ای سی سی کے اجلاس میں آلو کی برآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کی منظوری

چینی کی برآمد کیلیے 8 روپے کلوکیش سبسڈی دی جائے گی، خام چینی کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد


Numainda Express December 25, 2014
جینکوٹو اور اینگرو کے درمیان گیس معاہدے کی توثیق، کمرشل بینکوں کو ترسیلات زر ٹرانسفر چارجز کی مد میں12ارب واجبات دینے کی یقین دہانی، وزیر خزانہ کی زیرصدارت اجلاس۔ فوٹو: اے پی پی/فائل

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے آلوکی برآمدپر عائد25 فیصدریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے اورچینی کی برآمد کیلیے 2 روپے فی کلوکے حساب سے ان لینڈ فریٹ اور 8 روپے فی کلوکے حساب سے کیش سبسڈی دینے کی منظوری دے دی ہے۔

وفاق وصوبے چینی پرسبسڈی کی مدمیں ساڑھے6 ارب روپے ادائیگی کریںگے جبکہ خام چینی کی درآمدپر20 فیصدریگولیٹری ڈیوٹی عائدکردی ہے۔ کمیٹی نے آن سائٹ پرائیویٹ پاور پروجیکٹس کیلیے وزارت پانی وبجلی کی طرف سے پیش کردہ تبدیل شُدہ پالیسی فریم ورک کی بھی منظوری دے دی تاہم ایف بی آرنے آن سائٹ پرائیویٹ پاورپروجیکٹس کو ڈیوٹی اور ٹیکسوں سے چھوٹ یارعایت دینے کیلیے کسی بھی قسم کا نیا ایس آر او جاری کرنے سے دوٹوک انکارکردیااورواضح کیاکہ آن سائٹ پرائیویٹ پاورپروجیکٹس کوایف بی آرکے موجودہ ایس آر اوزاورشقوں کے تحت ہی فوائد حاصل کرنا ہوں گے۔

ای سی سی کااجلاس بدھ کو وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈارکی زیرصدارت ہوا جس میں بتایاگیاکہ امسال کاشتکاروں نے 10فیصد زیادہ رقبے پرآلوکاشت کیاہے جس سے آلوکی ریکارڈ پیداوار ہوگی اورضرورت سے زائد آلو حاصل ہوگا۔ ای سی سی نے ٹی پی ایس گدو (جینکوٹو) اورمیسرزاینگروکے درمیان ماڑی شیلو سے60 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کے معاہدے کی بھی منظوری دے دی جس کے تحت اینگرو یہ گیس دسمبر 2015 تک استعمال کرے گا اوراس کیلیے اینگروکی جانب سے جینکوٹو کے لیے گیس بوسٹر کمپریسرز لگائے جائیں گے۔

ای سی سی نے پاکستان انرجی سیکٹر ریفارمزسہ ماہی پروگریس رپورٹ آف ڈیولپمنٹ پالیسی آپریشن کوبھی عوام کے لیے پیش کرنے کی منظوری دی۔ وزارت خزانہ کے اجلاس سے متعلق جاری نظرثانی شدہ اعلامیے کے مطابق اجلاس میں شوگرملوں کو15 مئی 2015 تک ساڑھے6 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی منظوری دی گئی، اس سے قبل نومبر 2014 تک5 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کا کوٹہ مقرر کیا گیا تھا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں ساڑھے 10 لاکھ میٹرک ٹن چینی کے وافر ذخائر موجود ہیں اور3 لاکھ 90 ہزار میٹرک ٹن ماہانہ کھپت کے لحاظ سے 15 مارچ 2015ء تک کیلیے کافی ہیں۔ افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک کوبرآمدکی جانے والی چینی کیلیے کم ازکم قیمت450 ڈالرفی میٹرک ٹن مقررکی گئی۔ دریں اثنا وزیرخزانہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں گورنراسٹیٹ بینک اشرف وتھرا کے علاوہ بینکوں کے منیجرز اور دیگرحکام نے شرکت کی۔