دہشت بہ مقابلہ دلیل
دہشت گردی یوں تو ساری دنیا کے لیے ایک پریشان کن مظہر ہے۔
پیرس سے خبر آئی ہے لیکن پیرس سے ہی کیا دنیا کے مختلف علاقوں سے روزانہ وحشت ناک خبریں چلی آتی ہیں۔ کسی کا دعویٰ ہے کہ اس نے اپنے مذہبی جذبات کے مجروح ہونے کا انتقام لے لیا، کسی کے خیال میں وہ اپنے ہم مذہب مسلمانوں کو قتل کر کے جنت میں محل پر محل تعمیر کر رہا ہے، کوئی جدید تعلیم کو حرام قرار دے کر اسکولوں میں پڑھنے والی لڑکیوں کو اغواء کر رہا ہے، جبری طور پر انھیں اپنے حرم میں داخل کر رہا ہے، درجنوں بچے ذبح کیے جا رہے ہیں، انھیں گولیاں ماری جا رہی ہیں اور پھر اس پر فخر کیا جا رہا ہے۔
یہ ناقابل یقین واقعات ہیں۔ ان کی تفصیلات بدن پر لرزہ طاری کر دیتی ہیں۔ سڑکوں پر چلنے والوں، بسوں کی چھت پر چڑھ کر سفر کرنے والوں، حق حلال کی روزی کمانے کی تگ و دو میں مصروف لوگوں پر ایک نگاہ ڈالیے، ان کے جوتے پھٹے ہوئے ہیں، کپڑے ادھڑے ہوئے ہیں، ان کے والدین اور بچے دوا نہ ملنے کے سبب جاں بحق ہو جاتے ہیں، وہ خود بہ مشکل اپنے بچوں کی اور اپنی بھوک مٹا سکتے ہیں، اس کے باوجود ان کی اکثریت چوری نہیں کرتی، ڈاکے نہیں ڈالتی، قتل نہیں کرتی، سیاسی جدوجہد کرتی ہے، ووٹ کے ذریعے تبدیلی کی خواہش کرتی ہے اور حوصلے اور صبر و شکر سے زندگی گزارتی ہے۔ چند دہائیوں سے ہمارے یہاں یہ کیسے لوگوں کی فصل تیار ہوئی ہے جو عقیدے کے نام پر انسانیت کے خلاف تمام جرائم کرتے چلے جاتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ یہ سب کچھ وہ خدا کی رضا اور جنت کے حصول کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اس گروہ نے اپنے ہی ہم مذہب لوگوں کو اپنے نشانے پر رکھ لیا ہے۔ یہ ایک اندوہ ناک صورت حال ہے جس سے دنیا بھر کے مسلمان دوچار ہیں ۔
اس بارے میں ضیاء الدین سردار کی کتاب ''Desparately Seeking Paradise'،اہمیت کی حامل ہے۔ اردو میں اسے 2009ء میں ''شہرزاد'،نے شائع کیا تھا اور میں نے اس کے بارے میں لکھا بھی تھا۔ پشاور جیسے سفاکانہ واقعے کے بعد چند لوگوں کا اصرار رہا کہ اس کتاب کے بارے میں مجھے پھر سے لکھنا چاہیے۔ شاید انتہا پسندی کا رجحان رکھنے والے یا اسے اختیار کرنے والے کچھ لوگوں کو اندازہ ہو کہ وہ کیا کر رہے ہیں ۔
دہشت گردی یوں تو ساری دنیا کے لیے ایک پریشان کن مظہر ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کا اصل دائرہ مسلمان ملکوں بالخصوص پاکستان کو اپنے حصار میں لیتا ہے۔ اس کا المناک پہلو یہ ہے کہ جن افراد اور جن گروہوں سے دہشت گردی کے یہ معاملات منسوب ہوتے ہیں وہ عموماً ان خونیں واقعات کا سہرا اعلانیہ اپنے سر باندھتے ہیں۔ ان حملوں کا ارتکاب کرنے والے اور ان کا شکار ہونے والے دونوں ہی مسلمان ہیں۔ یہ مسلم عسکریت پسندی،بہ ظاہر نیا مظہر ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ انیسویں اور بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں سے مسلم معاشروں میں پرورش پا رہی تھی۔
