یہ 68 برس کی کہانی ہے آخری حصہ
جب فیصلوں کے پس پشت محض مخصوص مفادات کار فرما ہوں تو مثبت نتائج کا برآمد ہونا کیسے ممکن ہے؟
SUKKUR:
پاکستان کی 68 سالہ زندگی کو عذاب ناک بنانے اور موجودہ حالات تک پہنچانے میں فوجی آمروں کا کردار سب سے اہم تھا۔ ملک میں آج جتنے تضادات نظر آتے ہیں وہ انھیں کے مرہون منت ہیں۔ جنرل ایوب خان اور جنرل یحییٰ خان نے نسلی اور لسانی تضاد کو انتہا پر پہنچایا اور 1947ء کا پاکستان ختم کر دیا۔ جنرل ضیاء الحق نے ملک میں اس فرقہ واریت کو فروغ دیا جس کا اس سے پہلے کوئی تصور تک نہیں تھا۔ موصوف کے مسند اقتدار پر قدم رنجہ فرمانے سے پہلے کا پاکستان ایک روا دار اور وسیع المشرب ملک تھا۔
کروڑوں پاکستانی اپنے اپنے مسلک کی مسجدوں میں نمازیں ادا کرتے تھے۔ ان کے درمیان مخاصمت کا کوئی رشتہ نہ تھا۔ شیعوں اور سنیوں کے درمیان محرم سے 8 ربیع الاول کے درمیان کچھ چپقلش رہتی تھی لیکن اس کے اظہار کا انداز بھی روایتی تھا۔ جنرل ضیاء نے فیصلہ کیا کہ سوویت یونین کے خلاف افغانستان میں امریکا جو فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے اس کا رنگ چونکہ مذہبی ہے اس لیے جنرل ایوب اور جنرل یحییٰ خان جیسا لبرل انداز اختیار کرنا مناسب نہیں ہو گا۔ لہٰذا انھوں نے مذہبی لبادہ اوڑھ کر پاکستان کے عوام کو فرقہ وارانہ طور پر تقسیم کر کے حکومت کرنے کی ''کامیاب'' حکمت عملی اپنائی۔ انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان میں اسلامی حکومت قائم کریں گے۔
ایک ایسے ملک میں جہاں کسی مذہب کے مختلف مسالک کو ماننے والے لوگ رہتے ہوں وہاں محض اقتدار کو دوام دینے کے لیے ایسی مہم جوئی کس قدر خطرناک اور مہلک ثابت ہو سکتی ہے، اس کی بہترین مثال آج کا پاکستان ہے۔ ضیاء الحق کا اپنا ایک مخصوص نظریہ تھا جس کے حامی انتہائی اقلیت میں تھے۔ قوانین کے جبری نفاذ سے مسلکی کشیدگی پیدا ہوئی جو 1980ء میں اپنے عروج کو جا پہنچی ۔ ایرانی انقلاب کے بعد عرب بادشاہوں کی جانب سے بھی جارحانہ انداز اختیار کیا گیا ۔ عرب اور عجم کا یہ مناقشہ بھی مسلکی رنگ لیے ہوئے تھا۔
پاکستان جہاں حکمران وقت کی سرپرستی میں، مذہبی فرقہ واریت مضبوط ہو چکی تھی، وہاں عرب و عجم کی نیابتی جنگ کا شروع ہونا ایک فطری امر تھا۔2001ء کے بعد جب امریکا نے افغانستان میں طالبان پر دباؤ بڑھایا تو ان کی ایک بڑی تعداد پاکستان آ گئی اور انھوں نے اپنے مخالف مسلکوں کو دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ۔ عوام کو تقسیم کرنے اور انھیں باہم صف آرا کرنے کی جو حکمت عملی ایک آمر نے اپنائی تھی اس نے بالآخر پوری قوم کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا۔ فرقہ وارانہ دہشت گردی میں ہزاروں بے گناہ پاکستانی اپنی جان سے گئے۔ پورا ملک اس عذاب کی لپیٹ میں آ گیا۔ مسجدیں، درگاہیں، امام بارگاہیں، چرچ اور مندر سب دہشت گردوں کے نشانے پر آ گئے۔
