سوال یہ ہے

مذہبی انتہاپسندوں کی پشت پناہی مذہبی جماعتوں نے سب سے زیادہ کی اور وہ آج بھی ان کے لیے ڈھال بنی ہوئی ہیں۔


Dr Tauseef Ahmed Khan January 06, 2015
[email protected]

قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کی عائشہ سید نے سانحہ پشاور پرماتم کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پھول جیسے جنازوںکو دیکھا، یوں ایوان کا ماحول رنجیدہ ہوگیا۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے سانحے کے ذمے دار طالبان کے خلاف آپریشن ضربِ عضب کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوجی آپریشن مسئلے کا حل نہیں ۔ اب مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ مدارس کو ریگولیٹ کرنے کا معاملہ قومی ایکشن پلان سے علیحدہ کردینا چاہیے ۔

فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے آل پارٹیز کانفرنس میں شریک قومی سیاسی رہنماؤں کو بتایا کہ خصوصی فوجی عدالتیں فوج کی خواہش نہیں، یہ حالات کا تقاضہ ہیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے بعد یہ عدالتیں ختم ہوجائیں گی ۔ یوں آرمی ایکٹ میں ترمیم کے لیے آئین کی 21 ویں ترمیم پر پارلیمنٹ میں موجود سیاسی رہنما متفق ہوگئے ۔ اب دہشت گردوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں چلیں گے ۔ نئے سال کے آغاز پر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ سزائے موت دینے سے دہشت گردی کی جڑیں ختم ہوجائیں گی؟ جماعت اسلامی کی رکن قومی اسمبلی عائشہ سید پشاور پبلک اسکول کے بچوں کے قتلِ عام پر شدید صدمے کا شکار ہیں مگر ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے انھیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ مذہبی انتہاپسندوں کی پشت پناہی مذہبی جماعتوں نے سب سے زیادہ کی اور وہ آج بھی ان کے لیے ڈھال بنی ہوئی ہیں ۔

90 ء کی دہائی کو یاد کریں تو بہت کچھ واضح ہوتا ہے جب افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی اور طالبان نے خواتین کی تعلیم پر پابندی اور اقلیتوں کو مخصوص لباس پہننے پر مجبورکیا، پھر بامیان میں مہاتما بدھ کے مجسموں کو مسمار کیا گیا تو جماعت اسلامی نے چونکہ چناچہ کی پالیسی اختیار کی۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے نجی محافل میں تو طالبان کے اقدامات کو غیر ضروری قرار دیا مگر ذرایع ابلاغ میں کبھی مذمت نہیں کی ۔ نائن الیون کی دہشت گردی کے بعد اتحادی افواج نے حملہ کیا تو طالبان کی حمایت میں فضا ہموارکی، جب پاکستانی طالبان نے سوات پر قبضہ کیا اور مولوی فضل اﷲ نے ایف ایم ریڈیو کے ذریعے رجعت پسندانہ پروپیگنڈا کیا اور خواتین کے تعلیمی اداروں کو بند کیا تو جماعت اسلامی سمیت دیگر مذہبی جماعتیں ان کی ہم نوا ہوئیں ۔

سوات کے ایک اسکول کی بچی ملالہ نے تعلیم کے حق کے لیے طالبان کو چیلنج کیا نتیجتاً انتہا پسندوں نے ملالہ کی جان لینے کی کوشش کی تو یہ جماعتیں ملالہ کے خلاف پروپیگنڈا کرنے لگیں۔ مذہبی انتہاپسندوں نے قبائلی علاقوں اور خیبر پختون خوا میں اسکولوں کی عمارتوں، خاص طور پر خواتین کے اسکولوں کو تباہ کیا، اس طرح ایک ہزار کے قریب اسکولوں کی عمارتیں تباہ ہوگئیں مگر جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے کہا کہ چونکہ ان اسکولوں میں پاکستان فوج کے سپاہی مقیم تھے لہٰذا یہ کارروائی کرنے والے حق بجانب ہے اور جب انتہاپسند طالبان نے ظلم کیے تو یہ عناصر خاموشی اختیار کر گئے۔ انتہاپسندی کی حمایت میں جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی وسیاسی جماعتوں کا منفی کردار رہا۔

پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں انتہا پسندی کو فروغ دینے والا مواد شامل ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی حکمت عملی کے تحت سوویت یونین اور افغانستان کی حکومت کے خلاف انتہا پسندی کو فروغ دینے کے لیے نصاب میں تبدیلی کی گئی، اس مواد کو حذف کر کے نوجوانوں کو انتہاپسندوں کی فوج میں شامل ہونے سے روکا جاسکتا ہے مگر مذہبی جماعتوں نے نصاب کی تبدیلی کے خلاف مزاحمت شروع کردی۔ جب کہ عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت نے نصاب میں تبدیلی کی۔ دہشت گردی کی جڑیں کاٹنے کا معاملہ مدارس میں دی جانے والی تعلیم سے منسلک ہے۔

