کھاد سیکٹر میں خریداری سے حصص مارکیٹ بڑی مندی سے بچ گئی

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 7 پوائنٹس کی کمی سے31993.01 پر بند ہوا۔


Business Reporter December 27, 2014
ٹریڈنگ کے دوران بینکوں ومالیاتی اداروں، میوچل فنڈز، این بی ایف سیز اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر85 لاکھ50 ہزار110 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی۔ فوٹو: آئی این پی/فائل

نئے تقویمی سال کے آغاز کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے محتاط طرزعمل، تازہ سرمایہ کاری کے بجائے حصص کی آف لوڈنگ کو ترجیح دینے کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں ایک روزہ تعطیل کے بعد جمعہ کو ایک بار پھر اتارچڑھاؤ کے بعد مندی کے اثرات غالب رہے جس سے انڈیکس کی 32000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد دوبارہ گرگئی۔

مندی کی وجہ سے 53.78 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے7 ارب 24 کروڑ55 لاکھ88 ہزار194 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک وتاجران کا کہنا ہے کہ تمام شعبوں کے سرمایہ کارنئے تقویمی سال کے منتظر ہیں اور نئے سال کی ابتدا میں رونما ہونے والے حالات کی بنیاد پر اپنی سرمایہ کاری کی ترجیحات کا تعین کریں گے، یہی وجہ ہے کہ جمعہ کوسرمایہ کاروں نے محتاط طرز عمل اختیار کیا البتہ کچھ شعبوں نے قدرتی گیس کا کوٹہ زیادہ ملنے کی توقعات پر اینگروفرٹیلائزر کے حصص میں خریداری دلچسپی ظاہر کی جس کے سبب مارکیٹ بڑی نوعیت کی مندی سے بچ گئی۔

ٹریڈنگ کے دوران بینکوں ومالیاتی اداروں، میوچل فنڈز، این بی ایف سیز اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر85 لاکھ50 ہزار110 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس سے ایک موقع پر140.41 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے13 لاکھ6 ہزار197 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے50 لاکھ27 ہزار948 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے22 لاکھ 15 ہزار966 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا جس سے تیزی مندی میں تبدیلی ہوگئی۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 7 پوائنٹس کی کمی سے31993.01 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 50.38 پوائنٹس کی کمی سے20779.69 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 191.26 پوائنٹس کی کمی سے50686.87 ہوگیا، کاروباری حجم بدھ کی نسبت 20.05 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر20 کروڑ98 لاکھ93 ہزار 530 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 357 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں144 کے بھاؤ میں اضافہ، 192 کے داموں میں کمی اور21 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