شاہ لطیف سندھی تہذیب کا نقطہ عروج

جس طرح لکڑی میں آگ ہمیشہ موجود رہتی ہے البتہ ظاہر اس وقت ہوتی ہے جب اسے جلانے اور بھڑکانے کے اسباب پیدا ہوتے ہیں۔


Zahida Hina December 27, 2014
[email protected]

شاہ عبداللطیف کی شاعری میں نفسیاتی کیفیات اور جذبات و احساسات کے بارے میں کچھ کہنے سے پہلے آج کے دن ہمیں شاہ لطیف کو اس جوگی بیراگی کا پُرسہ دینا چاہیے جو ان کی مانند اپنی دھرتی، اپنی تاریخ، تہذیب اور اپنے لوگوں کے عشق میں رنگا ہوا تھا اور سوبھوگیان چندانی کے نام سے عالم میں مشہور تھا۔ شاہ اور کامریڈ کے درمیان سندھ کے روحانی چشموں سے سیرابی کا گہرا رشتہ تھا۔ وہ رشتہ جس میں زمانی فاصلے اور دین دھرم کے تمام امتیازات مٹ جاتے ہیں۔ وہ سمبندھ جو قونیہ میں مولانا روم کے مزار پر رقصاں درویشوں، بھٹ شاہ کے پیش دالان میں دھمال ڈالتے ہوئے لطیفی فقیروں اور انسانوں کے لیے سرخ خواب دیکھنے والوں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔

شاہ کی شاعری میں اپنے پیاروں کے عشق میں تڑپتے ہوئے نسوانی کردار، دھرتی سے عشق اور جبر سے آزادی کی طرف سفر کا وہ استعارہ ہیں جس میں آبلہ پائی اور صعوبتیں انسانوں کا مقدر ہوتی ہیں۔ جبر سے آزادی اور خواہشِ پرواز ہمیں شاہ کے اشعار میں سانس لیتے ہوئے پرندوں میں نظر آتی ہے۔ پرواز جو آزادی کا نقطۂ عروج ہے۔ یہ پرندے اپنے پنکھ پھیلائیں تو آسمان میں تارا بن جاتے ہیں اور اپنی زمین کا عشق ان کے پر سمیٹے تو شاہانہ انداز رکھنے والے وہ ہنس ہو جاتے ہیں جو برف پوش پہاڑوں سے نکلنے والی خنک جھیلوں میں رہتے ہیں اور یہ خنکی انھیں اپنا ٹھکانہ بدلنے پر مجبور نہیں کرتی۔ شاہ نے ان کی زمیں گیری کو کس دلکش انداز میں بیان کیا ہے۔

کہتے ہیں کہ یہ ہنس برفانی جھیلوں میں اپنی چونچ ڈبوتے ہیں اور موتی چنتے ہیں۔ جھیل سوکھ جائے تَب بھی اس کا عشق انھیں کسی اور طرف کا رخ کرنے پر مجبور نہیں کرتا۔ وہ سوکھی ہوئی جھیل کی تہہ سے کنکر چن کر کھاتے ہیں اور بھوک انھیں کھانے لگتی ہے۔ اور پھر سوکھی ہوئی جھیل کے کنارے ہنس کے سوکھے ہوئے پنجر رہ جاتے ہیں۔ اپنی زمین سے عشق کی یہ وہ ادا ہے جس کا اشارہ ہمیں شاہ کے کلام میں بار بار ملتا ہے۔ وہ اس بات پر کفِ افسوس ملتے ہیں کہ ہنس جس دھرتی سے اٹھا لیے جائیں وہاں لوگ بگلوں کو ہنس سمجھ بیٹھتے ہیں۔ یہ شاہ کی شاعری ہے جو ہمیں سندھ کی روح کا گیان دیتی ہے۔

سندھ دھرتی ان کی زندگی تھی اور یہ ان کی شاعری تھی جس نے اس دھرتی کو ایک نئی زندگی دی اور اس کے لوگوں کو وہ شعور دیا جس نے انھیں دنیا کی قوموں میں سر اٹھا کر جینے کا سلیقہ سکھایا۔ اس بارے میں سائیں سید نے کیا خوب لکھا ہے کہ:

