وہ ’’پیج‘‘ جو بہت ہی پیج در پیج ہے
یعنی یہ اخبار والا صفحہ یا پیج نہیں کچھ اور ہی چیز تھی جو اچانک نہ جانے کہاں سے پیدا ہو گئی تھی
شوبز، کی طرح میڈیابز بھی ایک بز بلکہ انڈسٹری ہی ہے اس لیے جو وہاں ہوتا ہے وہ یہاں بھی ہوتا ہے اور جو یہاں ہوتا ہے وہ تو وہاں ڈیفنٹلی ہوتا ہے چنانچہ ٹھیک شوبز کی طرح ''میڈیابز'' میں بھی روزانہ نئے نئے فیشن اور نئے نئے لباس اور ڈیزائن متعارف کیے جاتے ہیں، خصوصی طور پر گذشتہ ایک ڈیڑھ سال میں تو میڈیابز میں انقلاب آیا ہوا ہے روز نئی نئی مصنوعات متعارف ہوتی رہتی ہیں اور ہر کمپنی کوئی نہ کوئی دھماکا کرتی رہتی ہے چاہے وہ کمیٹی لمیٹڈ یعنی چند ''مزاروں'' کی ہو یا ان لمیٹڈ یعنی جن کے پاس ابھی کاروبار کے لیے کوئی ''مزار'' میسر نہیں ہے۔
ویسے تو دھرنا نام کے کاسمیٹک کے بہت چرچے ہیں اور ''بند'' نامی ٹالکم پاوڈر بھی نئی ایجادات و مصنوعات ہیں لیکن آج کی نشست میں ہم ''پیج'' ایک بالکل ہی نئی ''مصنوع'' پر بات کریں گے، ٹھیک ٹھیک تاریخ کا پتہ تو نہیں کہ میڈیا بز میں اس ''پیج'' نامی ایجاد یا دریافت کا اصل سہرا کس کے سر جاتا ہے کیونکہ ایک دن اچانک جب لوگ جاگے تو چاروں اطراف سے پیج پیج کے نعرے سنائی دے رہے تھے جہاں جہاں کوئی بھی ''چیز یا ناچیز'' لیڈر تھا وہ کسی نہ کسی پیج پر نظر آرہا تھا پہلے تو خدا کے سادہ دل بندے اور پاکستان کے خالی کھوپڑیوں والے عوام سمجھے کہ پیج کا مطلب وہی ہے جو اردو میں ''صفحے'' کا ہوتا ہے لیکن یہ تو کوئی نئی بات نہیں تھی اخبارات میں تو ''پیج'' ابتدا ہی سے چلے آ رہے تھے۔
باقی صفحہ فلاں اور نمبر فلاں کا بھی لوگوں کو پتہ تھا اور یہ بھی سب لوگوں کو معلوم تھا کہ اخبارات کے ''پیج'' ہر کسی کے لیے کھلے ہوتے ہیں، ان میں ایک ہی صفحے پر اگر کوئی درد ناک اور لہولہان خبر ہوتی ہے تو اسی پیج پر ٹھیک اس کے نیچے یا اوپر یا دائیں یا بائیں' اس خاتون کی تصویر بھی ہوتی ہے جو اسلام آباد کی کسی تقریب میں انہماک سے کچھ نہ کچھ کر رہی ہوتی ہے یا کرکٹ یا کسی سیاسی کھیل میں اپنے چہروں پر کوئی خاص نشان لگانے والی خاتون بھی ہوتی ہے یعنی اگر ایک طرف ایک ہی پیج کے محترمہ میرا کی میری میری اور میرا میری ہو رہی ہے تو اس کے ساتھ ''سرہانے میر'' کے آہستہ بولو جیسی کوئی چیز بھی ہے، لیکن آہستہ آہستہ بیانوں، دکانوں، سیانوں، کالموں، مالموں وغیرہ سے بات کھلتی چلی گئی کہ یہ ''پیج'' یا صفحہ کوئی اور ہے
دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ بر
کچھ تو پیغام زبانی اور ہے
یعنی یہ اخبار والا صفحہ یا پیج نہیں کچھ اور ہی چیز تھی جو اچانک نہ جانے کہاں سے پیدا ہو گئی تھی جیسے عمران خان اور علامہ قادری دونوں ایک ہی ''پیج'' پر ہیں، نواز شریف اور آصف زرداری کا ''پیج'' ایک ہی ہے، وینا ملک اور عمائمہ ملک ایک پیج پر ہے حتیٰ کہ اوباما اور اسامہ کو بھی ایک ہی پیج پر ڈالا گیا، سب سے بڑا انرت تو یہ ہوا کہ ظالموں نے انجلینا جولی اور راکھی ساونت کو بھی ایک ہی پیج میں ڈال دیا کیوں کہ دونوں اپنے ہونٹوں کی پلاسٹک سرجری کرا چکی تھیں یا کم از کم ان دونوں کے ہونٹ تو ایک ہی صفحے پر ہو گئے حالاں کہ تکنیکی اعتبار سے یہ غلط تھا انجلینا جولی اور راکھی ساونت دونوں کے ہونٹ ایک صفحے پر ہو ہی نہیں سکتے تھے کہاں ایک سو بیس گرام کا چمک دار اور چکنا صفحہ اور کہاں ردی کاغذ کا ٹکڑا ... نسبت خاک را باعالم پاک، لیکن فیشن تو فیشن ہے چل نکلا تو چل ہی پڑا، ڈھونڈ ڈھونڈ کر لوگوں کو ایک ''پیج'' پر لانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
