پانی سر سے نہ گزر جائے
’یہ جاپانی امن گھنٹہ جب بھی بجایا جاتا ہے تو اس کی گونج تمام عالم انسانیت کو یہی پیغام دیتی ہے کہ امن انمول ہے
یوں تو ہمارے یہاں اکثر ہی اقوام متحدہ کا ذکر رہتا ہے۔ اپنے پڑوسیوں سے تمام تصفیہ طلب تنازعات کے حل نہ ہونے کا ذمے دار ہم اس ادارے کو ٹھہراتے ہیں اور یہ صرف ہمارا نہیں، دوسروں ملکوں کا بھی یہی حال ہے۔
پچھلے ہفتوں کے دوران ہمارے یہاں اقوام متحدہ اور اس کی جنرل اسمبلی کا بہت ذکر اذکار رہا۔ صدرآصف زرداری صاحب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے نیو یارک پہنچے۔ اس حوالے سے ٹیلی ویژن پروگرام، اخباروںمیں تجزیے اور تبصرے آتے رہے۔ ان کے ساتھ حنا ربانی کھر، شیری رحمان اور دوسرے اعلیٰ عہدیدار بھی موجود تھے۔
ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں ملکوں کے حکمران اقوام متحدہ کے اس سالانہ اجلاس کاانتظار کرتے ہیں۔ با اثر حکمران اپنے ایجنڈے کی تشہیر چاہتے ہیں اور کئی ملک اپنے پڑوسیوں اور حریفوں سے تنازعات کو جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم پر پیش کرتے ہیں۔ جب کہ متعدد غیر ترقی یافتہ اور غیر اہم ملکوں کے حکمران اور ان کے ساتھی اس سالانہ اجلاس کو اہم لوگوں کے ساتھ فوٹو سیشن کا ایک اہم موقع جانتے ہیں۔
ہرسال21 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس جاپانی امن گھنٹے کی آواز سے ہوتا ہے جو 60 ملکوں کے سکوں کو اکٹھا کرکے اور انھیں بھٹی میںپگھلا کر بنایا گیا اور جسے 1954میں جاپانیوں نے تحفے کے طور پر اقوام متحدہ کو پیش کیا۔ 1994میں جب امن گھنٹے کو 40 برس مکمل ہوئے تو ایک خاص تقریب ہوئی جس میں اس وقت کے سیکریٹری جنرل بطروس غالی نے کہا تھا :
''یہ جاپانی امن گھنٹہ جب بھی بجایا جاتا ہے تو اس کی گونج تمام عالم انسانیت کو یہی پیغام دیتی ہے کہ امن انمول ہے۔ صرف یہی کافی نہیں کہ ہم امن کی خواہش کریں۔ امن کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ طویل، محنت طلب اور مشکل کام''
1945 سے اب تک اقوام متحدہ کی عمارت کے سامنے اڑنے والے پرچموں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ نیویارک کی خنک ہوتی ہوئی ہوا میں ان پرچموں کی پھڑپھڑاہٹ کو سننے کا اپنا ایک الگ لطف ہے اور اس سے کہیں زیادہ لطف اس بات کا ہے کہ 18 ایکڑ پر پھیلی ہوئی یہ عمارت اور اس سے ملحق عمارتیں زمین کے جس ٹکڑے پر قائم ہیں وہ امریکا میں ہوتے ہوئے بھی اس کی نہیں ہے۔ وہ اٹھارہ ایکڑ زمین دنیا کی تمام اقوام کی ہے یہ عالمگیریت کا دل موہ لینے والا تصور ہے۔ یہ تصور دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں ابھرا جب دنیا کے متعدد ملک اس مہیب جنگ کی آگ میں جھلس چکے تھے۔
