خیر پور میں ایک یادگار اجتماع

پاکستانی صحافیوں نے احتجاج اور مزاحمت کا وہی رویہ اختیار کیا جو امریکی صحافیوں اور استادوں نے کیا تھا۔


Zahida Hina January 20, 2015
[email protected]

سر موٹیمر وہیلر نے موئن جو دڑو کے کھنڈرات پر سے مٹی کی چادر اتاری اور اب 5ہزار برس کی نیند سے جاگ کر یہ کھنڈرات نیلگوں آسمان کی نیرنگیاں دیکھتے ہیں،ہزاروں برسوں سے دھرتی کو شاداب کرتا ہوا سندھو بے نیازی سے بہہ رہا ہے ۔

رسیلی کھجوروں کے باغات سلسلہ در سلسلہ پھیلتے چلے جاتے ہیں۔ خیر پور میرس کی شاہ عبدالطیف یونیورسٹی میں تین پُر بہار راتیں اور چار یادگار دن گزار کر شاہ لطیف اور سچل سرمست کے کلام سے دل کا چراغ روشن کرتے ہوئے، معصوم شاہ کے منارے کی دید کو آنکھوں میں رکھتے ہوئے ہم آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ ملول و محزوں بیگم نصرت بھٹو کے نام سے موسوم سکھر ائیر پورٹ دھند اور دھول میں لپٹا ہوا مسافروں کامنتظر ہے۔ دنیا کے11ملکوںاور17 زبانوں کے دانشوروں اور ادیبوں کی باتیں یاد آرہی ہیں اور بہت دنوں یاد آتی رہیں گی ۔

اب سے کچھ دنوں پہلے تک خیر پور یونیورسٹی کا کوئی ذکر نہیں کر تا تھا لیکن پھر ڈاکٹر پروفیسر پر وین شاہ اس کی وائس چانسلر ہوئیں اور انھوں نے اس کے زمین و آسمان بدل دیے۔ یہ ان کی جو ہر شناسی تھی کہ ڈاکٹر یوسف خشک، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز اور آرٹس ہوئے اور ان کی نصف بہتر ڈاکٹر صوفیہ نے شعبہ اردو کی چیئر پرسن کا عہدہ سنبھالا۔ ڈاکٹر پروین شاہ کی رہنمائی میں یوسف اور صوفیہ کا سنجوگ خیر پور یونیورسٹی کے لیے اعتبار اور وقا ر کا سبب ہوا۔ پچھلی مرتبہ انھوں نے ادب اور بقائے باہمی جیسے اہم اور آج کے مسائل سے متعلق موضوع پر ایک بین الاقوامی سیمینار کرا یا تھا اور اس مرتبہ انھوں نے ادب ، معاشرہ اور تعمیر نو : روایت، عصری تقاضے اور امکانات، پر دنیا کے '11ملکوں کے 60سے زیادہ ادیبوں اور دانشوروں کی سبھا سجائی ۔

کچھ دنوں سے عالمی سطح پر ہم تہذیبوں کے تصادم، دہشت گردی، انتہا پسندی اور عسکری تنظیموں کے عروج کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں ، ایسے میں یونیورسٹیاں غور و فکر اور مکالمے اور مباحثے کے مواقعے فراہم کرتی ہیں۔ شاہ لطیف یونیورسٹی نے اس مرتبہ بھی بہت سے ان لوگوں کو یکجا کیا جو اپنے اپنے انداز میں عصری مسائل کے بارے میں سوچتے اور نئی راہوں کا تعین کرتے ہیں ۔ اس بین الاقوامی سیمینار کا افتتاح کرتے ہوئے پروفیسر پروین شاہ نے بہت خوب کہا کہ 'یونیورسٹی' میں لفظ 'یونیورس'(کائنات) شامل ہے اس لیے یونیورسٹیوں کو کائنات کے مسائل پر غور و فکر کرنا چاہیے۔

شعبہ اردو کے تحت ہونے والی اس کانفرنس کو ہائرایجوکیشن کمیشن کا تعاون حاصل تھا۔ اس میں کلیدی خطبہ امریکا سے آئے ہوئے اردو کے اہم ادیب اور 30برس تک امریکی یونیورسٹیوں میں استاد کے فرائض انجام دینے والے ڈاکٹر ستیہ پال آنند کا تھا۔ انھوں نے بیسویں صدی کے تناظر میں اردو اور انگریزی کے مزاحمتی ادب کا تقا بلی مطالعہ پیش کیا اور سا معین سے داد لی۔ انھوں نے یہ تیکھی بات کھل کر کہی کہ آمریت کے دور میں پاکستانی یونیورسٹیوں میں درس و تدریس میں مصروف یا دیگر سر کاری عہدوں پر قابض ادیبوں میں سے شاید ہی کسی نے کھلے عام سڑکوں پر نکل کر احتجاجی جلوسوں اور جلسوں میں حصہ لیا ہو۔

