فوجی عدالتوں کی مخالفت
عام تاثر یہ ہے کہ اس ملک میں کبھی ایسی حقیقی جمہوریت رہی ہے نہیں جس کی شریعت میں فوجی حکومت حرام ہوتی ہے.
KARACHI:
پوری دنیا کا دل دہلا دینے والے سانحہ پشاور کے بعد ہمارے تمام سیاسی رہنما اس حقیقت کا اقرار کر رہے ہیں کہ ''ہم حالت جنگ میں ہیں''۔ یہ محض سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک افسوسناک ہی نہیں خوفناک حقیقت ہے کہ پورا ملک حالت جنگ میں ہے اور جدید دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب کوئی ملک حالت جنگ میں ہوتا ہے تو اسے ان غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔ سانحہ پشاور سے پہلے ملک شدید سیاسی بحران کا شکار تھا، اس کے پیش نظر اس اہم ترین تحریکی بحران کو پیچھے دھکیل کر سیاست دانوں کو قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا پڑا۔
ان ہی غیر معمولی حالات کا تقاضا تھا کہ ہماری سیاسی قیادت کو یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ ان خوفناک حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے عدالتی نظام میں کچھ غیر روایتی غیر جمہوری لیکن بامعنی تبدیلیاں لائی جائیں، ان غیر معمولی تبدیلیوں میں ایک اہم تبدیلی یا ممکنہ تبدیلی فوجی عدالتوں کا قیام ہے۔ بلا شبہ عام حالات میں کوئی جمہوریت پسند معاشرہ فوجی عدالتوں کی حمایت کر سکتا ہے نہ انھیں قبول کر سکتا ہے لیکن جب اس کڑوی گولی کو نگلنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہے تو اس کڑوی گولی کو نگلنا پڑتا ہے۔جب سے فوجی عدالتوں کے ممکنہ قیام کی بات چلی ہے بعض مخصوص حلقے چوکنا بھی ہو گئے ہیں اور مختلف خدشات کے حوالے سے فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت بھی کر رہے ہیں۔
ان میں ان لوگوں کی تعداد زیادہ ہے جو دودھ کے جلے ہوئے ہیں، ایک معتبر سیاسی رہنما نے جن کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے یہ فرمایا کہ اگر سول عدلیہ کی ناکامی کے حوالے سے فوجی عدالتیں قائم کرنے کی روایت کو قبول کر لیا جاتا ہے تو کل یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ جمہوریت ناکام ہو گئی ہے لہٰذا مارشل لاء لایا جائے۔ محترم سیاست دان کا موقف اور خدشات سر آنکھوں پر لیکن عام تاثر یہ ہے کہ اس ملک میں کبھی ایسی حقیقی جمہوریت رہی ہے نہیں جس کی شریعت میں فوجی حکومت حرام ہوتی ہے، یہاں تو جمہوریت کے نام پر قومی دولت لوٹنے والوں کی ایسی اشرافیائی جمہوریت رہی ہے جس کا عوام اور عوامی مسائل سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔
بلکہ اس اشرافیائی جمہوریت کے آئیکون ہی فوجی حکومتوں سے سول حکومتیں ختم کرنے اور فوجی حکومتیں لانے کی حمایت بلکہ مطالبے کرتے رہے، بلکہ اس ''جمہوری ملک'' میں یہ بھی ہوا کہ فوجی مداخلت پر مٹھائیاں بانٹی گئیں، اس شرمناک کلچر کی وجہ یہ ہے کہ اس ملک کی سیاست کی بنیاد عوامی شراکت اور عوامی مفادات پر نہیں رکھی گئی بلکہ ذاتی دوستیوں، ذاتی دشمنیوں پر رکھی گئی اور یہ لعنت اس نیم قبائلی، جاگیردارانہ نظام کی ہے جس میں ہر دوستی، ہر دشمنی ذاتی اور طبقاتی مفادات کی مرہون منت ہوتی ہے۔اس تمہید کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ فوجی عدالتوں کی مخالفت کے پس منظر کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ آج ملک و ملت کو جس عفریت کا سامنا ہے۔
اس کی سفاکی، اس کی بربریت کی مثال جنگوں کی تاریخ میں نہیں ملتی، جنگوں کی خواہ وہ کتنی ہی خونخوار رہی ہوں اخلاقیات میں معصوم بچوں، بوڑھوں اور خواتین کو تحفظ حاصل ہوتا ہے لیکن پاکستان کو جس جنگ کا سامنا ہے، اس جنگ کے فریق مخالف کی اخلاقیات کا عالم یہ ہے کہ 50 ہزار بے گناہ لوگ جن میں مرد، عورتیں، بوڑھے، جوان اور بچے شامل ہیں اس جنگ کی نذر ہو چکے ہیں، اس جنگ کی سفاکی اور حیوانیت کا عالم یہ ہے کہ بسوں سے مسافروں کو اتار کر اور ان کے شناختی کارڈ دیکھ کر انھیں لائن میں کھڑا کر کے گولیاں ماری جاتی ہیں۔ مسجدوں، مندروں، امام بارگاہوں اور مدرسوں کو بموں سے اڑا دیا جاتا ہے حتیٰ کہ اسکولوں میں پڑھائی میں مصروف 140 سے زیادہ بچوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے۔