مذہبی حلقے اس حقیقت کو کتنا ہی جھٹلائیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ انتہاپسندوں کی نرسری مدارس تھے، جدید تعلیم حاصل کرنے والے افراد بھی اس سے متاثر ہوئے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ ہر مدرسے میں دہشت گردوں کو عسکری تربیت نہیں دی جاتی مگر سوال مائنڈ سیٹ کا ہے۔کوئی بھی باشعور شخص اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ بیشتر مدارس کا نصاب پرانا ہے۔ ڈاکٹر شکیل اوج شہید کا کہنا تھا کہ مغلوں کے دور سے پہلے منطق ،فلسفہ اورجومیٹری نصاب میں شامل تھے مگر پھر یہ مضامین حذف کردیے گئے۔ ہر فقہ کے مدرسہ کا نظام علیحدہ ہے۔ روشن خیال عالم کہتے ہیں کہ جہاد کے وسیع معنی ہیں مگر بدقسمتی سے بعض مدارس سے فارغ ہونے والے طلبا کے ذہنوں میں جہاد کو مخصوص انداز میں ڈالا جاتا ہے۔ گزشتہ 5 برسوں میں دہشت گردی کے واقعات میں خودکش حملہ آوروں کے بارے میں رپورٹوں کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ خودکش حملہ آوروں کی اکثریت کا تعلق مدارس سے رہا ہے۔

اس بات پر بھی تعلیمی ماہرین متفق ہیں کہ مدارس غریب کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں جہاں بچوں کو رہائش اور کپڑے مفت فراہم کیے جاتے ہیں اور مدارس نے بہت سے جید علماء کو پیدا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مدارس کو بند کرنے کا کوئی مطالبہ نہیں کرتا بلکہ مدارس کی تنظیمِ نو کی بات کی جاتی ہے۔ علماء اس حقیقت کو کیوں محسوس نہیں کرتے کہ جدید تعلیمی اداروں کا طالب علم کسی بھی اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں داخلے کا اہل ہوتا ہے، ان میں عیسائی مشنریوں کے تعلیمی ادارے بھی شامل ہیں مگر ایک فقہ میں پڑھنے والا طالب علم دوسرے فقہ کے مدرسے میں داخل نہیں ہوسکتا۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے مدارس میں بڑے پیمانے پر اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں۔ ایک اہم مسئلہ اسلحے کی فراہمی کا ہے، اگر اسلحے کی فراہمی روک دی جائے اور غیر قانونی اسلحے کا کاروبار کرنے والے بااثر افراد کو سخت ترین سزائیں دی جائیں تو دہشت گردوں کو اپنی خواہشات کو پورا کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔

ایکشن پلان میں جنونی مواد کا خاتمہ شامل ہے مگر اس ضمن میں مذہبی ٹی وی چینلز کے مواد کی نگرانی کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے۔ حکومت کے زیر اہتمام تمام مکاتبِ فکر کے علماء کے بار بار اجلاس منعقد کیے جائیں۔ ان اجلاسوں میں واضح طور پر کہا جائے کہ تمام فرقوں اور مسالک کے ماننے والے مسلمان ہیں اور کسی فرقے اور مسلک سے تعلق رکھنے والے فرد کا قتل انسانیت کا قتل ہے۔ یوں فرقہ پرستانہ سوچ کا خاتمہ ہوگا۔ اگر ایک فقہ کے علماء دوسرے فقہ کی مسجد جا کر وعظ کریں اور یہ وعظ مذہبی چینلز ٹیلی کاسٹ کریں تو انتہاپسندی کا تدارک ہوسکتا ہے۔ مذہبی جماعتوں کو اپنے دہرے رویے سے نجات حاصل کرنی چاہیے اور طالبان کی شدید مذمت کرنی چاہیے۔

محض پھانسیاں دینے سے انتہاپسندی ختم نہیں ہوگی بلکہ کچھ بے گناہ پھانسی چڑھ جائیں گے مگر مذہبی جماعتوں کے رویے میں تبدیلی، مدارس میں اصلاحات، اسلحے کی نقل و حمل پر پابندی اور ریاستی اداروں کے بیانیہ میں تبدیلی سے انتہاپسندی کا خاتمہ ممکن ہوگا۔ مولانا عبدالعزیز کے خلاف کارروائی نہ ہوئی اور سلمان تاثیر کی برسی پر حملہ کرنے والوں کو سزائیں نہ ملیں تو تو اے پی سی میں طے شدہ اہداف کبھی پورے نہیں ہو سکیں گے ۔