رضا ربانی کا موقف اور انتہاپسندی

مذہبی انتہاپسندی امریکی سی آئی اے کے سوویت یونین کے خاتمے کی حکمت عملی کے نتیجے میں پروان چڑھی۔


Dr Tauseef Ahmed Khan January 09, 2015
[email protected]

لاہور: صدرِ پاکستان ممنون حسین نے آئین میں کی گئی 21 ویں ترمیم کی منظوری دے دی، یوں آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بعد خصوصی عدالتوں کے قیام کے لیے راستہ ہموار ہو گیا۔ معروف پارلیمنٹیرین اور پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی نے شرمندگی کے سائے میں اس آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔ جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمن نے آئینی ترمیم اور دہشتگردی کے خلاف ایکشن پروگرام کو ملک کو سیکولر بنانے کی سازش قرار دے دیا۔ یوں جے یو آئی کابینہ میں شامل تو رہے گی مگر ملک کو سیکولر بنانے کی حکومتی سازش کے خلاف مزاحمت بھی کرے گی۔ پیپلز پارٹی نے فوجی حکومتوں کے خلاف طویل جدوجہد کی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما جنرل یحییٰ خان اور جنرل ضیاء الحق کی فوجی عدالتوں سے سزائیں پاتے رہے ہیں۔

اس ملک میں سوسالہ قدیم عدالتی نظام موجود ہے۔ اس عدالتی نظام کی اپنی روایات اور فیصلے ہیں۔ ان عدالتوں کے فیصلوں کی ریاست کے تمام ستون پابندی کرتے ہیں۔ یہ عدالتیں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت دے چکی ہیں اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو تا برخاست عدالت سزا دے کر انھیں وزیر اعظم کے عہدے سے محروم کیا جا چکا ہے۔ مگر جب 2007ء میں سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چوہدری کو ان کے عہدے سے محروم کیا گیا تھا اور وکلاء نے تاریخ ساز جدوجہد کی تھی۔ اس جدوجہد میں پیپلز پارٹی نے بھرپور حصہ لیا تھا۔ چیف جسٹس کی بحالی کی اس مہم میں پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے اپنا خون دیا تھا۔ اگرچہ افتخار چوہدری کی بحالی کے بعد بھی عدالتوں کی عوام کو انصاف دلانے کی امید بر نہ آئی۔ عدالتی نظام کا جائزہ لینے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جدید عدالتی نظام میں بہت سی خامیاں پیدا ہو گئی ہیں۔

ان ماہرین کا کہنا ہے کہ مجسٹریٹ کی عدالت سے لے کر سپریم کورٹ تک میں مقدمات کی بھرمار ہے۔ پھر ہر سطح پر ججوں، عملے اور عدالتوں کی کمی میں ملک کی بعض چھوٹی عدالتوں میں اسٹیشنری اور فرنیچر کی کمی نے عدالتوں کی کارکردگی کو متاثر کیا ہے۔ بعض ماہرین کہتے ہیں کہ وکلاء کے مقدمات کو طویل کرنے کے مختلف طریقوں نے انصاف کے حصول میں رکاوٹ ڈالی۔ فوجداری مقدمات میں پولیس کے تفتیشی نظام کے نقاص نے ملزموں کو سزاؤں سے بچایا۔ گواہوں، ججوں اور سرکاری وکلاء کا تحفظ نہ ہونے کی بناء پر انصاف کا حصول ممکن نہیں رہا۔ خاص طور پر دہشت گردی سے متعلق مقدمات میں گواہوں اور وکیلوں کو کوئی تحفظ نہ ملنے کی بناء پر بہت سے ملزمان بری ہو گئے۔ سینئر صحافی مظہر عباس کا کہنا ہے کہ اگر انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں پر توجہ دی جاتی، عدالتیں جیلوں میں قائم کی جاتیں، وکلاء، گواہوں اور ججوں کو تحفظ فراہم کیا جاتا۔

یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ انسانی حقوق کے وکیل عاقل لودھی نے اس صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر انسدادِ دہشتگردی کی عدالتوں میں ریٹائرڈ ججوں کے بجائے حاضر سروس ایڈیشنل سیشن جج فرائض انجام دیتے تو مقدمات کا فیصلہ جلد ہوتا۔ ایشیئن ڈیولپمنٹ بینک نے پاکستان میں عدالتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے اس صدی کے اوائل میں قرضے فراہم کیے تھے۔ اس قرضے سے عدالتوں میں کمپیوٹر فراہم کیے گئے اور بعض شہروں میں عدالتوں کو آئی ٹی کے جدید مواصلاتی نظام سے منسلک کیا گیا۔ اگر اس نظام کو پورے ملک میں پھیلایا جاتا تو انصاف کا حصول بہتر ہو جاتا۔ اب آئین میں کی گئی 21 ویں ترمیم کے تحت خصوصی عدالتوں کا قیام موجودہ عدالتی نظام سے متصادم ہے۔

