دو مزید سانحات
آگ لگنےکی صورت میں آگ بجھانےوالے آلات 90فیصد اداروں میں موجود نہیں ہوتےاوراگر ہوتے بھی ہیں تو ناقابل استعمال ہوتے ہیں۔
پچھلے ایک ہفتے کے دوران آتشزدگی کی دو بہت بڑی ''وارداتیں'' ہوئیں، پہلی واردات یا سانحہ کراچی کی معروف ٹمبر مارکیٹ میں پیش آیا جو لگ بھگ بارہ گھنٹے جاری رہا، یعنی ٹمبر مارکیٹ میں بھڑکی ہوئی یہ آگ بارہ گھنٹے بھڑکتی رہی۔ ایک اندازے کے مطابق اس آتش زدگی سے لگ بھگ چار ارب روپے کا نقصان ہوا۔ٹمبر مارکیٹ کے مالکان کا کہنا ہے کہ شارٹ سرکٹ سے جیسے ہی آگ لگی فائر اسٹیشنوں کو اطلاع دے دی گئی لیکن فائر ٹینڈر بروقت پہنچنے کے بجائے گھنٹوں لیٹ پہنچے۔
انتظامیہ کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ جیسے ہی آگ لگنے کی اطلاع ملی فائر ٹینڈر موقع پر پہنچ گئے تھے، اس موقف کو ٹمبر مارکیٹ کے مکین غلط اور پرفریب کہتے ہیں، ویسے بھی یہ عام فہم بات ہے کہ اگر فائر ٹینڈر وقت پر پہنچتے تو نہ آگ اس قدر پھیلتی نہ اس قدر نقصان ہوتا۔ انتظامیہ کا دوسرا بہانہ یہ ہے کہ ٹمبر مارکیٹ کے ساتھ گلیاں اس قدر چھوٹی ہیں کہ فائر ٹینڈرز کا ان گلیوں میں جانا ممکن نہیں جس کی وجہ آگ پر جلد قابو نہیں پایا جاسکا۔
کراچی سیکڑوں میلوں پر پھیلا ہوا دو کروڑ انسانوں کا ایک ایسا شہر ہے جس میں آتشزدگی کے امکانات ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ ہمیں کسی بڑے حادثے کے بعد یہ خیال آتا ہے کہ ہمارے پاس ضرورت کے مطابق فائر ٹینڈر نہیں ہیں، پانی کی سپلائی ضرورت کے مطابق نہیں ہے، گلیاں چھوٹی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اسے عذر لنگ یا خوئے بد را بہانے بسیار کے علاوہ کیا کہا جاسکتا ہے۔
کراچی میں بلدیہ عظمیٰ کے زیر انتظام اس قسم کے سانحات سے نمٹنے کے لیے ایک ادارہ ''اربن سرچ اینڈ ریسکیو اکیڈمی'' کے نام سے قائم کیا گیا تھا جس میں 84 تربیت یافتہ افراد ملازم تھے، چند سال پہلے ہیوسٹن کی انتظامیہ نے اس ادارے کو کروڑوں روپے کے جدید آلات مفت فراہم کیے تھے جو اس قسم کے ناگہانی موقعوں پر بہتر طریقے سے استعمال کیے جاسکتے تھے۔
کروڑوں روپے کے ہیوسٹن انتظامیہ کی طرف سے فراہم کردہ یہ جدید آلات بلدیہ عظمیٰ کے گوداموں میں پڑے پڑے خراب ہوچکے ہیں، یہاں کام کرنے والے 84 تربیت یافتہ ملازمین میں سے اب صرف چند ملازمین موجود ہیں، باقی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے جاچکے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قومی جرم کی ذمے داری کیا صرف بلدیہ پر عائد ہوتی ہے ؟ یا صوبائی حکومت بھی اس کی ذمے دار ہے؟
یہ شکایت عام ہے کہ آگ لگنے کی صورت میں آگ بجھانے والے آلات 90 فیصد اداروں میں موجود نہیں ہوتے اور اگر ہوتے بھی ہیں تو ناقابل استعمال ہوتے ہیں، چند سال پہلے بلدیہ میں ایک گارمنٹس فیکٹری کی آگ میں 400 سے زیادہ افراد زندہ جل گئے تھے یہاں بھی اور دوسری کمزوریوں کے علاوہ آگ بجھانے والے آلات کا فقدان تھا۔ اس سانحے کے متاثرین برسوں سے معاوضے کے حصول میں سرگرداں ہیں ۔
نیو انارکلی پلازہ لاہور میں بھی شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگ گئی، چونکہ پلازہ میں بیٹریوں اور کیمیکل کی دکانیں بھی تھیں، اس لیے یہاں آگ اس قدر تیزی سے پھیلی کہ پلازہ کی چار منزلیں آگ کی لپیٹ میں آگئیں، پلازہ میں پھنسے ہوئے افراد مدد کے لیے چیختے رہے لیکن ان کی آواز صدا بہ صحرا اس لیے ثابت ہوئی کہ آگ اتنی شدید تھی کہ پلازہ میں پھنسے ہوئے لوگوں کی مدد ممکن نہ رہی۔
