یہ 68 برس کی کہانی ہے

یہ رہنما قوم کو ایک ہیجان اور جنون میں مبتلا کر کے کہتے ہیں کہ دوڑ ماضی کی طرف اے گردشِ ایام تو۔


Zahida Hina December 30, 2014
[email protected]

ماہ وسال اپنی چھب دکھا کر گزر جاتے ہیں اور وقت کا دریا بہتا رہتا ہے ۔ وقت کی کیا شان اور آن بان ہے۔ وہ نہ کسی کے انتظار میں ٹھہرتا ہے اور نہ کسی کو خاطر میں لاتا ہے ۔ اس کا اپنا مزاج ہے، اپنی ادا ہے ۔ جو دانش مند ہیں وہ آگے بڑھتے وقت کے سامنے بند نہیں باندھتے، نہ اس سے ٹکراتے ہیں ۔ عاقبت نا اندیش جنھیں بدلتے وقت کے انداز نہیں بھاتے، نئی قدروں سے جنھیں نفرت ہوتی ہے وہ اس کے آگے کھڑے ہونے اور اس سے ٹکرانے کی حماقت کر بیٹھتے ہیں۔ انجام ان کا بہت درد ناک ہوتا ہے ۔

وقت کا بہتا دھارا ہر رکاوٹ کو بہاتا ہوا آگے نکل جاتا ہے، ٹکرانے والوں کو نیست و نابودکردیتا ہے ۔ اس عبرت ناک انجام کاشکار صرف افراد ہی نہیں وہ قومیں بھی ہوتی ہیں جن کے حکمران اور رہنما انھیں وقت کے بے پناہ طاقت ور دھارے کے سامنے لاکھڑا کرتے ہیں ۔ تاریخ ایسی قوموں کی مثالوں سے بھری پڑی ہے، کیسی عظیم الشان تہذیبیں جمود کا شکار ہوئیں اور وقت کا ساتھ نہ دے سکیں تو صفحہ ہستی سے فنا ہوگئیں ۔ ایسے بھی بدنصیب ملک ہیں جہاں کے عوام کی محرومیوں کا فائدہ اٹھانے کے لیے حکمران نفرت، تشدد اور انتہا پسندی کے جذبات ابھار کر لوگوں کو دوسروں کے خلاف اکساتے ہیں ، انھیں شاندار ماضی کی یاد دلاتے ہیں ، یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ سب سے برتر اور افضل ہیں ۔ دنیا پر حکمرانی ان ہی کا حق ہے ۔ یہ رہنما قوم کو ایک ہیجان اور جنون میں مبتلا کر کے کہتے ہیں کہ دوڑ ماضی کی طرف اے گردشِ ایام تو ۔ یہ وہ کام ہے جس پر کوئی قادر نہیں ۔ ارتقائی عمل کو روکنا کب کس کے بس میں رہا ہے ۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہیجان اور جنون میں مبتلا حکمران اور قومیں، دونوں کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔

نفرت اور جنون سے تشدد جنم لیتا ہے، جنگیں ہوتی ہیں اور اس کیفیت میں مبتلا اقوام، اپنے اور دوسروں، سب کے لیے تباہی کا سامان پیدا کر کے بالآخر شکست سے دوچار ہوتی ہیں۔ ایسی ایک دو نہیں سیکڑوں مثالوں سے تاریخ بھری پڑی ہے ۔ 20 ویں صدی کے نازی جرمنی اور اس کے شعلہ صفت، شعلہ بیاں لیڈر اڈولف ہٹلر کی مثال ابھی ہمارے ذہنوں میں تازہ ہے ۔ وہ لوگ اب بھی زندہ ہیں جنہوں نے دوسری جنگ عظیم کا ہولناک دور دیکھا ہے، نازی رہنماؤں نے اپنے عوام اور پوری دنیا کو جس عذاب میں مبتلا کیا اس کی رونگٹے کھڑی کردینے والی داستانیںابھی زیادہ پرانی نہیں ہوئی ہیں ۔ جرمنوں کو دوسروں سے اعلیٰ و ارفع ہونے کا درس دیا گیا، ان کو یہ باور کرا دیا گیا کہ پوری دنیا ان کی دشمن ہے ۔ ان کی نسل برتر نسل ہے لہٰذا دنیا پر حکمرانی ان کا حق ہے ۔ اس جنون نے کیا رنگ نہیں دکھائے ۔ احساس برتری کے خبط میں مبتلا جرمن قوم کے شعور اور لاشعور میں اس تجربے کے بعد جو احساس ندامت پیدا ہوا وہ آج کی نسل میں بھی موجود ہے ۔ ایک وہ وقت تھا کہ جب ہٹلر کی انگلی کے ایک اشارے پر لاکھوں کا مجمع دیوانہ وار نعرے لگاتا اور اس کے حکم پر جانیں قربان کرتا تھا ، اب اس کے نام تک سے نفرت کرتا ہے ۔

