض اوقات اس کی باتیں سن کر ایسا لگتا ہے کہ اگر وہ کرکٹ کھیلتا تو کتنا آگے جاتا، مجھے یقین ہے کہ ریٹائرمنٹ کا مشورہ بھی مشتاق نے ہی شاہد کو دیا ہوگا۔
شاہدآفریدی کے جتنے چاہنے والے ہیں مخالفین بھی اتنے ہی ہوں گے، بعض لوگ ان کی شہرت سے خائف رہتے ہیں، کبھی ان کے کسی بیان پر طوفان برپا ہو جاتا ہے تو کبھی دیگر 10کرکٹرز کے جلد آؤٹ ہونے کو بھول کر لوگ ان کے جلد وکٹ گنوانے کو شکست کی وجہ قرار دینے لگتے ہیں،جتنی مخالفت کا آفریدی کو سامنا کرنا پڑا اگر کسی اور کے ساتھ ایسا ہوتا تو وہ کب کا کھیل کو خیرباد کہہ چکا ہوتا، مگر وہ فائٹر ہے اور آسانی سے ہار نہیں مانتا، اسی لیے ڈٹا رہا مگر اب اچانک کیا ہوا کہ وہ آفریدی جو بڑی بڑی باتیں برداشت کر جاتا تھا اچانک کھیل سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے پر مجبور ہوگیا۔
گوکہ انھوں نے بورڈ پر کوئی تنقید نہیں کی مگر ایسا لگتا ہے کہ وہ بعض لوگوں کے سلوک سے نالاں بھی ہیں اسی لیے خاموشی سے کیریئر کے عروج پر کھیل سے علیحدگی میں عافیت سمجھی، حالانکہ نیوزی لینڈ کیخلاف ون ڈے سیریز میں ان کی کارکردگی سب کے سامنے ہے، درحقیقت گذشتہ کچھ عرصے میں آفریدی کیخلاف ایک منظم مہم چلائی گئی، مصباح الحق مسلسل ناکامیوں کا شکار ہوئے تو اس میں آل راؤنڈر کا کیا قصور تھا، اگر بیٹسمین خود ڈر کرایک میچ سے دستبردار ہوئے اور قیادت آفریدی کی جھولی میں آ گری تو اس میں کیا غلطی ان کی تھی؟
کیا وہ بھی ناکامی کے ڈر سے بھاگ جاتے کہ میں کپتانی نہیں کر سکتا کسی اور کو ذمہ داری سونپو، انھوں نے ایسا نہ کیا توپھر شور مچ گیا، پریس کانفرنس میں آفریدی نے معین خان کی موجودگی میں بس اتنا کہا کہ جسے ورلڈکپ میں قیادت سونپنی ہے ابھی سے بتا دیں تاخیر سے مسائل ہوں گے، اس پر بھی مخالفین نے واویلہ مچا دیا، پھر بورڈ نے چوتھی،پانچویں بار اعلان کیا کہ مصباح ہی کپتان ہوں گے اور آفریدی کی سرزنش کر دی۔
چیئرمین شہریار خان نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ہم دیکھیں گے کہ ان کی اسکواڈ میں جگہ بنتی بھی ہے یا نہیں، اب وہ کیا کہیں گے جب آفریدی، حارث سہیل اور احمد شہزاد کے سوا شاید ہی کوئی پلیئر آٹومیٹک چوائس لگتا ہو، یونس خان نے ون ڈے ٹیم سے ڈراپ ہونے پر سلیکشن کمیٹی اور ارباب اختیار کیخلاف دل کی بھڑاس نکالی تو بورڈ نے انھیں کچھ نہ کہا، آفریدی کو بس ایک بات پر ٹیم سے نکالنے تک کی دھمکی دیدی تھی، اب جب کوئی کھلاڑی اتنے زیادہ دباؤ میں ہو تو ایک وقت آتا ہے جب وہ سوچتا ہے کہ میں جو کر رہا ہوں اس کا کوئی فائدہ بھی ہوگا۔
اب وہ آئندہ برس ورلڈکپ کے بعد ٹوئنٹی 20تک خود کو محدود رکھیں گے اور اس طرز کے سال میں 2،3ہی انٹرنیشنل میچز ہوتے ہیں،2016کا میگا ایونٹ اس طرز میں بھی ان کے کیریئر کا اختتام ثابت ہوگا، یوں دنیا بوم بوم کے کارنامے دیکھنے سے بالکل ہی محروم ہو جائے گی، آفریدی کے ساتھ پریس کانفرنس میں گوکہ بورڈ کے کراچی سے تعلق رکھنے والے آفیشل صلاح الدین صلو موجود تھے مگر آل راؤنڈر نے اعتراف کیا کہ پی سی بی کو ان کے فیصلے کا علم نہیں البتہ ٹیم مینجمنٹ ضرور جانتی ہے، 389ون ڈے میچز میں 7870 رنز بنانے اور391 وکٹیں حاصل کرنے والے شاہد آفریدی کو ملک کیلیے18 سالہ خدمات کا صلہ شوکاز نوٹس کی صورت میں ملا۔
وہ کرکٹ بورڈ جو دنیا کے کونے میں بھی کچھ ہوجائے تو سب سے پہلے پریس ریلیز جاری کرتا ہے اتنے بڑے کھلاڑی کی ریٹائرمنٹ پر اس نے چپ سادھ لی، کسی کو چار لائنز لکھ کر میڈیا کو جاری کرنے کی توفیق بھی نہ ہوئی بلکہ نوٹس تھما دیا کہ بغیر بتائے اشتہار کی شوٹنگ میں حصہ کیوں لیا، خیر اس پر کسی کو حیرت بھی نہیں ہونی چاہیے، وہ بورڈ جو فل ہیوز کی موت پر ایک دن کیلیے ٹیسٹ موخر کرسکتا ہے اس نے اپنے ملک میں اتنے زیادہ بچوں کی شہادت کے باوجود کیویز سے میچ ملتوی نہیں کیا۔
اسی بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بڑی بڑی تنخواہیں لینے والے اعلیٰ حکام کے دل کتنے چھوٹے ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی بڑا کھلاڑی شایان شان انداز سے رخصت نہیں ہوا، بہرحال بورڈ جو چاہے کرے اس سے مداحوں کے دل میں موجود آفریدی کی قدروقیمت کم نہیں ہو سکتی،پاکستانی کرکٹ میں اتنا بڑا سپراسٹار آیا نہ آئے گا،وہ جو کام بھی کرے عوام کی محبت ہمیشہ حاصل رہے گی،ویل ڈن آفریدی تم پر پورے پاکستان کو فخر ہے مگر شاید بورڈ کو نہیں۔