اس وقت قوموں کے درمیان تنازعات کے خاتمے اور صلح و صفائی کے لیے لیگ آف نیشنز موجود تھی لیکن وہ اپنے اہداف کے حصول میں یکسر ناکام رہی۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اسی کی راکھ سے اقوام متحدہ نے جنم لیا۔ اس وقت کے سیاسی مدبرین اور حکمران یہ بات سمجھ چکے تھے کہ دنیا کو عالمی سطح پر ایک ایسی تنظیم کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے جو مختلف ملکوں کے درمیان تنازعات کے حل کے لیے ثالث کا کردار ادا کرے۔ اقوام متحدہ کے بارے میں اس وقت بنیادی تصور یہ تھاجس میں ساری دنیا کے دانش مند لوگوں کے تدبر اور تحمل کی یکجائی سے انسانوں کے وہ مسائل حل کیے جاسکیں جن میں سے کچھ دو عظیم جنگوں نے پیدا کیے ہیں اور کچھ لامتناہی زمانوں سے موجود ہیں۔
اس لیے اقوام متحدہ کے بطن سے بعض مختلف تنظیموں نے جنم لیا۔ بھوک، جہالت، بیماریاں، قحط، آفات کا ظہور اور ایسے ہی متعدد معاملات تھے جن سے نمٹنے کے لیے 1945 میں اقوام متحدہ اور اس کے دوسرے ذیلی ادارے قائم ہوئے اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ ان کا دائرہ کار وسیع ہوتا چلا گیا۔ اب تک دنیا کی 193خود مختار مملکتیں اس کی رکنیت حاصل کرچکی ہیں۔ رسمی طور پر یہ تنظیم یکم جنوری 1942میں قائم ہوئی اور اس کی رکنیت کے لیے 28 ملکوں نے دستخط کیے اور آج اس کے رکن ملکوں کی تعداد 193 ہوچکی ہے۔ اس ادارے کا رسمی آغاز 25 اپریل 1945 کو ہوا۔ اس وقت تک دنیا کے 50 ملک اس کی رکنیت لے چکے تھے۔
اقوام متحدہ کی عمارت یوں تو امریکی شہر نیو یارک میں ہے لیکن وہ جس زمین پر قائم ہے اسے 'بین الاقوامی' خطہ قرار دیا گیا ہے۔ اقدام متحدہ کے قیام سے اب تک اس کے مخالفین اور ناقدین کی کمی نہیں رہی۔ ان میں فرانس کے صدر ڈیگال سے لے کر اور بہت سے سیاسی مدبرین شامل رہے ہیں۔ لیکن اس کی سب سے پہلی مخالفت امریکی تنظیم 'جون برچ سوسائٹی' نے کی۔ اس کے لوگوں کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ سے امریکا کو نکال باہر کرو۔ وہ یہ کہتے تھے کہ یہ دراصل دنیا پر امریکی تسلط کی سازش ہے۔ یاد رہے کہ اس تنظیم کے اراکین سفید فام امریکی تھے۔
جنرل اسمبلی کی راہداریاں ان نوادرات سے سجی ہوئی ہیں جو دنیا کی مختلف اقوام نے اس ادارے کو نذر کی ہیں۔ یہاں اسٹین گلاس اور موز ائیک کے بعض شاہکار نظر آتے ہیں جن میں سے ایک 'سنہرااصول' ہے۔ اس بلند وبالا موز ائیک میں دنیا کے بیشتر مذاہب کے ماننے والے اپنے روایتی لباس میں نظر آرہے ہیں۔ اس میں ہر نسل اور رنگ سے تعلق رکھنے والے مرد، عورتیں، بچے، بوڑھے سب ہی موجود ہیں۔ اس موز ائیک پر سنہرے حرفوں سے کڑھا ہوا ہے کہ 'سب کو شامل کریں۔ آپ ان میں شامل ہوں اور ان کوخود میں شامل کریں۔' عالم گیریت کی روح کو بیان کرنے والا ایک خوبصورت جملہ۔
ستمبر کامہینہ اقوام متحدہ کے لیے جہاں تمام اقوام کے ایک چھت کے نیچے جمع ہونے اور مکالمے کا مہینہ ہے، وہیں اس مہینے میں 1961 سے سوگ بھی منایا جاتا ہے اور اس شخص کی یاد منائی جاتی ہے جو سوئیڈن میں پیدا ہوا اور جس نے اس ادارے میں ایک نئی روح پھونکی۔ یہ اقوام متحدہ کے اس وقت کے سیکریٹری جنرل داگ ہیمرسولڈ تھے جنھیں عموماً ہمارے یہاں ہمرشولڈ کہا جاتا ہے۔ وہ 17 ستمبر 1961 کو روڈیشیا کے خونین تنازعے کے حل کے لیے سفرکرتے ہوئے ایک ہوائی حادثے میں اپنے گیارہ ساتھیوں کے ہمراہ ہلاک ہوگئے تھے۔ وہ ایک نہایت مقبول اور پسندیدہ مدبر اور دانشور تھے۔ ان کی ہلاکت کا بڑے پیمانے پر سوگ منایا گیا اور مختلف فنکاروں نے اپنی تخلیقات ان کی یاد میں اقوام متحدہ کو پیش کیں۔ ان میں سے ایک فرانسیسی فنکار کا گہرے نیلے رنگ کا بنایا ہوا اسٹین گلاس کا شاہکار ہر اس شخص کے قدم تھام لیتا ہے جو پبلک لابی کے مشرقی حصے سے گزر رہا ہو۔
