ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کی گیس نرخ میں اضافے پر تنقید

گیس ٹیرف میں اضافے سے ٹیکسٹائل مصنوعات عالمی مارکیٹوں میں حریف ممالک سے مسابقت کے قابل نہیں رہیں گی، جاوید بلوانی


Business Reporter January 03, 2015
جاوید بلوانی نے وزیراعظم محمد نواز شریف سے اپیل کی کہ وہ صنعتی صارفین اور صنعتی سی پی پیز کے لیے گیس کے نرخوں میں کیا گیا ظالمانہ اضافہ واپس لینے کے لیے احکام جاری کریں۔ فوٹو: فائل

حکومت کی جانب سے صنعتی صارفین کے لیے گیس کے نرخ میں 53 فیصد اور کیپٹیو پاورپلانٹس کے لیے 30 فیصد کا اضافہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹ سیکٹر کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔

یہ بات پاکستان اپیرل فورم کے چیئرمین اور ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل فورم کے چیف کوآرڈینیٹر محمد جاوید بلوانی نے کہی۔ انہوں نے کہا کہ گیس ٹیرف میں اضافے سے ٹیکسٹائل مصنوعات عالمی مارکیٹوں میں حریف ممالک سے مسابقت کے قابل نہیں رہیں گی جبکہ لاگت بڑھنے سے برآمدکنندگان غیرملکی خریداری کے ششماہی اور سالانہ آرڈرز کی تکمیل نہیں کرسکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً تمام کیپٹیو پاور پلانٹس برآمدی ٹیکسٹائل صنعتوں میں لگائے گئے ہیں جو قدرتی گیس پر چلتے ہیں، ان پاور پلانٹس کی نوعیت ''کوجنریشن سائیکل پلانٹس'' کی ہے جن میں سے بیشتر ایک میگاواٹ گنجائش کے ہیں اور ان کی تھرمل کی استعداد 40 سے 70 فیصد کے لگ بھگ ہے۔

انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ آخر گیس کے لائن لاسز اور چوری کے تدارک میں متعلقہ حکام کی نااہلی اور ناکامی کی سزا اہم ترین ٹیکسٹائل ایکسپورٹ سیکٹر کے برآمد کنندگان کو کیوں دی جا رہی ہے جبکہ ٹیکسٹائل کی برآمدی صنعتیں بروقت اپنے بلز کی ادائیگی بھی کر رہی ہیں، کیا اس امر سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ حکومت برآمدی صنعتوں کے بجائے گیس چوروں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ برآمدی ٹیکسٹائل سیکٹر ملکی معیشت کا اہم ترین شعبہ ہے جو نہ صرف ملک کو قیمتی زرمبادلہ کما کر دے رہا ہے بلکہ سب سے زیادہ روزگار بھی فراہم کرتا ہے مگر حکومت وسیع پیمانے پر ہونے والی گیس چوری، لائن لاسز اور رہائشی صارفین کی جانب سے 18فیصد کی استعداد پر چلائے جانے والے گیزرز کے نقصانات کا ملبہ برآمدی ٹیکسٹائل سیکٹر پر ڈال رہی ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہائشی و تجارتی سیکٹرز میں یوایف جی نقصانات کا تخمینہ 10 فیصد لگایا گیا ہے جبکہ صنعتی سیکٹر کے یوایف جی نقصانات صرف2فیصد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں غیرفعال اور برے صارفین کی اصلاح کی غرض سے فعال اور اچھے صارفین کو نوازا جاتا ہے، انہیں سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں مگر یہاں حکومت اچھے صارفین کو گیس کے نرخوں میں اضافہ کر کے انہیں سزا دے رہی ہے جو قیمتی توانائی کو محفوظ کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت، سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں گھریلو صارفین ایل پی جی سلنڈرز استعمال کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں ہماری توانائی کے اہم ذریعے قدرتی گیس کو گھریلو صارفین بے دردی سے مجرمانہ طور پر ضائع کرتے ہیں، ہمارے بڑے حریف ممالک میں سے بنگلہ دیش میں گیس کا نرخ1.86 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو، بھارت میں 4.20 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو، سری لنکا میں 3.66 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو، ویت نام میں 4.33ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو جبکہ پاکستان میں گیس کے موجودہ نرخ4.83 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو، جی آئی ڈی سی گیس کا نرخ 6.31ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہے جبکہ صنعتی کیپٹیو پاور پلانٹس کے لیے گیس کا نرخ5.67ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اور جی آئی ڈی سی نرخ7.65 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہے جو سب سے زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں شدید مسابقت کے تناظر میں ٹیکسٹائل ایکسپورٹ سیکٹر کی بقا کی غرض سے حریف ممالک کے گیس کے نرخوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سالانہ بنیاد پر فکسڈ نرخ ہونے چاہئیں۔ انہوں نے حکومت سے استدعا کی کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کو گیس کی ترجیحی بنیاد پر فراہمی کے سلسلے میں علیحدہ خصوصی درجہ دے۔

جاوید بلوانی نے وزیراعظم محمد نواز شریف سے اپیل کی کہ وہ صنعتی صارفین اور صنعتی سی پی پیز کے لیے گیس کے نرخوں میں کیا گیا ظالمانہ اضافہ واپس لینے کے لیے احکام جاری کریں بصورت دیگر اس اضافے کے برآمدی ٹیکسٹائل سیکٹر پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہونگے۔