''کمیونزم کا نظریہ ان دنوں موجودہ صورت میں نہ تھا لیکن اس کے رجحانات کے لیے حالات موجود تھے۔ جس طرح لکڑی میں آگ ہمیشہ موجود رہتی ہے البتہ ظاہر اس وقت ہوتی ہے جب اسے جلانے اور بھڑکانے کے اسباب پیدا ہوتے ہیں۔ ننگے، بھوکے، بے گھر، مظلوم اور بے آسرا لوگوں کا وجود اس بات کا ثبوت ہے اس وقت بھی طبقاتی نظام کی خرابیوں کی وجہ سے عوامی انقلاب کی شدید ضرورت تھی۔''

وہ ہمیں ُسرمومل رانو میں بتاتے ہیں کہ ''سچے اور مخلص عوامی رہنما ملکی سیاست میں ایک نایاب اور انتہائی بیش قیمت تحفہ ہوا کرتے ہیں۔ وہ ہوس کی وجہ سے سیاست سے دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ عوام اور ملک کی اصلاح و ترقی کے لیے ایسا کرتے ہیں لیکن وہ بڑے نازک مزاج اور حساس ہوتے ہیں۔ اگر ان کی دیانت داری اور عوام سے محبت پر شبہ کیا جائے تو وہ میدانِ سیاست سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔

سُرماروی کو شاہ کی اہم ترین تخلیقات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اگر ہم اس کے سیاسی مفہوم کو سمجھیں تو ماروی کا کردار وطن پرست عناصر کی عکاسی کرتا ہے، عمر جابر و قاہر حکمرانوں کا نمائندہ ہے، عمر کوٹ غلامی کی زنجیریں اور ملیر ایک آزاد زندگی کا استعارہ ہے۔

ہمارے عہد کے ایک بڑے دانشور سید سبط حسن کا کہنا ہے کہ ''شاہ لطیف سندھی تہذیب کا نقطۂ عروج ہیں۔ ان کے کلام میں سندھ کی روح تڑپتی ہے، اس کا دل دھڑکتا ہے، اس سرزمین کی سوندھی خوشبو آتی ہے۔ شاہ لطیف کو یہاں کے ٹیلوں، پہاڑوں، ندیوں، نالوں، جھاڑیوں، جنگلوں اور تالابوں سے اتنا پیار تھا کہ شاید کسی داستان کا ایک صفحہ بھی ایسا نہ ہو جس میں سندھ کی زندگی کے گن نہ گائے گئے ہوں۔ زمین سے یہ گہری وابستگی، دراصل انسانوں سے گہرے لگاؤ کا پرتو ہے۔ ان کی انسان دوستی کا ثبوت ہے۔

شاہ کی شاعری از اول تا آخر کیفیات اور احساسات میں شرابور ہے۔ عشق ہے، ہجر ہے، خواہشِ پرواز ہے، پرندے ہیں، بادل اور برسات ہے، بدن کی طلب اور روح کی پیاس ہے۔ آغا سلیم نے سُرسا رنگ کو کس دل ربا انداز میں اردو کا لباس پہنایا ہے:

گرج گرج کے بادل آئے، کرے وہ پی کو یاد
خود سے برہن کانپ اٹھے ہے، گرج چمک کے بعد
کون سنے فریاد، بن تیرے اے ساجن
تیرے پہلو بن سردی میں، ٹھٹھریں میرے انگ
پل بھر کو بھی آنکھ نہ جھپکوں تو جو نہیں ہے سنگ
من میں، ہے یہ امنگ کہ مولا پرتیم لائے
اور سُرماروی کا یہ بند ملاحظہ ہو جس میں وہ کہتے ہیں:
تراوش ہوئی کِلک تقدیر سے
کہ مارو تو کانٹے چنیں دست سے
ادھر میں الگ اس طرح سے جیوں
کہ ان بالا خانوں میں بیٹھی رہوں
عزیزوں سے دوری، وطن کا یہ تیاگ
لگادوں نہ اونچے محلوں کو میں آگ

عشق کے قصے میں بھی ماروی صرف عزیزوں سے دوری کا ہی ذکر نہیں کرتی، وطن کا تیاگ اس کے دل میں کانٹے کی طرح کھنکتا ہے اور شاہ کی یہ ہیروئن اونچے محلوں کو آگ لگا دینے کی بات کرتی ہے۔