جس وقت آگ لگی اس وقت عمارت میں 35-30 لوگ موجود تھے جن میں سے 14 افراد بری طرح آگ کی لپیٹ میں آگئے تھے جنھیں فوری اسپتال پہنچایا گیا، 14 میں سے 13 افراد جاں بحق ہوئے، ایک شدید زخمی ہوگیا۔ تین گھنٹے کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا گیا۔ کراچی کی ٹمبر مارکیٹ کی طرح یہاں بھی فائرٹینڈر دیر سے پہنچے اور گلیاں تنگ ہونے کی شکایت رہی۔ اس قسم کی رہائشی آبادیوں کا المیہ یہ ہے کہ آگ میں پھنسے ہوئے لوگ مدد کے لیے چلاتے رہتے ہیں اور آگ سے باہر رہنے والے عزیز و اقارب ان کی مدد کرنے کے قابل نہیں رہتے صرف دھاڑیں مار کر روتے اور کف افسوس ملتے رہتے ہیں۔ انارکلی پلازہ میں بھی یہی ہوا۔
کراچی کی ٹمبر مارکیٹ میں جانی نقصان نہیں ہوا لیکن چار ارب کا مالی نقصان ہوا۔ انارکلی لاہور کی آگ نے بھاری مالی نقصان کے ساتھ ساتھ 13 جانیں بھی لے لیں۔ لاہور میں ماڈل ٹاؤن کے المیے میں 14 افراد پولیس کی گولیوں سے شہید ہوئے تھے، اس سانحے یا قتل عمد کے ملزموں کا چار ماہ بعد بھی تعین نہ ہوسکا اور امید یہی ہے کہ انارکلی پلازہ کے مقتولین کو بھی کسی تحقیقی کمیٹی کے سپرد کردیا جائے گا، اصل ملزم بلکہ مجرم یہاں بھی نظروں سے اوجھل رہیں گے۔ ہمارے سیاستدان جمہوریت کو بچانے کے لیے تو لمبی لمبی ہانکتے ہیں لیکن جمہوری اخلاقیات کے حوالے سے ان کے منہ پر تالے پڑے رہتے ہیں، دنیا کے دوسرے جمہوری ملکوں میں اس قسم کا سانحہ ہو تو بلاتاخیر متعلقہ حکام مستعفی ہوجاتے ہیں۔
کراچی کی ٹمبر مارکیٹ کی آگ کی ذمے داری کس پر عائد ہوگی، یہی اہم مسئلہ ہے۔ کراچی کی نمایندہ جماعت اس سانحے کی ذمے داری صوبائی حکومت پر ڈال رہی ہے، اس کا کہنا ہے کہ فائر ٹینڈر اگر وقت پر پہنچتے تو اتنا شدید نقصان نہ ہوتا، چونکہ فائرٹینڈر بلدیہ عظمی کی تحویل میں ہوتے ہیں لہٰذا اس نقصان کی بنیادی ذمے داری اسی ادارے پر عائد ہوتی ہے لیکن خود بلدیہ صوبائی حکومت کے تابع ہے لہٰذا اس سانحے کی اصل ذمے داری صوبائی حکومت اور متعلقہ وزیر پر عائد ہوگی۔
متحدہ بھی صوبائی حکومت کو اس سانحے کا ذمے دار قرار دے کر وزیر بلدیات سے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے لیکن جس ملک میں جمہوری اخلاقیات منوں مٹی کے نیچے دفن ہوں وہاں کسی وزیر سے استعفے کا مطالبہ کرنا بھی ایک غیر جمہوری فعل نظر آتا ہے۔ بلدیہ کی گارمنٹ فیکٹری میں چار سو معصوم لوگ جل کر خاک ہوگئے لیکن جمہوری اخلاقیات پر خاک ہی اڑتی رہی، کسی وزیر نے نہ استعفیٰ دیا نہ جمہوریت کو کوئی نقصان پہنچا۔ ہم جس جمہوریت میں زندہ ہیں اس میں چار سو کیا چار ہزار لوگ بھی سانحات کی نذر ہوجائیں تو جمہوریت کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑسکتا۔
اسی تناظر میں اہل دانش ، اہل فکر کہہ رہے ہیں کہ اس سسٹم کے رہتے ہوئے کسی انصاف کی توقع ایک احمقانہ خواہش کے علاوہ کچھ نہیں اگر معاشرے میں جگہ جگہ لگنے والی آگ سے عوام کو بچانا ہے تو پھر اس سڑے گلے، عام دشمن، کرپٹ نظام کو آگ لگانا ہوگا اس کے علاوہ ساری باتیں وقت کا زیاں ہیں۔