عالمی قیمتیں کم یارن کی ویلیوایشن رولنگ اپریل 2014 سے برقرار

رولنگ پر نظرثانی نہ ہونے کی وجہ سے صنعتوں کو عالمی نرخ میں کمی کا فائدہ نہ مل سکا


Ehtisham Mufti January 13, 2015
عالمی قیمتوں کے تحت ویلیوایشن سے درآمدی لاگت میں 9 فیصد کمی ہوجاتی، ثاقب گڈلک فوٹو: فائل

بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل اور اس سے تیار ہونے والے صنعتی خام مال کی قیمتیں 50 فیصد تک کم ہونے کے باوجود محکمہ کسٹمز کے ڈائریکٹریٹ ویلیوایشن کی جانب سے برآمدی صنعتوں میں استعمال ہونے والے بنیادی خام مال ''یارن'' کی ویلیوایشن رولنگ پر تاحال نظرثانی نہیں کی گئی ہے۔

ڈائریکٹریٹ کسٹمز ویلیوایشن کے اس طرز عمل کی وجہ سے پاکستانی برآمد کنندگان کو نہ تو عالمی قیمتوں میں کمی کے تناسب سے ریلیف مل سکا ہے اور نہ ہی صنعتوں کی پیداواری لاگت میں کمی ہوئی ہے۔ ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ڈائریکٹریٹ کسٹمز ویلیوایشن کی جانب سے یارن کی ویلیوایشن رولنگ اپریل 2014 میں جاری کی گئی تھی حالانکہ کسٹمز ایکٹ کے تحت کسٹمز ویلیوایشن میں ہر 3 ماہ بعد عالمی مارکیٹوں میں قیمتوں کی بنیاد پر ترامیم ضروری ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ملک میں صنعتوں کی مجموعی کھپت کا 65 فیصد حصہ درآمدی پولیسٹر یارن پرمنحصر ہے لیکن اس حقیقت کے باوجود کسٹمز کی سطح پر برآمدی صنعتوں کے مسائل کا احاطہ کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔

اس ضمن میں پاکستان یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ثاقب گڈلک نے ''ایکسپریس'' کے استفسار پر بتایا کہ گزشتہ چند ماہ میں خام تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کے نتیجے میں کاٹن اور فائبر یارن کے علاوہ پولیسٹر سمیت دیگر مختلف اقسام کے یارن کی فی کلوگرام قیمتوں میں 40 سینٹ کی کمی واقع ہوچکی ہے لیکن اس کے باوجود ملک میں درآمد ہونے والے یارن کی ویلیو ایسسمنٹ پرانی ویلیوایشن رولنگ کو مدنظر رکھ کر کی جارہی ہے، یہی وجہ ہے کہ مقامی اور برآمدی نوعیت کی صنعتوں کو عالمی قیمتوں میں کمی کے تناسب سے ریلیف نہیں مل رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں چین، ملائیشیا، انڈونیشیا، ویتنام اور کوریا سے پولیسٹر یارن کی درآمدات ہو رہی ہے لیکن پولیسٹریارن کی مجموعی درآمدات میں چینی پولیسٹر یارن کی درآمدات کا حصہ 80 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کسٹمز کے ڈائریکٹریٹ ویلیوایشن کی جانب سے اگر صنعتوں کے بنیادی خام مال کی عالمی قیمتوں میں ہونے والی کمی کے مطابق ویلیوایشن رولنگ میں باقاعدگی کے ساتھ ترامیم کی جاتیں تو آج نہ صرف مقامی وبرآمدی صنعتوں کی پیداواری لاگت میں کمی ممکن ہوتی بلکہ عالمی مارکیٹوں میں حریف ممالک کے ساتھ بلحاظ قیمت مسابقت کی صلاحیت بھی بڑھ جاتی۔

پولیسٹرسمیت دیگر متعدد اقسام کی یارن مینوفیکچرنگ میں پٹرولیم کا عمل دخل ہے اور گزشتہ چند ماہ سے خام تیل کی عالمی قیمتوں میں ریکارڈ نوعیت کی کمی ہوئی ہے جس سے پولیسٹرودیگر اقسام کے یارن کی قیمتوں میں کمی ہوئی لیکن درآمدی پولیسٹر یارن کی کسٹمز ویلیوایشن میں ترامیم نہ ہونے سے مقامی صنعتوں کوعالمی قیمتوں میں کمی کے تناسب سے ریلیف نہ مل سکا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کاٹن اور فائبر کے علاوہ پولیسٹر ودیگر اقسام کے یارن کی سالانہ کھپت 2 لاکھ ٹن ہے جو کسی بھی صنعت کی پیداواری لاگت پر براہ راست اثرانداز ہوتی ہے، اگر محکمہ کسٹمز کی جانب سے عالمی قیمتوں میں کمی کے تناسب سے ویلیوایشن رولنگ کا بروقت اجرا ہوتا تو پاکستان میں پولیسٹریارن کی درآمدی لاگت میں 9 فیصد کمی ہوجاتی جو مقامی وبرآمدی صنعتوں کو منتقل ہو سکتی تھی۔

مقبول خبریں