ان کا سارا کلام پڑھ جایئے، وہ ابتدا سے ہی وطنیت کے جذبات و احساسات میں شرابور ہیں۔ وطن پرستی کا یہ شعلہ بہ جاں احساس ان کی شاعری میں کبھی ہمیں ایک اور کبھی دوسرے رنگ میں نظر آتا ہے۔

شاہ ایک آزاد خیال اور کثیر المشرب انسان تھے۔ ان کے لیے مسلمان ہندو اور بودھوں میں کوئی فرق نہ تھا۔ وہ قوم پرست تھے اور ان کی یہ قوم پرستی ان کے کلام کی ہر سطر میں جھلکتی ہے۔ وطن اور قوم کے لحاظ سے سندھ میں بسنے والوں کے درمیان وہ مذہب اور ذات پات کے فرق کے قائل نہ تھے۔ تب ہی وہ ہمیں سُرمارئی میں کہتے سنائی دیتے ہیں 'اچھے برے جیسے ہیں، اپنے پھر اپنے ہیں!، ان کے اس نقطہ نظر کو سائیں سید نے بہت صراحت سے بیان کیا ہے 'پیغام لطیف' میں وہ کہتے ہیں کہ:

'شاہ صاحب کے دور میں ہر چند کہ کلھوڑوں جیسے متعصب مذہبی حکمرانوں کی حکومت تھی اور اس کے علاوہ اورنگ زیبی افکارِ سیاست کا دور جاری تھا۔ لیکن شاہ صاحب کو نہ اورنگ زیبی انداز فکر نے متاثر کیا نہ وہ اکبری نظریہ سیاست کے زیادہ زیر اثر تھے۔ اس کے بجائے وہ سندھی قوم پرستانہ سیاست سے متاثر تھے۔ انھوں نے وطن کی محبت کو عین اسلامی احکام کے مطابق ایمان کا جزو سمجھتے ہوئے سندھ سے محبت کی۔ ''پین اسلام ازم'' کا تصور ان کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔ انھوں نے بین الاقوامیت یا عالمگیریت کو پین اسلام ازم سے مختلف بلکہ متضاد جانا۔ ان کے پورے مجموعہ کلام میں کسی ایک جگہ بھی ''اسلامی ملک'' یا ''مسلمان قوم'' کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ ان کا سارا کلام سندھ کی محبت، آزادی، ترقی اور خود مختاری کے جذبات کا ترجمان ہے۔'

سندھ آج بھی ایک ہیجانی دور سے گزر رہا ہے، بھیڑیے اس پر تاک لگائے بیٹھے ہیں اور کل بھی وہ غاصبوں اور غداروں میں گھرا ہوا تھا۔ شاہ صاحب کی زندگی بہ ظاہر صوفی شاہ عنایت کی طرح حکومت وقت کے خلاف عملی جدوجہد میں نہیں گزری لیکن صوفی شاہ عنایت کے افکار و خیالات کا ان پر گہرا اثر پڑا۔ شاہ عنایت جب حکمرانوں کے جھوٹے وعدوں اور علمائے سو کے درباری فتوؤں کی تلوار سے ذبح کیے گئے، ان کے شریک سفر دہکتے ہوئے تندوروں میں جھونک دیے گئے تو یہ ایک ایسا عظیم سانحہ تھا جس نے بے شمار لوگوں کو مضطرب کر دیا۔ شاہ لطیف کی عمر اس وقت 28 برس تھی۔ صوفی عنایت پر ہونے والا جور و ستم اور ان کی شہادت، نوجوان شاہ لطیف کے سینے میں ٹوٹا ہوا تیر بن گئی۔

انھوں نے بہ آواز بلند یہ نعرہ مارا کہ سارا ملک منصور ہوا تم کس کس کو سولی چڑھاؤ گے۔ حُب وطن سے سرشار شاہ لطیف کا یہ کلام صدیوں سے سندھ کو وہ روشن راستہ دکھا رہا ہے جس پر سفر کر کے قومیں بلندیوں تک پہنچتی ہیں۔

(محکمہ ثقافت سندھ کے منعقدہ شاہ لطیف سیمینار میں پڑھا گیا)

مقبول خبریں