1999ء میں دوبارہ فوجی مداخلت ہوئی اور فوجی آمر نے اقتدار سنبھالا۔ یہ وہ دور تھا جب، امریکا افغانستان میں جہادیوں کے ساتھ ''جہاد'' میں مصروف نہیں تھا بلکہ اب وہ اپنے پیدا کردہ جہادیوں کے خلاف صف آرا ہو چکا تھا۔ وقت اور مصلحت دونوں کا تقاضہ تھا کہ امریکی حمایت حاصل کرنے کے لیے اب مذہب کے بجائے روشن خیالی کا سہارا لیا جائے۔ ایک آمر کے اقتدار میں آنے کو امریکا نے ابتداء میں اچھا تصور نہیں کیا لیکن 2001ء میں 9/11 کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کو موصوف کی ضرورت پڑ گئی اور ملک میں ایک نیا کھیل شروع ہو گیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنا ہمارے نئے آمر کے سیاسی عزم کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اقتدار کو مستحکم کرنے کے لیے انھیں امریکا کی مالی، فوجی اور سیاسی حمایت درکار تھی۔
جب فیصلوں کے پس پشت محض مخصوص مفادات کار فرما ہوں تو مثبت نتائج کا برآمد ہونا کیسے ممکن ہے؟ ہمارے اب تک کے آخری آمر کے پورے دور اقتدار میں بھی یہی ہوا۔ موصوف کی مصلحتوں کے باعث ان کی پالیسیوں میں دو عملی پیدا ہوئی۔ طالبان کو امریکا سے ڈرایا گیا، امریکا کو طالبان سے خوف زدہ رکھا گیا۔ اس صورت حال کے باعث ملک میں طالبان اور امریکا ایک ساتھ دندنانے لگے۔ فرقہ وارانہ کشیدگی میں مبتلا پاکستان، بھیانک دہشت گردی کی لپیٹ میں آ گیا۔
اس کی ہمارے ملک نے جو قیمت ادا کی وہ کچھ یوں ہے کہ اب تک 55 ہزار شہری، 5500 فوجی اس جنگ کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ ملک کو کئی سو ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے اور پاکستان دنیا کی نظر میں ایک انتہائی خطرناک ملک بن گیا ہے۔ 2001ء کے بعد سے دہشت گردی کے درجنوں نہیں سیکڑوں واقعات ہو چکے ہیں۔ ان میں غالباً سب سے ہولناک واقعہ گزرے ہوئے سال کے آخری مہینے کی 16 تاریخ کو پیش آیا جب پشاور میں ایک اسکول کے 150 معصوم بچوں کو انتہائی بے دردی اور سفاکی سے شہید کر دیا گیا۔
سوال یہ ہے کہ کیا نیا سال ہمارے اور پاکستان کے لیے کوئی اچھی خبر اور بہتر تبدیلی لا سکے گا؟ اس سوال کا جواب بہت مشکل ہے کیونکہ پاکستان کا بہتر مستقبل اس امر سے وابستہ ہے کہ ہماری ریاست ان تمام پالیسیوں کو خیرباد کہہ دے جن کی وجہ سے آج ملک اس ہولناک صورتحال سے دوچار ہے۔
سب سے پہلے ہمیں ایک بنیادی اصول کو ماننا ہو گا جس کے بعد ہی تلافی کے کسی عمل کی کامیابی کا تصور کرنا ممکن ہو سکے گا۔
ہمیں اس صداقت کو تسلیم کرنا ہو گا کہ آمروں کا انحصار عوام کی تائید اور حمایت پر نہیں ہوتا کیونکہ وہ اقتدار پر عوامی منشا کے خلاف اور غاصبانہ طور پر قبضہ کرتے ہیں۔ انھیں عوام سے خوف آتا ہے لہٰذا وہ انھیں متحد نہیں بلکہ منقسم رکھتے ہیں ان کے اندر منافرت اور محاذ آرائی کے بیج بوتے ہیں۔ آمروں کے برعکس منتخب جمہوری رہنما چونکہ عوام کے ووٹوں کے ذریعے اقتدار میں آتے ہیں اور انھیں ہر نسل، رنگ، طبقے، مذہب اور مسلک کے لوگوں سے ووٹ لینے ہوتے ہیں لہٰذا عوام کو بانٹنے کے بجائے انھیں متحد رکھنا ان کی ضرورت بلکہ مجبوری ہوتی ہے۔