اب ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ڈاکٹر شکیل آفریدی میں دن اور رات کا فرق ہے لیکن یار لوگوں نے ان کو بھی ایک صفحے پر لانے کی کوشش کی وہ تو اچھا ہوا کہ چھینا جھپٹی میں وہ صفحہ ہی پھٹ گیا ... اڑ گیا مطلب کا پنجھی رہ گئے پر ہاتھ میں، بات غیر متعلقہ سہی لیکن چونکہ اس سے ہمارا ذاتی تعلق ہے اور انتہائی غصہ بھی آیا ہوا ہے اس لیے بتائے دیتے ہیں کہ ہم نے جب کسی کم بخت کو دیکھا کہ اس نے کنڈولیزا رائس اور اوپرا ونفرے دونوں کو بھی ایک ہی صفحے میں یکجا کیا جو بدقسمتی سے وہ صفحہ ہمارے دل کا تھا تب ہمیں اتنا غصہ آیا اتنا غصہ آیا کہ یہ پتہ ہی نہیں چلا کہ ہم مارے غصے کے ایک روٹی کی جگہ چار کھا گئے ... بلکہ اگر گھر والے نوٹس نہ لیتے تو شاید اس دن باقی گھر والوں کو بھوکا ہی رہنا پڑتا، فیشن بھی ایک خربوزے کی طرح کی چیز ہے حالانکہ خربوزے کی آنکھیں نہیں ہوتیں لیکن پھر بھی جب ایک خربوزہ رنگ پکڑتا ہے تو دوسرا خربوزہ نہ جانے کیسے شاید ''بیل'' کی آنکھوں سے دیکھ کر ویسا ہی رنگ پکڑ لیتا ہے۔
اب بھارت والوں نے پاکستان میں کبھی یہ منادی نہیں کرائی ہے نہ کوئی اشتہار دیا ہے جیسا کہ گھٹنوں کے درد، موٹاپے یا زلف درازی کے اشتہاروں میں ہوتا ہے کہ آیندہ تم لوگ فلم کو ''مووی'' کہو گے ورنہ ہم سے برا کوئی نہیں ہو گا، نہ ہی سفارتی سطح پر پاکستان سے درخواست کی ہے کہ پاکستان سے جو تازہ واردان ہوئے بساط بالی ووڈ سپوتنیاں آتی ہیں وہ بمبئی کو موم بائی کہنے کی پریکٹس ضرور کریں ورنہ ہم سے برا کوئی نہیں ہو گا۔
اسی طرح کیمسٹری کا لفظ ہے جب یہاں کے لوگوں نے دیکھا کہ بال ٹھاکرے اور نریندر مودی کی کیمسٹری ایک ہے تو یہاں بھی نواز شریف اور آصف زرداری، عمران خان اور مولانا قادری، سراج الحق اور مولانا فضل الرحمن کی کیمسٹریاں ملائی جانے لگیں، ٹھیک ہی ویسے ہی اس ''پیج'' کے ساتھ بھی ہوا ہے نہ جانے کہاں کسی ''قابیل'' نے اس کی ابتدا کی ہو گی کہ چاروں طرف سے ''پیج ہی پیج'' نظر آنے لگے وہ تو اچھا ہوا کہ علامہ اقبال اس ''پیج'' کے زمانے سے پہلے ہو گزرے ہیں ورنہ وہ صف کے بجائے ''صفحہ'' استعمال کرتے ہوئے محمود و ایاز کو ایک ہی پیج پر رکھتے، کوئی کہہ سکتا ہے کہ پیج دراصل وہی ''صفحہ'' ہے لیکن اختصار کے لیے پہلے اسے ''صف'' کہتے تھے اور اب پوری قرات کے ساتھ ''صفحہ'' کہا جا سکتا ہے لیکن یہ بالکل بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ جس صفحے کو آج کل پیج کہا جاتا ہے یا جس پیج کا ترجمہ صفحہ کیا جاتا ہے وہ چیز ہی کچھ الگ ہے۔
بقول رحمان بابا کہاں کنکر پتھر اور کہاں درو مرجان، کہاں بوڑھی پوپلی عورتیں اور کہاں جواں جہاں پرشباب حسینائیں، کہاں چاہ شکم اور کہاں چاہ زنخداں، مطلب یہ کہ یہ جو اخبارات چینلات اور اینکرات و کالم نگارات کا حالیہ فیورٹ بلکہ ہارٹ فیورٹ لفظ ''پیج'' ہے یہ وہ صفحہ نہیں بلکہ کوئی اور صفحہ ہے کیونکہ صرف صفحہ صحافت اور صحائف تو بہت پہلے سے موجود ہیں اور صحف آدم اور ابراہیم و موسیٰ تک ہوا کرتے تھے لیکن یہ ''پیج'' کسی اور صفحے کا ترجمہ ہے جو غالباً جدید دور میں خالص کالم نگاروں اداریہ نویسوں اور اینکران و دانش وران عظام کے استعمال کی چیز ہے جس کی نہ کوئی حد ہے نہ پایاں ... عام صفحے یا پیج تو خاص پیمائش جیسے 4-24-8-16 وغیرہ کے حساب سے ہوتے ہیں لیکن یہ خصوصی پیج جن پر سیاسی لوگ چڑھائے جاتے ہیں پیمائش کے بجائے فہماش یا فرمائش یا آزمائش یا آلائش وغیرہ کے حساب سے ہوا کرتے تھے بہرحال ہمارے اپنے کالم کے پڑھنے والے نوٹ کریں کہ اس پیج در پیج ''پیج'' کے بارے میں ہم کچھ بھی نہیں جانتے۔