2015ء میوزک انڈسٹری کا سال ہوگا

معروف نوجوان گلوکاروں نے سرحد پارمقبولیت کے جھنڈے گاڑنے کی ٹھان لی


Qaiser Iftikhar January 13, 2015
معروف نوجوان گلوکاروں نے سرحد پار مقبولیت کے جھنڈے گاڑنے کی ٹھان لی۔ فوٹو: فائل

HYDERABAD: پاکستانی زندگی کے کسی بھی شعبے سے وابستہ ہوں، وہ اپنی مثال آپ ہوتے ہیں۔ زندگی کے تمام شعبوں کی بات کی جائے تو ہمیں پاکستانیوں کی کارکردگی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔

اگربات کی جائے میوزک کی تواس میں بلاشبہ پاکستانی گلوکاروں اور سازندوں نے جوکارنامے انجام دیئے ہیں، اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ کلاسیکل، غزل، گیت، پاپ، فوک، صوفیانہ اورقوالی سمیت میوزک کی دیگراصناف اور سازوں میں پاکستانیوں نے پوری دنیا میں نام روشن کررکھا ہے۔



ماضی میں جس طرح شہنشاہ غزل مہدی حسن، ملکہ ترنم نورجہاں، استاد سلامت علیخاں، استاد امانت علی خاں، استاد نصرت فتح علیخاں، ریشماں، اقبال بانو، زبیدہ خانم، تصورخانم، فریدہ خانم، طفیل نیازی، عالم لوہار، عاشق جٹ، عابدہ پروین، عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی ، پرویز مہدی، عزیزمیاں، بدرمیانداد خاں، حاجی غلام فرید صابری اورغلام علی نے اپنے انوکھے انداز گائیکی سے دنیا بھرمیں شہرت اورکامیابیاں حاصل کی ہیں، اسی طرح موجودہ دورمیں یہ کمانڈ پاکستان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ گلوکاراستاد راحت فتح علی خاں نے سنبھال رکھی ہے۔

پڑوسی ملک بھارت میں کامیابیوں کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے راحت فتح علی خاں اب ہالی وڈ میں بھی بہت ساکام کررہے ہیں۔ جو رواں برس دنیا بھر میں سنا اور دیکھا جائے گا۔ ان کے علاوہ گلوکارسجاد علی، شفقت امانت، شاہدہ منی، جاوید بشیر، فریحہ پرویز، حمیرا ارشد، صنم ماروی، سائرہ نسیم، جواداحمد، فاخر، شازیہ منظور، رفاقت علی خاں، وارث بیگ، امجد صابری، سکندر بدر میانداد، علی عباس، سارہ رضاخان، امانت علی اور سٹرنگزبینڈ سمیت دیگربھی ملک اوربیرون ملک اپنے فن کی بدولت بہت کامیابیوں کے جھنڈے گاڑتے ہوئے نئی راہوں پرآگے بڑھ رہے ہیں۔



دیکھا جائے توپاکستان میوزک انڈسٹری سے وابستہ افراد کو ملکی صورتحال کے پیش نظر بہت سے مسائل کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجورہمارے گلوکار، سازندے اورمیوزک کے دیگرشعبوں سے وابستہ لوگ 2015ء میں نمایاں کام کرنے کیلئے بہت پرامید ہیں۔ جس طرح 2014ء میں بے پناہ مسائل کے باوجود ہمیں بہترین میوزک سننے کوملا، اس سال بھی امید کی جارہی ہے کہ جہاں میوزک انڈسٹری پربرسوں سے راج کرنے والے خوبصورت گیت، غزلیں، قوالی، صوفیانہ اورپاپ میوزک کے ذریعے ہمیں انٹرٹین کرینگے، وہیں پاکستان کا نام دنیا بھر میں بھی روشن کرینگے۔

ایک طرف توہمارے فنکاراپنے فن کی بدولت پاکستان کی خوبصورت ثقافت کو دنیا بھرمیں پہنچائیں گے، وہیں دوسری جانب امن، دوستی اوربھائی چارے کا پیغام بھی لوگوں تک پہنچے گا۔ جبکہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت جہاں پاکستانی گلوکاروں راحت فتح علی خاں، عاطف اسلم اور شفقت امانت علی خاں نے اپنی گائیکی سے فلموں کے بہت سے پلے بیک سنگرز کی چھٹی کروادی تھی، اب وہاں بہت سے نئے پاکستانی گلوکاروں کی آوازیں بھی سنائی دیں گی۔ جس طرح بالی وڈ فلموں میں پاکستانی فنکاروں نے اپنی صلاحیتوں کے بل پر نمایاں مقام حاصل کیا، اسی طرح رواں برس بھارتی میوزک انڈسٹری میں مزید نوجوان گلوکاروں کو متعارف کروایا جائے گا۔



''واضح رہے کہ بھارت میں گانے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے لیکن بھارتی میوزک انڈسٹری کو جو فائدہ پاکستانی گلوکاروں نے مقبولیت اوربے پناہ دولت کی شکل میں دیا ہے، وہ اس سے پہلے کسی بھارتی سنگر نے نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی میوزک کمپنیاں اپنے گلوکاروں اورشیوسینا جیسی جماعت کے بے پناہ دبائو کے باوجود پاکستانی گلوکاروں کی آواز میں گیت ریکارڈ کرتی ہیں اوراپنے کاروبار کو چار چاند لگاتی ہیں۔''



2015ء کا آغاز ہوچکا ہے اور میوزک کی مختلف اصناف پرمہارت رکھنے والے ہمارے گلوکاروں نے اپنے اس منفرد شعبے سے امن، دوستی، بھائی چارے کا پیغام دنیا بھر میں پہنچانے کیلئے اپنے نئے پراجیکٹس پرکام شروع کردیا ہے۔ کسی نے ایک گیت ریکارڈ کیا، جبکہ کسی نے البم کی ریکارڈنگ شروع کردی ہے، کسی نے ویڈیو بنالیا ہے تو کوئی قومی اور مذہبی تہواروں کے ساتھ ساتھ ملی نغموں پر بھی کام کررہا ہے بلکہ بہت سے نوجوان پاپ سنگرز تومغربی دنیا میں تہلکہ مچانے کیلئے اب انگریزی زبان میں بھی گیت تیار کررہے ہیں، جو بہت خوش آئند بات ہے۔ اسی لئے پاکستان میوزک انڈسٹری کے سنجیدہ حلقوں نے رواں برس کومیوزک کے شعبے میں نمایاں کامیابیوں کا سال قراردیا ہے۔



جہاں پاپ میوزک میں نوجوان آگے بڑھ رہے ہیںِ، وہیں فوک، صوفیانہ اورقوالی جیسے مشکل انداز موسیقی میں بھی خوبصورت آوازیں سامنے آئی ہیں، جوسال بھر جہاں پاکستان اوربھارت سمیت دیگرممالک کے میوزک چارٹس پر سرفہرست ہونگی ، بلکہ گزشتہ برس استاد راحت فتح علی خاں نے ''نوبل پیس پرائز'' میں پہلی مرتبہ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے یادگار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا تھا، اسی طرح نوجوان گلوکار میوزک کی دنیا میں ایسا کام کرینگے جس کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