اس اصول کا بہترین اطلاق ہمیں پاکستان میں نظر آتا ہے جہاں چار آمروں نے عوام کو زبان، قومیت، مذہب اور مسلک ہر اعتبار سے تقسیم کیا جس کا ایک بھیانک مظہر 16 دسمبر 2014ء کا المناک سانحہ تھا۔ پاکستان کو اگر بچانا ہے تو سب سے پہلے یہ طے کرنا یا کڑوا گھونٹ پینا ہو گا کہ اب ملک میں کبھی کسی آمر یا خود ساختہ مسیحا کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اس اصول پر اتفاق رائے کے بعد ہی تلافی کا نتیجہ خیز عمل اس وقت شروع ہو گا جب اس عمل میں عوام کو شریک کیا جائے گا۔ عوام دو طرح کے خوف میں بیک وقت مبتلا کر دیے گئے ہیں۔ ان کا پہلا خوف یہ ہے کہ پوری دنیا بالخصوص یہود، ہنود، عیسائی، امریکا اور مغرب سب ہمارے دشمن ہیں۔ اس خوف سے آزادی صرف اس وقت ملے گی جب تک ہم اس خود ساختہ مفروضہ کو رد نہیں کرتے جو عوام کے ذہنوں میں راسخ کر دیا گیا ہے۔ یہ غلط مفروضہ کہتا ہے کہ چونکہ ہم مسلمان ہیں لہٰذا سب ہمارے خلاف ہیں۔ لوگوں کو بتانا ہو گا کہ تنوع کا مطلب تضاد نہیں ہوتا۔ دنیا میں درجنوں چھوٹے بڑے مذاہب موجود ہیں۔ سیکڑوں مسلک، قومیں، نسلیں اور زبانیں ہیں۔
کیا وہ سب ایک دوسرے کے خلاف حالت جنگ میں ہیں؟رنگا رنگی اور تنوع منفی نہیں مثبت چیز ہے۔ ہمیں اس تلخ سچائی کا اعتراف کرنا ہو گا کہ اپنی ذہنی، علمی اور معاشی پس ماندگی کے ذمے دار ہم خود ہیں۔ ہمیں محنت کرنے سے کسی نے نہیں روکا۔ عزم اور لگن کی کمی تو ہمارے اندر ہے۔ کسی کو مورد الزام ٹھہرانا خود فریبی کے سواکچھ نہیں۔ یہ پیغام ہمارے جمہوری حکمرانوں، سیاستدانوں، دانش وروں، علما اور طاقت ور حلقوں کی طرف آنا چاہیے تب ہی پاکستان کے لوگ خارجی خوف کی اس کیفیت سے باہر نکل سکیں گے۔
ہمارے عوام کے دوسرے خوف کی نوعیت داخلی ہے۔ ہر قومیت دوسری قومیت سے، ہر مسلک دوسرے مسلک سے، ہر نسل دوسری نسل سے خوف میں مبتلا ہے۔ عوام کو اس خوف سے صرف جمہوری عمل کے پائیدار تسلسل کے ذریعے چھٹکارا دلایا جا سکتا ہے۔ آئین کے تحت ہر صوبے کو اس کے حقوق ملیں، کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو، قانون کی نظر میں واقعتاً سب مساوی ہوں اور قانون بھی سب کے لیے مساوی ہو۔ تب ہی عوام میں نسلی، لسانی، قومیتی، مسلکی اور مذہبی حوالوں سے موجودہ خوف اور احساس عدم تحفظ کاخاتمہ ممکن ہو سکے گا۔
گزشتہ برسوں میں جو کچھ غلط ہوا۔ اس کی تلافی کا کام شروع ہونا چاہیے۔ اس کام میں سب کو اپنے مخصوص سیاسی و غیر سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر شریک ہونا پڑے گا۔
نیا سال ہم سے سوال کرتا ہے کہ کیا ہم سب اس کام کیلیے تیار ہیں؟