کیا اس وحشیانہ جنگ کا روایتی جنگ سے کوئی تعلق ہو سکتا ہے، کیا اس قسم کی جنگ میں جمہوری قدروں کو سرفہرست رکھا جا سکتا ہے؟ یہ ایسے سوال ہیں جن پر ان اکابرین کو ٹھنڈے دل، ٹھنڈے دماغ سے غور کرنا چاہیے جو فوجی عدالتوں کے قیام کو ''جمہوریت'' کے لیے خطرہ سمجھ رہے ہیں اور اس حوالے سے فوجی عدالتوں پر تنقید اور ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔اس حوالے سے جو دوسرا مسئلہ زیر بحث ہے۔ وہ ہے سزائے موت کا۔ خطرہ یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فوجی عدالتیں عدالتی روایات کو پس پشت ڈال کر مجرموں کو دھڑا دھڑ موت کی سزا سنانے لگیں گی۔ میڈیا کے مطابق غالباً 600 سے زیادہ مجرم برسوں سے سزائے موت پر عمل درآمد کے منتظر ہیں اور سزائے موت پانے والوں کی اتنی بڑی تعداد کو فوجی عدالتوں نے نہیں بلکہ ان سارے مجرموں کو سول عدالتوں نے پوری جمہوری روایات اور عدالتی تقاضوں کے مطابق موت کی سزائیں دی ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سزائیں منصفانہ تھیں یا غیر منصفانہ؟ اگر منصفانہ تھیں اور ہیں تو ان پر برسوں سے عمل درآمد کیوں نہیں ہوا؟ اگر یہ سزائیں غیر منصفانہ مانی جاتی ہیں تو پھر ہمارے عدالتی نظام کی افادیت کیا ہے؟ مغربی ملکوں کی اخلاقیات میں سزائے موت ایک وحشیانہ فعل ہے، جس کی اتباع مشرقی ملک بھی کر رہے ہیں، بلاشبہ ایک زندہ انسان کو اس کا سر قلم کر کے یا اسے پھندے پر لٹکا کر موت کے منہ میں دھکیلنا بے رحمانہ فعل نظر آتا ہے اور غالباً اسی پس منظر میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے پاکستان میں دی جانے والی سزائے موت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انھیں روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
لیکن رحم دل بان کی مون اور بہت سارے سانحات سے واقف ہوں نہ ہوں اس تازہ دل ہلا دینے والے سانحے سے تو ضرور واقف ہوں گے جس میں دہشت گردوں نے آرمی پبلک اسکول پشاور کے 140 سے زیادہ معصوم بچوں کو چن چن کر انتہائی وحشیانہ انداز میں قتل کر دیا ایسے قاتلوں کے لیے اقوام متحدہ کے محترم سیکریٹری جنرل کیا سزا تجویز کرتے ہیں؟ ایک ایک خودکش بمبار سو سو بے گناہ لوگوں کو وحشیانہ انداز میں قتل کر رہا ہے اور یہ سلسلہ دس سال سے جاری ہے، کیا اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اس قتل عام کو رکوانے کی کوئی کوشش کی؟
9/11 کے ایک حملے کے جواب میں امریکا نے جو دہشت گردی کے خلاف مہم شروع کی تھی اور جس میں اب تک 10 لاکھ کے لگ بھگ لوگ مارے گئے ہیں کیا اس مہم کو اقوام متحدہ کی رضامندی حاصل نہ تھی؟ چندا امریکی سپاہیوں پر مبینہ حملے کے جرم میں ڈاکٹر عافیہ کو امریکا کی محترم عدلیہ نے 86 سال کی سزا سنادی اور عافیہ اس وحشیانہ سزا کو ایک امریکی جیل میں بھگت رہی ہے، کیا بان کی مون نے عافیہ کو اس ظالمانہ سزا سے نجات دلانے کی کوشش کی؟
ہمارے محترم سیاست دانوں کو یہ خدشہ یا خوف لاحق ہے کہ فوجی عدالتیں مجرموں کے ساتھ ساتھ بے گناہ سیاسی اہلکاروں کو بھی نشانہ نہ بنائیں جمہوریت کے ان علمبرداروں کو یہ خدشات بھی لاحق ہیں کہ فوجی عدالتیں انصاف کے تقاضوں کو پورا کیے بغیر سزائیں نہ دیں۔ ہو سکتا ہے ہمارے سیاسی عمائدین کے ان خدشات میں کچھ حقیقت ہو لیکن ان خدشات کے اظہار سے پہلے ہمارے سیاسی عمائدین کو اس حقیقت پر بھی ایک نظر ڈالنا چاہیے کہ ہمارا پورا عدالتی نظام کرپشن کے سمندر میں بہہ رہا ہے جس کا اعتراف خود عدلیہ کی اعلیٰ شخصیت کر رہی ہیں کیا ایسے کرپٹ نظام میں انصاف کی کوئی توقع کی جا سکتی ہے؟
ہمارے سیاسی محترمین کو ابھی دہشت گردوں کے عزائم و مقاصد اور حصول مقاصد کے لیے تیاریوں کا اندازہ نہیں۔ اگر انھیں اندازہ ہوتا تو یقینا وہ اپنی جمہوریت کو پھلانگ کر خود سزائے موت اور فوجی عدالتوں کی حمایت کرتے۔ ہاں اس حوالے سے صرف یہ احتیاط کی جا سکتی ہے کہ فوجی عدالتوں میں صرف دہشت گردوں کے مقدمات بھیجے جائیں۔ اگر صورت حال کا سنجیدگی سے جائزہ نہ لیا گیا تو آج فوجی عدالتوں کی مخالفت کرنے والے کل خود مارشل لاء کا مطالبہ کریں گے۔ عوام حیران ہیں کہ کل تک فوجی عدالتوں کی حمایت کرنے والے آج اس کی اس شدت سے مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