پاکستانی صحافیوں نے احتجاج اور مزاحمت کا وہی رویہ اختیار کیا جو امریکی صحافیوں اور استادوں نے کیا تھا۔ انھوں نے برملا کہا کہ صحافیوں کی جی داری کے بر عکس ہمارے بیشتر ادیب موضوع اور مضمون کو ایک غزل گو کی طرح چلمن کے پیچھے، نیمے دروں نیمے بروں، ایک پردہ نشین کی طرح رکھ کر بات کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی ادیب اور صحافی اس عوامی تحریک کا حصہ تھے جو ویت نام کی اس مردم کش جنگ کے خلاف پہلے سلگتی رہی اور پھر الاؤ کی طرح شاہراہوں پر پھیل گئی۔ اس میں ''نکڑناٹک'' بھی کھیلے گئے، آتش گیر نغمے بھی لکھے گئے جو سڑکوں کے کناروں پر کھڑے ہو کر سا زندوں کی سنگت کے ساتھ لوگوں کو سنائے گئے ۔ کاروں کی وِنڈ شیلڈوں پر لگانے کے لیے چھوٹے چھوٹے پلے کارڈ بھی چھاپے گئے۔

جہاں یہ لوگ مظاہروں میں مصروف اپنی دھن میں مگن ہوتے تھے ، کاروں کے ڈرائیور چلتے چلتے تین بار ہارن بجا کر اپنی تائید کا اعلان کرتے تھے۔ ان میں ہر عمر کے لوگ شامل تھے، مرد عورتیں، نوجوان، بوڑھے، جامعات کے طلبہ ، حتیٰ کہ کمسن بچے بھی اپنے چہروں پر نعرے پینٹ کروانے کے بعد کھیل کے میدانوں میں جاتے تھے۔ ایک طوفان سا امڈ پڑا تھا لیکن شہری املاک کا کوئی نقصان نہیں ہوا، کیونکہ یہ مظاہرے پُر امن تھے، کاریں اور بسیں نہیں جلائی گئیں۔ پولیس پرسنگ زنی نہیں کی گئی۔ گرفتاریاں ضرور پیش کی گئیں لیکن عدالتوں نے بھی انھیں وارننگ دے کر چھوڑ دیا۔ یہ تحریک اس وقت تک جاری رہی جب تک کہ ویتنام سے فوجیں واپس بلانے کی کارروائی کا باضابطہ اعلان جار ی نہیں ہوا'۔ ڈاکٹر آنند کا یہ کلیدی خطبہ ہمارے بہت سے لوگوں کے لیے چشم کشا تھا کیونکہ ہماری اکثریت دنیا کے بارے میں ذرا کم ہی جاننے کی خواہش رکھتی ہے۔

ایک ایسی کانفرنس جس میں 60سے زیادہ دانشور اور ادیب مختلف موضوعات پر اپنے خیالات پیش کر رہے ہوں، اس کا ایک مختصر تحریر میں احاطہ نا ممکن ہے۔ یہاں استنبول یونیورسٹی کے ڈاکٹر خلیل طوقار کے مقالے کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہو گی جس میں انھوں نے خلافت عثمانیہ کے زوال، مصطفیٰ کمال کی سر براہی میں ایک سیکولر ترک جمہوریہ کا عروج ، عربی رسم الخط کا موقوف کیا جا نا اور جدید مغربی تعلیم کے زیر اثر ترکی زبان کے رومن رسم الخط کا رواج اور اس کے 60یا70برس بعد اسلامی خیالات کے احیا کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے احمد نجیب فاضل کوریک کے فلسفے اور شاعری کی تحسین کی۔

قاہرہ کی الازہر یونیورسٹی سے ڈاکٹر ابراہیم السید نے اس کانفرنس میں شرکت کی اور 1952 سے 2014کے درمیان مصری معاشرے کی ترقی میں ادب کا کردار، پر گفتگو کی ۔ ان کے مقالے میں ان ادیبوں کے نام تھے جن سے ہم نوعمری میں واقف ہوئے اور ان کی دانش سے متاثر ہوئے ۔ انھوں نے ڈاکٹر طہٰ حسین، مصطفی لطفی المنفلوطی،توفیق الحکم اورنجیب محفوظ کے حوالے بھی دیے۔ ڈاکٹر فاطمہ حسن نے خواتین قلم کاروں اور ادب و معاشرے کی تعمیر نو کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ ترقی پسند تحریک تھی جس میں خواتین قلم کا روں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اردو ادب میں اپنی جگہ بنائی۔