جسٹس افتخار چوہدری یہ رائے دے چکے ہیں کہ یہ عدالتیں آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم ہیں۔ یوں اگر وکلاء کے منتخب ادارے پاکستان بار کونسل سمیت دیگر تنظیموں نے اس ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تو سپریم کورٹ نے اپنے ماضی کے فیصلوں کو مدنظر رکھا تو صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔ اگرچہ وزیر داخلہ فوجی عدالتوں کو بھیجے جانے والے مقدمات کی نوعیت کی وضاحت کر چکے ہیں مگر ماضی کے تجربات کی بناء پر رضا ربانی سمیت آئین کی بالادستی کی جدوجہد کرنے والے کارکن خوف کا شکار ہیں۔ رضا ربانی نے تو محض پارٹی ڈسپلن کی خاطر اس ترمیم کے حق میں ووٹ دے دیا مگر وکلاء بار بار یہ بات کر رہے ہیں کہ فوجی عدالتوں کے بجائے فوری انصاف کی عدالتیں بڑی تعداد میں قائم کی جائیں، ان عدالتوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور ان کی سختی سے نگرانی کی جائے تو ہی انصاف کا حصول آسان ہو گا، دہشت گردوں کو قرار واقعی سزا ملے گی اور آئین کے بنیادی ڈھانچے پر بھی کوئی زد نہیں آئے گی۔

مولانا فضل الرحمن کا مؤقف تضادات کا مجموعہ ہے۔ وہ بار بار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مذہبی دہشتگردی کوئی مسئلہ نہیں ہے، صرف دہشتگردی اصل مسئلہ ہے۔ وہ اس ضمن میں مذہبی انتہا پسندی کے عنصر کو محسوس نہیں کرتے۔ مذہبی انتہاپسندی امریکی سی آئی اے کے سوویت یونین کے خاتمے کی حکمت عملی کے نتیجے میں پروان چڑھی۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد اسٹیبلشمنٹ نے انتہاپسندی کو پروان چڑھایا۔ یوں انتہاپسندی نے مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے علاوہ غیر مسلم پاکستانی شہری بھی متاثر ہوئے۔ گزشتہ صدی کے آخری دو عشروں میں اقلیتی فرقوں کے مذہبی رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ شروع ہوئی۔

اقلیتی فرقے کے ڈاکٹر، انجنیئر، وکیل، سول سرونٹس، پولیس افسران اور دیگر پروفیشنلز اس کی لپیٹ میں آئے۔ نائن الیون کی دہشت گردی کے بعد اقلیتی فرقوں کو خودکش حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انتہاپسندی کی خبریں مدارس سے منسلک ہوئیں، جدید تعلیم یافتہ افراد اس انتہاپسندی کا شکار ہوئے۔ خود مولانا فضل الرحمن دو سے زائد مرتبہ مذہبی دہشت گردوں کے حملوں کی زد میں آئے۔ مولانا فضل الرحمن کا قصور صرف یہ تھا کہ انھوں نے پارلیمانی نظامِ حکومت پر اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ مولانا پارلیمنٹ جیسے سیکیولر ادارے کے ذریعے اسلامی قوانین کا نفاذ چاہتے ہیں مگر انھوں نے انتہاپسندی کے خاتمے کے ایجنڈے کو مسترد کر دیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن مذہبی انتہاپسندوں کو رام کرنا چاہتے ہیں مگر مذہبی انتہاپسندی کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان انتہاپسند دہشتگردوں کا ایجنڈا پاکستانی ریاست کے تشخص کو مسخ کرنا اور مخصوص فرقے کی آمریت قائم کرنا ہے۔

مولانا فضل الرحمن ان انتہاپسند قوتوں کو خوش کرنے کی بے مقصد کوشش کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کو مذہبی انتہاپسندی کے خلاف سخت موقف اختیار کرنا چاہیے۔ انھیں عوام کو بتانا چاہیے کہ 1973ء کے آئین کی بالادستی اور موجودہ پارلیمانی نظام پر اعتماد کر کے ہر شہری کو تحفظ ملتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن انتہاپسندوں کے لیے کتنا ہی نرم گوشہ رکھیں لیکن نجات کا راستہ ہی انتہاپسندی کا خاتمہ ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی رضا ربانی اور بلاول بھٹو زرداری کو اپنے مؤقف کی کھل کر وضاحت کرنی چاہیے۔ پیپلز پارٹی کا مؤقف مذہبی انتہاپسندی کے حق میں نہیں ہے، اس کی وضاحت ضروری ہے ورنہ فائدہ دہشتگردوں کو ہو گا۔