ضیاء الدین سردار کی اس کتاب کو اردو کے معروف ادیب اور کالم نگار مسعود اشعر نے ترجمہ کیا ہے۔ آج پاکستان جس ہولناک بحران سے دوچار ہے۔ اس میں ''جنت کے لیے سرگرداں'،جیسی کتابیں مسلم امہ کے مضطرب نوجوانوں کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ انتہا پسندی اور عسکریت پسندی جو آخر کار آگ اور خون کے کھیل پر منتج ہوتی ہے، اس کے بارے میں زیر نظر کتاب دراصل ''تلاش'،کی کہانی ہے جس میں مصنف نے ہزاروں میل کا سفر کیا۔ کئی براعظموں سے گزرے،کئی ملکوں میں ٹھہرے اور اس دوران اخوان المسلمون سے لے کر جماعت اسلامی،تبلیغی جماعت اور طالبان تک سب سے رابطے میں آئے۔ لندن میں مقیم73 سالہ ضیا سردار اور ان کی کتاب کا تفصیلی تعارف ہمارے دانشور اور ادیب محمد کاظم نے کرایا ہے۔
یوں تو ضیاء صاحب کی 40 کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور وہ مقبول برطانوی رسائل و جرائد میں لکھتے ہیں لیکن کاظم نے ان کے مضمون ''دہشت گردی کے خلاف فتویٰ'،کا بہ طور خاص ذکر کیا ہے۔ یہ مضمون جون 2008ء کے 'نیو اسٹیٹس مین،میں شائع ہوا تھا۔ اس مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کاظم لکھتے ہیں کہ ''اسلام کے نزدیک فساد اور بدامنی پیدا کرنا،امن کو پامال کرنا،بلوا کرنا،خون خرابہ کرنا،لوٹ مار کرنا سماج میں اور دنیا میں کسی بھی جگہ بے گناہ انسانوں کو قتل کرنا، یہ سب اعمال انتہائی غیر انسانی جرائم ہیں۔''
یہ فتویٰ دیوبند کے مفتیٔ اعظم مولانا حبیب الرحمان نے جاری کیا اور اس پر ان کے تین نائب مفتیوں کے بھی دستخط ہیں۔ چنانچہ یہ فتویٰ ایک فرد کی طرف سے نہیں بلکہ مسلمانوں کے ایک محترم دینی اور علمی ادارے کی طرف سے آیا ہے۔ ہمارے خیال میں پاکستان کے اندر اور خصوصیت کے ساتھ اس کے شمالی اور قبائلی علاقہ جات میں آج کل کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اس فتوے کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کی بے حد ضرورت ہے۔''
ہمارے روادار،کثیر المشرب اور صلح جُو سماج میں دہشت گردی کا دائرہ ان لوگوں نے کھینچا ہے جنھیں ''جنت الفردوس'،کی تلاش تھی۔ اس جستجو میں وہ انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کی راہوں سے گزرتے ہوئے دہشت گردی کا جہنم بھڑکانے لگے۔ یہ ''رہ نما'،اور ''راہبر''،کسی غار،گپھا ،سرنگ یا کسی بڑے شہر کے ریڈ زون کے پُر آسائش مکان میں محفوظ و مامون زندگی گزارتے ہیں اور اس لذت سے سرشار ہیں کہ ان کے فرمودات کو عقل کی کسوٹی پر، پرکھنے کی صلاحیت سے عاری نوجوان انھیں اپنا آقا و مولا سمجھتے ہیں۔ ان کے حکم کی تعمیل سوچے سمجھے بغیر کرتے ہیں اور ان کے دکھائے ہوئے آسمانی خوابوں کی دھند میں بھٹکتے ہوئے وہ خود بھی جان سے گزرتے ہیں اور اپنے ساتھ ان گنت بے گناہ انسانوں کو خاک و خون میں نہلاتے ہیں جو ان کے ہم مذہب بھی ہیں اور ہم قبیلہ بھی۔