سویڈن کی اُپا سلا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ہنز ورنر ویسلر کا مقالہ اس حوالے سے بہت دلچسپ تھا کہ انھوں نے جنوبی ایشیا میں حاشیوں پر زندگی گزارنے والے قبائل کے ادب کا جائزہ پیش کیا۔ دلت ادیبوں کی بات کرتے ہوئے انھوں نے ہندی میں لکھنے والے دلت ادیبوں کی تخلیقات کو موضوع بحث بنا یا ۔ پروفیسر ویسلر کی با محاورہ اردو میں دلت ادیبوں کی تخلیقات کے بارے میں سننا پُرلطف تجربہ تھا۔

ڈاکٹر صوفیہ یوسف نے رشید امجد کے افسانوں کے حوالے سے بات کی اور مہ جبین انصاری کا پرچا برطانیہ میں اردو ادب اور عصری تقاضے کا احاطہ کرتا تھا۔ یشب تمنا نے پہلی جنگ عظیم اور پیٹ بارکر کے ناول پر بات کی۔ ڈاکٹر غلام قاسم مجاہد بلوچ نے بلوچی ادب، معاشرہ اور تعمیرنو پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ بشریٰ فرخ، ڈاکٹر عطیہ سید، کے علاوہ ڈاکٹر نجیب جمال جنھیں حال ہی میں یگانہ چنگیزی پر اپنی کتاب پر ایک بینک کی طرف سے انعام ملا ہے۔ انھوں نے اردو غزل کا معاشرتی تناظر اور نئے امکانات، کے بارے میں اظہار خیال کیا۔ صدف مرزا ڈنمارک سے آئی تھیں اور انھوں نے ڈنیش معاشرے کی ترقی میں ادب کا کردار ، کے موضوع پر مقالہ پیش کیا۔ ڈاکٹر ناہید ورک عرصے سے امریکا میں مقیم ہیں۔ انھوں نے 3امریکن شاعرات کے تخلیقی سفر پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر محمد کیو مرثی کا تعلق ایران سے ہے۔

انھوں نے معاصر ایرانی ادب اور اس کے تراجم کے اثرات پر گفتگو کی۔ کانفرنس میں پنجابی، سرائیکی، ہندکو،پشتو،کھوار اور کشمیری ادب پر مقالے پڑھے گئے۔ پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک نے معاشرے کی تعمیر نو میں سندھی ادیبوں کے کردار پر روشنی ڈالی۔ پروفیسر ڈاکٹر انوار احمد ہمارے نہایت سر گرم ادیبوں میں شمار کیے جاتے ہیں ۔ وہ اپنی دو ٹوک گفتگو کے لیے مشہور ہیں۔ اس کانفرنس میں انھوں نے اپنی باتوں سے کئی مرتبہ محفل کو گرما یا۔ افتتاحی اجلاس میں جسٹس (ر) علی اسلم جعفری نے خیر پور کے حوالے سے خوبصورت یادوں میں ہم سب کو شریک کیا۔

پروفیسر ڈاکٹر نبیلہ رحمان اور ڈاکٹر نجمہ شاہین کی باتیں لوگوں نے توجہ سے سنیں ۔ملتان سے آئی ہوئی پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ حسین کے مقالے کا عنوان ہی بہت دلچسپ تھا۔ انھوں نے، بیسویں صدی کے ہندوستانی معاشرے کی تعمیر میں نذر سجاد حیدر کا کردار، کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔

اس کانفرنس کی ایک خاص بات خیر پور کے تاریخی 'فیض محل' میں ہونے والا مشاعرہ تھا جو شعراء اور شرکا دونوں کو تا دیر یاد رہے گا۔ آخری رات محفل سماع میں شاہ کے فقیروں قنبر علی ، انور علی، رحیم ڈنو اور وریام نے اپنی آواز اور اپنے سازوں سے دلوں کو گرما یا اور وہاں وہ نوجوان بھی تھا جو سر اور ہتھیلی پر پانی کا گلاس رکھ کر رقص کر رہا تھا اور بوند نہیں چھلکتی تھی، سچ تو یہ ہے کہ وہ دیکھنے والوں کے دل لوٹ کر لے گیا۔ اس کے رقص میں محویت کا یہ عالم تھا کہ میں اس کا نام بھی نہ پوچھ سکی ۔

مقبول خبریں