تاریخ نہ بدلیے

اب تو پرانی طرز کا سامراجی دور ختم ہو چکا ہے اور اس کی جگہ معاشی سامراج نے لے لی ہے


Abdul Qadir Hassan October 04, 2012
[email protected]

MUZAFFARABAD/LAHORE: سامراج جہاں بھی جاتا ہے وہاں اپنے نشان بناتا ہے جو اس کے جانے کے بعد اس کی یاد دلاتے رہتے ہیں۔

وہ عمارتیں تعمیر کرتا ہے اور اپنا طرز تعمیر روشناس کراتا ہے تعلیمی ادارے قائم کرتا ہے جن میں اس سامراج کی ضرورت اور پسند کی تعلیم دی جاتی ہے اور اس کی سامراجی زبان کو فروغ دیا جاتا ہے وہ اپنی پسند اور ضرورت کی سڑکیں تعمیر کرتا ہے اور ان کو اپنی پسند کے نام دیتا ہے اسی طرح ایک سامراجی حکومت ایسے بے شمار کام کرتی ہے جو اس کی یاد بھی دلاتے ہیں اور اس کے محکوموں کو ممنون بھی کرتے ہیں۔ اب تو پرانی طرز کا سامراجی دور ختم ہو چکا ہے اور اس کی جگہ معاشی سامراج نے لے لی ہے لیکن اس دور کی نشانیاں اس کی یاد دلانے کے لیے باقی ہیں۔

ہم پاکستانی برطانوی سامراج میں صدی ڈیڑھ صدی تک زندگی بسر کرتے رہے۔ اس طرح اس سامراج کی کئی دوسری مقبوضات اور نو آبادیاں بھی تھیں مثلاً ایک سنگاپور کا جزیرہ بھی تھا۔ قدیم طرز کے مچھیروں کا یہ بدبو دار جزیرہ جس کا کچھ حصہ انگریز سامراجیوں نے اپنی ضرورت کے تحت بہتر حالت میں رکھا ہوا تھا۔ آزادی کے بعد اس پسماندہ جزیرے کو بعض ایسے حکمران مل گئے جنہوں نے کرپشن سے محفوظ ایک جزیرہ بنا لیا اور اس کی از نو تعمیر میں لگ گئے۔ چند برس پہلے میں ایک بار پھر جب یہاں گیا تو اسے پہچانا نہیں جا سکتا تھا۔

میں نے اپنی ایک محترم خاتون کو اپنے اسٹاف کے ہمراہ یہاں ایک اسٹور میں شاپنگ کرتے دیکھا وہ اپنی بیٹی کا جہیز خرید رہی تھیں۔ یہ ایک مسلمان کا اسٹور تھا جو یہاں ریڑھی لگاتا تھا اور اس جگہ اس نے یہ اسٹور بنا لیا۔ میں نے بھی اپنی 'بیٹی' کے جہیز کا سامان منتخب کرنے میں حصہ لیا۔ یہ بعد میں پتہ چلا کہ وہ ایک اعوان کی بیوی بن گئی ہے۔ بہر کیف اس جزیرے کے آزاد حکمرانوں نے اپنے اس جزیرے کو دنیا کے اس حصے کا ایک مثالی ملک بنا دیا۔

جو بات میں عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ایک بار اسمبلی میں ایک قرار داد پیش ہوئی جس میں برطانوی دور کی سڑکوں کے نام تبدیل کر کے انھیں مقامی ناموں سے موسوم کرنے کی تجویز دی گئی اس پر وزیراعظم لی نے کہا کہ یہ نام تو سنگا پور کی تاریخ ہیں۔ آپ نئی سڑکیں تعمیر کریں اور ان کے اپنی پسند کے نام رکھ لیں لیکن میں تاریخ بدلنے کی اجازت نہیں دے سکتا مگر ہمارے ہاں پاکستان کے بے عمل اور آسودہ مزاج حکمرانوں اور بڑوں نے یہ ایک وتیرہ بنا لیا ہے کہ پرانے نام تبدیل کر کے انقلابی بننے کی کوشش کریں۔

اس شہر لاہور میں پرانے رائج اور زبان زد ناموں کی جگہ بعض نام رکھے گئے جو قبول عام نہیں ہوئے ۔ سر گنگا رام اسپتال کا نام بدلنے کی حماقت تو منٹو مرحوم کے ایک افسانے نے بے نقاب کر دی اس طرح لاہور کی متعدد سڑکوں کے نام بدل دیے گئے ہیں بلکہ لارنس باغ کو جناح باغ اور اس کے روز گارڈن کو گلستان فاطمہ جناح۔ ہمارے پسماندہ ذہن کے افسروں اور سیاستدانوں کے ایسے کئی لطیفے مشہور ہیں۔