''جنت کی تلاش میں سرگرداں''ہونے والے اور اسی حوالے سے دنیا کے مختلف براعظموں کا سفر کرنے والے ضیاء الدین سردار خوش قسمت رہے کہ انھوں نے اس ''تلاش''میں عقل کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑا اور کسی کی بھی اندھی تقلید کرنے پر راضی نہ ہوئے۔ حد تو یہ ہے کہ سچ اور جنت کی تلاش میں وہ شرق اوسط اور یورپ کے شہروں سے گزر کر چین اور ملائشیا تک جا پہنچے۔
ان کا کہنا ہے کہ اکثر مسلمان سمجھتے ہیں کہ جنت زمین کا ایک ایسا ٹکڑا ہے جسے وہ نیک اعمال کی دولت جمع کر کے خرید سکتے ہیں اور ان کے نزدیک نیک اعمال یہ ہیں کہ شریعت کا ایسا تصور رائج کیا جائے، جس میں فنون لطیفہ،ادب اور کلچر پر پابندی لگا دی جائے اور اسلام کے نام پر دوسروں کو قتل کیا جائے یا خود قتل ہو جایا جائے۔ اس مفروضہ دولت کا حصول ان کی زندگی کا مقصد بن گیا ہے۔'،ایک ایسی صورتحال میں فردوس کا تمثیلی تصور بہت پیچھے رہ گیا ہے اور ہم دنیاوی جہنم میں دھکیل دیے گئے ہیں۔
ایڈولف ہٹلر نے 1924ء میں کہا تھا کہ دہشت اور قوت کے ذریعے عقل اور دلیل پر آسانی سے فتح حاصل کی جا سکتی ہے۔ کاش اس نے 25 قبل مسیح کے دانش مند ہاریس کا یہ جملہ پڑھ لیا ہوتا تو اسے خود کشی نہ کرنی پڑتی کہ طاقت اور جبر و استبداد چونکہ عقل اور دلیل سے محروم ہوتے ہیں اسی لیے وہ اپنے بوجھ سے خود ہی دوہرے ہو جاتے ہیں اور آخر کار شکست ان کا مقدر ہوتی ہے۔ کاش ہمارے بعض رہنما صرف اپنی ہی نہیں دوسروں کی تاریخ کو بھی پڑھیں،تاریخ سے زیادہ کوئی علم ہمیں حکمت تعلیم نہیں کرتا۔
اس کتاب کے آخری صفحوں کو پڑھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمان نوجوان جو خود کو ''مسلم امہ'،کا ایک حصہ سمجھتے ہیں،وہ ''تلاش'،کے کس عذاب میں گرفتار ہیں اور پھر ان ہی میں سے بہت سے ایسے ہیں جو ایک سنہرے زمانے کا خواب اپنی آنکھوں میں چھپا کر اس راستے پر نکل جاتے ہیں جس میں اپنے ہی ہم مذہب انسانوں کو سفاکی سے قتل کر دینا،بستیوں کی بستیاں اجاڑ دینا اور نوخیز نوجوانوں کے بدن اور ذہن چرا لینا،عورتوں کو دوسرے بلکہ تیسرے درجے کی مخلوق سمجھنا ان کا شعار ہو جا تا ہے۔
یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ مسلم امہ ان لوگوں کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر اور خود کو بارود سے اڑا کر جنت کی تلاش میں جائے یا گیارہویں اور بارہویں صدی کے روادار اور وسیع المشرب مسلم اسپین جیسے معاشرے کی تعمیر و تشکیل کی کوشش کرتے ہوئے دہشت گردی کے دائرے سے نکلنے کی کوشش کرے۔ وہ جنھوں نے ہمارے سماج میں دہشت گردی کے بیج بوئے اور بارود کے جس ڈھیر پر اپنے راج سنگھاسن بچھائے ہیں انھیں جاننا چاہیے کہ سنگینوں کی سیج پر کوئی بھی آرام نہیں کر سکتا اور بارود کے ڈھیر سے صرف موت اور بھوک اگتی ہے۔ انھیں اور ہم سب کو یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ دہشت اور طاقت کے ذریعے کبھی بھی دلیل اور عقل پر فتح حاصل نہیں کی جا سکتی۔ دہشت، دلیل کے سامنے ہمیشہ ہار جاتی ہے۔