ایک تحفہ 1959میں سوویت یونین کے عوام کی طرف سے بھی پیش کیا گیا تھا جو باغ میں نصب ہے۔ تانبے سے بنا ہوا یہ بلند و بالا مجسمہ اس شخص کو دکھاتا ہے جو تلوار پر ہتھوڑا مار کر اسے ہل میں بدل رہا ہے۔ تلوار انسانوں کے سر اتارتی ہے اور ہل زمین کے سینے میں اتر کر اناج کا خزانہ نکالتا ہے۔ سوویت یونین نہیں رہا لیکن اس کا یہ شاندار تحفہ آج بھی ان لوگوں کی یاد دلاتا ہے جو امن کے لیے جدوجہد میں مصروف ہیں۔
روایت کے مطابق اس بار بھی امن کا گھنٹہ بجائے جانے کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی تقریر سے اس سالانہ اجلاس کا آغاز ہوا۔ بان کی مون جنوبی کوریا سے تعلق رکھتے ہیں اور احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔
انھوں نے شام میں ہونے والی خون ریزی، اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دہائیاں پرانے تنازعے، ایران اور اسرائیل کے درمیان نیو کلیائی ہتھیاروں کے حوالے سے ہونے والی تلخ اور خطرناک بیان بازی، دنیا میںپھیلتی ہوئی دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی اور اس کے نتائج کا بہ طور خاص ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ آج دنیا میں بہت سے لوگ موجود ہیں جو غیر اہم اختلافات کی چنگاریوں سے ساری دنیا میں آگ لگادینا چاہتے ہیں۔ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو ان اختلافات کو ہوا دیتے ہیں۔
ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے ملک کے اندراور ارد گرد کیا ہورہا ہے اور اس کے کتنے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔اس وقت ہمارے شمالی سرحدوں علاقوں میں دہشت گردی اور خونریزی کا جہنم دہک رہا ہے۔ وہاں آباد لوگ خانماں برباد ہیں۔ ہمارے شہروں میں دور دور تک انتہا پسندی کی آگ بھڑکتی ہے۔ چند دنوںپہلے کراچی کی ایک خوشحال آبادی میں کچھ لوگ ایک عزت دار شخص کے گھر میں گھس کر اسے زدوکوب کرتے ہیں کہ وہ اپنے گھر میں قوالی کیوں سن رہا تھا۔ بلوچستان کا مسئلہ سنگین سے سنگین تر ہوتا جارہا ہے۔ آگ ہمارے دامن سے گریبان تک آپہنچی ہے۔ یہ بات فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ ہم نے اپنے ملک میں موجود بحرانوں کو حل نہ کیا تو اس کے اثرات پورے خطے پر پڑیں گے۔ اس حوالے سے عالمی برادری کی تشویش کا اظہار اقوام متحدہ کے اس وفد کی آمد سے ہوتا ہے جس نے لاپتا افراد کے حوالے سے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے۔
اس لیے بہتر یہ ہوگا کہ پانی سر سے گزر جانے سے پہلے ہی کچھ کرلیا جائے اور اپنے بحرانوں کو خود ہی حل کرلیا جائے۔