اخبارات میں ایک اشتہار چھپا ہے کہ جیل روڈ پر واقع شاد مان چوک کا نام تبدیل کر کے لفظ 'پاکستان' کے خالق چوہدری رحمت علی کے نام پر رحمت علی چوک اور شاد مان اور شاہ جمال روڈ پر واقع فوارہ چوک کا نام تبدیل کر کے تحریک آزادی کے ہیرو بھگت سنگھ کے نام پر 'بھگت سنگھ چوک' رکھنے کی تجویز ہے۔ لفظ پاکستان کے خالق کی یاد گار کے لیے کیا اس ملک میں کوئی اور جگہ موجود نہیں جہاں ان کی یاد گار تعمیر کی جائے۔

یہ آسانی کیوں تلاش کی جا سکتی ہے کہ کسی بنی بنائی جگہ کو نیا نام دے کر خراج تحسین ادا کر دیا جائے اور بھگت سنگھ کا نام ان دنوں پاک بھارت تعلقات کے نئے خطرناک موڑ پر یاد دلایا گیا ہے۔ بھگت سنگھ مسلمان ہیرو نہیں تھا اگر سٹی گورنمنٹ لاہور والے جن کی طرف سے یہ اشتہار چھاپا گیا ہے ذرا سی محنت کر لیں تو انھیں کسی مسلمان ہیرو کا نام بھی مل سکتا ہے مگر نام کسی کا بھی ہو اس کے لیے کسی پہلے سے موجود مقام کا نام بدلنا اصولاً ایک غلط کام ہے جو نالائقی کے ضمن میں آتا ہے۔ نالائق لوگ ہی ایسے آسان کام کرتے ہیں۔

انگریز حکمران پاکستان میں جو کچھ بنا کر چھوڑ گئے تھے وہ اب ہمارا ہے اور ہمارے ماضی کا حصہ اور تاریخ ہے۔ ان تعمیرات پر جو کچھ خرچ ہوا وہ سب ہمارا تھا انگریزوں نے بڑی ہنر مندی کے ساتھ ہماری دولت ہم پر خرچ کی خوبصورت عمارتیں تعمیر کیں کھلی اور اچھی سڑکیں تعمیر کیں اور اس پر بہت محنت کی مثلاً گورنر پنجاب سر ریواز اور ایک ہندو انجینئر نے لاہور کی گرمیوں کی دوپہروں کو اس کی تعمیر کی نگرانی کی خصوصاً درختوں کو خاص فاصلے پر لگایا گیا۔ فیتے کا ایک سرا اگر گورنر کے ہاتھ میں ہوتا تھا تو دوسرا انجینئر کے ہاتھ میں۔

اس طرح ایک خاص ترتیب سے لاہور کی یہ خوبصورت سڑک تعمیر ہوئی وہ تو ایک غلام ملک کی سڑک تھی ورنہ سچ ہے کہ عالمی شہرت رکھنے والی فرانس کی شانزے لیزے اس سے زیادہ خوبصورت نہیں یہ الگ بات کہ اب ہم نے مال روڈ کو جی بھر کر بد صورت بنا دیا ہے ورنہ کچھ پہلے تک سارا لاہور اور اس کے معززین اسی سڑک پر شام کو سیر کرتے تھے۔ سائے دار درختوں کے نیچے صاف ستھرے فٹ پاتھ پر چہل قدمی ایک عیاشی تھی۔

عرض یہ ہے کہ ہم نے بنایا بہت کم مگر بنا بنایا بگاڑا بہت کچھ اور ابھی تک اس میں مصروف ہیں اب زیادہ نہیں تو نام ہی بگاڑ رہے ہیں۔ کبھی کبھار اطمینان کی کوئی خبر موصول ہوتی ہے جیسی یہ خبر کہ مال روڈ پر اب پرانی عمارتوں کا ناک نقشہ تبدیل نہیں کیا جا سکے گا۔ اس طرح دوسری تاریخی عمارتیں بھی جوں کی توں سلامت رہیں گی۔ اگر اس پر عمل بھی ہوتا ہے تو بڑی بات ہے لیکن مجھے اس میں شک ہے اپنے آپ پر شک ہے کہ ہمارے ہاں پرانی شائستہ ثقافت اور کلچر مر رہا ہے صرف کرپشن کا کلچر فروغ پا رہا ہے اور اس کلچر کا پہلا قدم تعمیر نہیں تخریب ہوتا ہے۔ خطرہ ہے کہ کرپشن کی مدد سے مال روڈ کی کوئی پرانی عمارت پلازا بن جائے گی۔

مقبول خبریں