8 سال میں 56 کروڑ ڈالر کا غیرملکی قرضہ بغیر استعمال کے ضائع

فنڈز جنوری 2000 سے 2008 تک بغیر منصوبوں کے دیدیے گئے تھے، پی اے سی میں انکشاف


Numainda Express January 02, 2015
واپڈا نے 6، این ایچ اے نے 12 ارب کا قرضہ واپس نہیں کیا، دونوں محکموں کے حکام طلب۔ فوٹو: فائل

پبلک اکاؤنٹس کی ذیلی کمیٹی میں انکشاف کیا گیا کہ 8 سال میں 56 کروڑ80لاکھ ڈالر غیرملکی قرضہ بغیر استعمال کے ضائع ہوگیا جس پرکمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنونیر رانا افضال کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا، اجلاس میں اکنامک افئیر اور اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن کے مالی سال 1996 تا 2009 کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں آڈٹ حکام نے بتایا کہ واپڈا نے6 ارب 63 کروڑ، این ایچ اے نے 12 ارب 40 کروڑ روپے آئی ڈی بی پی نے35 کروڑ87 لاکھ روپے کا قرضہ لیا اور ابھی تک واپس نہیں کیا، جس پر کمیٹی نے برہمی کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ رقم متعلقہ اداروں سے ایک ماہ میں وصول کی جائے اور اگلے اجلاس میں این ایچ اے، آئی ڈی بی پی اور واپڈا کے حکام کوبھی طلب کرلیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ جنوری 2000 سے لیکر2008 تک 56 کروڑ80لاکھ ڈالرقرضے بغیر استعمال کے لیپس کرگئے، جس پرکمیٹی نے برہمی کا اظہار کیا کہ 85 فیصد فنڈز بغیر استعمال کے ضائع ہوگئے ہیں یہ قومی جرم ہے۔ سیکریٹری اکنامک افیئرڈویژن سلیم سیٹھی نے بتایا کہ یہ فنڈزاس لیے ضائع ہوئے کیونکہ یہ فنڈز کسی منصوبوں کیلیے طلب نہیںکیے گئے تھے بلکہ بغیرمنصوبوں کے دیدیے گئے تھے یہ فنڈز ڈیمانڈ ڈریون نہیں، ڈونرڈریون ہوتے ہیں اس کے سدباب کیلیے فارن اسسٹینس پالیسی فریم ورک کا ڈرافٹ تیارکرکے تمام صوبوں کو بھیجا گیا ہے۔

پارلیمنٹ میں پیش کریں گے تاکہ یہ ایکٹ بن سکے اور جو خود سے امداد لائیں اس کاسدباب ہو،صرف وہی قرضہ حاصل کیاجائے جس کی ضرورت ہوگی، اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے مختلف ممالک کو15کروڑ37لاکھ روپے قرضہ دیاگیا۔اراکین کمیٹی نے حیرت کا اظہار کیا کہ ہمارے پاس اپنے لیے رقم موجودنہیں اورہم قرضہ دے رہے ہیں۔