ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
ہم خود ہی خواب تھے، خواب میں پیدا ہوئے اور خواب ہی میں جی رہے ہیں۔
بعد مدت کے اس دن اخبار میں ایک مرتبہ پھر اس پرانے سوال کی گونج سنائی دی جس نے ایک زمانے میں ہمیں اتنا پریشان کیا ہوا تھا کہ پریشانی کے عالم میں ہم یہ تک نہیں سمجھ پائے تھے کہ کیا کھا رہے ہیں، کیا پی رہے ہیں، کتنا کھا رہے ہیں یا کتنا پی رہے ہیں ۔کسی بات کا ہوش ہی نہیں رہتا تھا چنانچہ بھوک لگنے اور بھوک مٹنے تک کا احساس بھی جاتا رہا اور ہم اس مدہوشی کے عالم میں زیادہ کھا پی کر موٹاپے کا شکار ہو گئے، بڑی مشکل سے ہم نے موٹاپے کی دواؤں اور نسخوں سے اپنے آپ کو نارمل کیا تھا کہ ایک مرتبہ پھر کسی نے وہی پرانا نغمہ چھیڑ دیا، مضمون یا کالم یا تجزیہ جو کچھ بھی تھا لیکن عنوان وہی تھا ''ہم کہاں ہیں'' کمال ہے ہم تو سمجھے تھے کہ ہم کھڑے کھڑے تھک کر بیٹھ بھی چکے ہیں، لیٹ بھی چکے ہیں بلکہ آرام سے سو بھی چکے ہیں بلکہ بڑے حسین خواب بھی دیکھ رہے ہیں لیکن
ہے غیب غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود
ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں
کیونکہ ہمارا اصل مقصد و مرام اور مقام ہی خواب ہیں۔ ہم خود ہی خواب تھے، خواب میں پیدا ہوئے اور خواب ہی میں جی رہے ہیں، بلکہ جہاں ہم لیٹے سوتے ہوئے پڑے ہیں یعنی بمقام مملکت خداداد پاکستان وہ خود ہی ایک خواب ہے اور کسی ایسے ویسے کا نہیں بلکہ حکیم مشرق علامہ اقبال کا خواب، لیکن افسوس کہ کل پرسوں کے کسی اخبار میں کسی نے پھر ہمیں وہ ''لات'' ماری کہ ہم کہاں ہیں، پہلے تو ہم نے خود اپنا ہی ''ویراباؤٹ'' دیکھا کہ ہم کس پوزیشن پر ہیں، کھڑے ہیں، بیٹھے ہیں یا سوئے ہوئے ہیں، لیکن کچی نیند کے خمار میں پتہ ہی نہیں چل پایا کہ ہم کس پوزیشن یا آسن میں ہیں، بلکہ یہ تک نہیں سمجھے کہ ہم کہاں لیٹے ہوئے ہیں، آہستہ آہستہ حواس جاگنا شروع ہوئے تو کم از کم یہ تو جان پائے کہ ہم نہ کھڑے ہیں نہ بیٹھے ہیں نہ لیٹے ہیں بلکہ کسی دیوار وغیرہ کے سہارے ٹیک لگائے ہوئے ہیں۔ کیا زبردست پشتو ٹپہ یاد آیا ہے، عین صحیح موقع پر کہ
چہ کلہ کلہ راپہ یاد شے
دیوال تہ شاکڑم زڑہ لہ ورکڑم زنگنونہ
یعنی جب بھی تمہاری یاد آتی ہے تو دیوار سے پیٹھ لگا دیتاہوں، دل کو گھٹنوں میں بھینچ کر رونے لگتا ہوں۔ ہو بہو اور سو فیصد یہی حالت اور پوزیشن ان دنوں اپنے پاکستانی عوام کی بھی ہے جو سیاست کے اس عظیم الشان میلے بلکہ سیاست کے ''اس بازار میں'' قرضوں کی دیوار سے ٹیک لگائے اپنے دکھتے ہوئے گھٹنوں کا سہارا لیے پڑے ہیں۔ سامنے بازار میں کوئی اچھل رہا ہے، کوئی کود رہا ہے، ہمیں بھی اٹھنے کے اشارے کیے جارہے ہیں کہ آؤ تم بھی سیر کرو لیکن ہم
نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی
تجھے اٹھکیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں
ابھی پچھلے دنوں کسی نے بتایا کہ اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے ادھر صوبہ خیبر پختونخوا میں کرپشن کو پھانسی چڑھایا جارہا ہے اور انصاف کو گھوڑی چڑھا کر بارات آنے ہی والی ہے اور ہمیں بھی کہا جارہا ہے کہ تو بھی اٹھ اور اپنے لیے کچھ کر، یہ گیا وقت پھر ہاتھ آتا ہے جو آگے بڑھ کے تھام لے مینا اسی کی ہے لیکن ہم کیسے اٹھ سکتے تھے، بدستور دیوار سے ٹیک لگائے دل کو گھٹنوں کا سہارا دیے بیٹھے رہے۔ویسے یہ بات آج تک ہمارے پلے نہیں پڑی ہے کہ یہ جو اخبارات و رسائل اور مضمونات و کالمات کے پیشہ ور ''سوالی'' ہیں یعنی یہ جو اکثر پوچھتے رہتے ہیں کہ ہم کہاں ہیں، ہم کہاں جارہے ہیں، ہم کون ہیں کیا ہیں، یہ کہیں کسی بھارتی فلم کے کسی کردار کی طرح اپنی یادداشت تو نہیں کھو چکے ہیں کیونکہ ایسا صرف بھارتی فلموں میں ہوتا ہے کہ کوئی کردار کسی اسپتال وغیرہ میں آنکھیں کھولتا ہے تو سب سے پہلے یہی پوچھتا ہے کہ میں کہاں ہوں؟ حالانکہ اس کی یادداشت چلی گئی ہوتی ہے۔