ماہ و سال اپنی چھب دکھا کر گزرجاتے ہیں اوروقت کا دریا بہتا رہتا ہے ۔ 2014ء کا آج آخری دن ہے ۔ اس موقعے پر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اصل حقیقت ہمارا مستقبل ہے ہمیں 68 برس سے ماضی میں زندہ رکھا گیا ۔ یہ کام انھوں نے کیا جن کا کوئی مستقبل نہیں تھا۔ آمر اور آمریتوں، انتہا پسندوں اور انتہا پسندی، جنگ اور جنون کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا ۔ انھوں نے عوام کو نفرت اور خود ساختہ احساس برتری میں مبتلا رکھا ، یہ باور کرایاکہ ہم ایسے نابغہ روزگار، اور یکتائے زمانہ ہیں کہ سارا عالم ہم سے خائف ہے ، ہمیں آگے بڑھنے نہیں دیتا ، ہمارے خلاف سازشیں کرتا ہے ۔ نفرت اور جنون پیدا کرنا آمریتوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ نفرت سے عوام کو تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ وہ غاصبوں کے خلاف متحد و منظم نہ ہوپائیں ۔ خوف اس لیے پھیلایا جاتا ہے تاکہ عوام ہر دم ، ہر آن خودساختہ بیرونی دشمنوں کے ڈر میں مبتلا رہیں ، انھیں یوں محسوس ہو جیسے ساری دنیا ان کی دشمن ہوچکی ہے ، سب ان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں ۔ خوف زدہ عوام میں یہ احساس بیدار کیا جاتا ہے کہ ان کا تحفظ ایک آمر ہی کر سکتا ہے ۔

کیوں کہ وہ طاقت ور ترین حکمران ہے اور کوئی ادارہ اس کی مزاحمت کرنے کی جرأت نہیں رکھتا ۔ غور کیجیے، 68سال میں ملک کے اندر عوام کو تقسیم کرنے کے لیے کون سے حربے تھے جو استعمال نہیں ہوئے آمروں نے پہلے مغربی پاکستان کے لوگوں کے دلوں میں مشرقی پاکستان کے محب وطن بنگالی پاکستانیوں کے بارے میں بدگمانیاں پیدا کیں ۔ اگر آپ 30 اور 40برس کے ہیں اور یہ سطریں پڑھ رہے ہیں تو اپنے آس پاس موجود کسی 60 یا 70 سال کے بزرگ سے معلوم کیجیے کہ 50 اور 60 کے عشروں میں بنگالی ہم وطنوں کے بارے میں کیا کیا باتیں کہی جاتی تھیں ۔

وہ جن کی جدوجہد سے پاکستان بنا، انھیں ہندوستان کا ایجنٹ کہا گیا، ان کی زبان کی توہین کی گئی، ان کی ثقافت کو ہندو ثقافت کا چربہ بتایا گیا ۔ ان کے بارے میں یہ تاثر ابھارا گیا کہ وہ بزدل اور ڈرپوک ہیں کیونکہ وہ پستہ قامت اور کمزور نظر آتے ہیں ۔ یہ تاثر دینے والے جانتے تھے کہ اصل طاقت ذہن کی ہوتی ہے ۔ یہ نہ ہوتی تو افریقا، ایشیا اور لاطینی امریکا کے لمبے اور ہٹے کٹے لوگ یورپی اقوام کے غلام نہ بنتے ۔ بنگالی بولنے والے پاکستانیوں کے خلاف ذہنوں کو زہر آلود اس لیے کیا گیا کہ وہ پاکستان کی جمہوری تحریک میں پیش پیش تھے اور آمروں کے لیے ایک بھیانک خطرہ تھے ۔ کم لوگوں کو یاد ہوگا کہ نوجوان شیخ مجیب تحریک پاکستان میںآگے آگے تھے اور وہی جنرل ایوب خان کے نام نہاد صدارتی انتخابات میں قائد اعظم محمد علی جناح کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کے ڈھاکا میں چیف پولنگ ایجنٹ تھے ۔

یہ واحد شہر تھا جہاں سے محترمہ کو ہرانا آمر کے لیے بھی ممکن نہ ہوسکا تھا۔ 1970 کے عام انتخابات میں شیخ مجیب کی عوامی لیگ کو اکثریت ملی، عوامی لیگ کو اقتدار کی منتقلی کا مطلب پاکستان سے آمریت کا خاتمہ تھا لہٰذا یہ کام کسی بھی قیمت پر نہ کرنے کا فیصلہ ہوا ۔ عوام کے مینڈیٹ کو ماننے سے انکار کردیا گیا اور ملک کی اکثریتی آبادی اور انتخابات میں واضح فتح حاصل کرنے والی جماعت کے بارے میں کہا گیا کہ وہ پاکستان کے خلاف ہے ۔ تاریخ میں ایسا نہیںہوا تھا کہ اکثریت نے اقلیت سے علیحدگی اختیار کی ہو ۔ ماضی میں مشرقی پاکستان اور اس کی قیادت کے خلاف لوگوں کا جو ذہن بنایا گیا اس کے باعث مغربی بازو کے لوگ انھیں ''غدار'' سمجھنے لگے ۔ یہ تو لوگوں کو بہت بعد میں معلوم ہوا کہ شیخ مجیب پاکستان سے علیحدگی نہیں چاہتے تھے ۔

آمروں نے مغربی حصے، یعنی موجودہ پاکستان میں آباد قومیتوں کو آپس میں لڑانے کی کوششیں کیں ۔ ون یونٹ کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کو وطن دشمن، ہندوستان اور سوویت یونین کا ایجنٹ ، غدار ، کمیونسٹ اور کیا کیا نہیںقرار دیا گیا ۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ملک کے تینوں صوبوں کے عوام کی اکثریت ون یونٹ کے خاتمے کے لیے متحد ہوگئی اور ایسا محسوس ہونے لگا کہ شاید سب ''غداری'' پر آمادہ ہوگئے ہیں ۔ ون یونٹ کے خاتمے کی تحریک چونکہ آمریت کے خلاف تھی اور جمہوریت کی بحالی کی تحریک تھی لہٰذا اسے سختی سے کچلا گیا، ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت ہزاروں سیاسی کارکنوں کو قید کیا گیا اور بدترین اذیتیں دی گئیں۔پہلے بنگالی بولنے والے پاکستانیوں کے خلاف آمروں نے نفرت اور بدگمانیاں ابھاری تھیں ، ملک کے مشرقی اور مغربی بازو کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کردیا تھا۔

بعدازاں انھوں نے مغربی حصے کی تین چھوٹی اکائیوں کے بارے میں پاکستان دوست نہ ہونے کا تاثر پیدا کیا، ان صوبوں کے عوام اور جمہوریت دوست سیاستدانوں کی وفا داری پر سوال اٹھائے گئے ۔ آمریت نے وقت کے آگے بند باندھے ، جمہوریت کا راستہ روکنے کے لیے عوام کو نسلی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم کیا لیکن وقت آگے کی طرف سفر کرتا رہا ۔ پاکستان اور اس کے عوام اس صورت حال کی بھاری قیمت ادا کرتے رہے اور وہ وقت بھی آیا کہ جب ون یونٹ ٹوٹ گیا ، بنگلہ دیش بن گیا اور آمروں کو عارضی پسپائی اختیار کر کے چند برسوں کے لیے بھٹو صاحب کی منتخب حکومت کو برداشت کرنا پڑا ۔ اس دوران پارلیمنٹ نے آئین بنایا اور جمہوری عمل کا آغاز ہوا ۔ چند سال گزرے تھے کہ احتساب اور انتخابی دھاندلی کی آڑ میں تحریک چلوائی گئی اور منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر وزیراعظم کو تختہ دار پر چڑھادیا گیا اور آمریت دوبارہ ملک پر مسلط ہوگئی ۔جنرل ضیاء الحق کو اندازہ تھا کہ اب عوام کو تقسیم کرنے کی کوئی نئی ترکیب اور حکمت عملی تلاش کرنی ہوگی لہٰذا ان کی سرکردگی میں عوام کو تقسیم کرنے کے ایک بھیانک منصوبے کا آغاز ہوا ۔

(جاری ہے)

مقبول خبریں