یہ پاؤ پاؤ بھر کی آنکھیں کہیں بھی نہیں ہوتیں، اس کے چہرے پر ہی بیٹھی ہوئی ہوتی ہیں اور تھوڑا سا گھما کر ادھر ادھر دیکھ کر خود بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ میں کہاں ہوں کیونکہ اسپتال کے پورے لوازمات وہاں موجود ہوتے ہیں جنھیں دیکھ کر ایک بچہ بھی بتا سکتا ہے کہ یہ اسپتال ہے، یہ سوال اگر کوئی آنکھوں کا اندھا کر دے تو ٹھیک لیکن ''عقل کا اندھا'' کیوں کرتا ہے کہ میں کہاں ہوں، لیکن لگتا ہے کہ اسے چوٹ عین اس مقام پر لگ چکی ہوتی ہے جہاں ''عقل اور آنکھوں'' کی مشترکہ نس یا رگ ہوتی ہے۔ میں کہاں ہوں، یہ تو پتہ نہیں کہ ہمارے ان کالم نگاروں اور مضمون نگاروں کو ''چوٹ'' لگی ہوئی ہے یا سر کے بل گرے ہوئے ہیں یا ویسے ہی ان کے دماغوں کا قارورہ بگڑا ہوتا ہے جو ہمیشہ ایسے ہی فضول سوال پوچھتے ہیں، ہم کہاں ہیں۔
اے بھائی صاحب جب آپ خود ہی نہیں جانتے کہ تم کہاں کھڑے ہو تو کوئی دوسرا کیا بتا سکتا ہے بلکہ تمہیں تو صرف یہ پوچھنا ہوتا ہے کہ ہم کہاں ہیں ۔۔۔ لیکن اگلے کے پاس تم سے زیادہ سوالات ہو سکتے ہیں کہ تم کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو؟ کہاں جارہے ہو اور یہ سوال کیوں پوچھ رہے ہو بلکہ اگر وہ تمہاری طرح ''سوالیہ'' نکلا تو یہ بھی پوچھ سکتا ہے کہ تم ٹھیک تو ہو، کیا دماغی توازن تو نہیں بگڑا ہوا ہے، اگر آنکھیں کم زور ہیں تو کیا دور کی بینائی متاثر ہے ۔کیا قریب کی نظر بھی غارت ہو چکی ہے، چلیے فرض کیجیے وہ آدمی جس سے تم نے اپنے ''محل وقوع'' کے بارے میں بتا بھی دیتا ہے تو تم کیا تیر مار لو گے جب تمہیں اپنے ہی بارے میں یہ پتہ نہیں کہ تم کہاں ہو تو اس دماغ اس سوچ اور اس بینائی کے ساتھ تم کرنا چاہو بھی تو کیا کر پاؤ گے، کیوں کہ جو کرنے والے ہوتے ہیں وہ کر گزرتے ہیں
نہ جنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں
ایک حقیقہ یاد آیا ۔کچھ فنکار کسی شادی بیاہ میں گئے تھے، وہاں بارش نے آلیا، بارش بھی جاڑوں کی طویل اور ہفتوں والی تھی چنانچہ یہ وہاں رہ گئے، میزبان بے چارا اس پورے طائفے کو کھلاتا پلاتا رہا اور یہ وقت گزاری کے لیے آپس ہی میں گاتے بجاتے رہے۔ کئی دنوں کے بعد ان کو ''کھانے'' کی نوعیت سے پتہ چلا کہ میزبان تنگ آگیا ہے چنانچہ میزبان کے ساتھ ہم دردی کے طور پر ان میں سے ایک بولا، کیا کریں اگر بارش تھوڑی سی بھی رک جاتی تو ہم چلے جاتے۔ اس پر دل جلے میزبان نے کہا ، جو جانے والے تھے وہ شہر جا پہنچے ہیں، ہم بھی ان ''ہم کہاں ہیں'' والوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ جو جانے والے تھے، وہ اپنی منزل پر پہنچ بھی چکے ہیں اور تم ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں کر پائے کہ تم کہاں ہو، اگر کسی نے بتا بھی دیا تو پھر پوچھو گے کہ ہم کہاں جائیں یا جارہے ہیں پھر سواری کے بارے میں پوچھو گے اور پھر نہ جانے کیا کیا پوچھتے رہ جاؤ گے۔
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی