نشاط سنیما کی تباہی
کیپری اور بمبینو کا تو اس حملے میں کم نقصان ہوا تھا البتہ نشاط اور پرنس مکمل طور پر تباہ ہوگئے تھے۔
1947 سے ایم اے جناح روڈ کراچی پر قائم نشاط سنیما کی عمارت کے فروخت کا اشتہار شایع ہوا، اس طرح اب یہ قدیم و تاریخی سنیما کراچی کے شہریوں کو معلومات، تربیت اور تفریح فراہم نہیں کرسکے گا۔ 2012 میں جب مصر کے ایک ڈائریکٹر کی تیارکردہ متنازعہ فلم Innocence of Muslim کے امریکا اور یورپ میں اجراء پر ملک بھر میں احتجاج ہوا تھا تو انتہاپسندوں کے ایک ہجوم نے ایم اے جناح روڈ پر قائم سنیما گھروں کیپری، نشاط، بمبینو اور پرنس پر حملہ کر کے ان سنیماؤں کو نذرِ آتش کردیا تھا ۔
کیپری اور بمبینو کا تو اس حملے میں کم نقصان ہوا تھا البتہ نشاط اور پرنس مکمل طور پر تباہ ہوگئے تھے۔ ٹی وی چینلز نے پرتشدد ہجوم کی سنیما گھروں پر ہونے والی دہشت گردی کو گھنٹوں دکھایا مگر پولیس اور فائر بریگیڈ کا عملہ ان سنیما گھروں کو بچانے نہیں آیا۔ یوں آگ سے تباہ ہو کر بند رہنے کے بعد نشاط سنیما کے مالکان نے اس کو فروخت کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اب ایم اے جناح روڈ جیسی اہم شاہراہ پر کوئی پلازہ تعمیر ہوگا جس میں فلیٹ، شاپنگ سینٹر یا دفاتر ہونگے مگر عوام کے ذہنوں کو جلا دینے کے لیے کچھ نہیں ہوگا۔ سنیما گھروں کا عوام میں تفریح فراہم کرنے کے علاوہ انھیں معلومات فراہم کرنے، برداشت اور رواداری پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ہے۔
ایک وقت تھا کہ جب کراچی میں سنیماؤں کی بہتات تھی۔ ایم اے جناح روڈ، صدر، لیاقت آباد، ناظم آباد، لانڈھی، ملیر، کیماڑی ، شاہ فیصل کالونی، نیپیئر روڈ اور دیگر علاقوں میں سینما قائم تھے، ضیاء الحق کے دور میں چھوٹے چھوٹے سنیما ہوتے تھے۔ ان سنیما گھروں میں زندگی، محبت، نفرت، جدوجہد، دیگر مذاہب کی رسومات اور تفریح کے موضوعات پر فلمیں لگا کرتی تھیں۔ لوگ اپنے اہلِ خانہ سمیت فلم دیکھنے آتے۔ ان سنیما گھروں میں سستے مہنگے ہر طرح کے ٹکٹ ملتے تھے۔ نوجوان، بوڑھے و خواتین تین گھنٹے ساتھ گزارتے تھے۔
ان 3 گھنٹوں میں انھیں ذہنی تفریح کے ساتھ زندگی کے مختلف رویوں کو دیکھنے کی عادت پڑتی تھی مگر فلم میں پیش کیے جانے والے مختلف مناظر پر جن میں محبت، نفرت، تشدد اور جدوجہد جیسے مناظر شامل ہوتے تھے اور انتہائی احتیاط کے ساتھ لوگ اپنا ردعمل دیتے تھے۔ ممتاز صحافی حمید ہارون نے ایک سیمینار میں بتایا تھا کہ وہ جب بچپن میں اپنے والدین کے ساتھ سنیما میں فلم دیکھنے جاتے تھے تو ہر طرف خاموشی ہوتی تھی، کوئی شخص باتیں نہیں کرتا تھا۔ سنیما میں فلم کے دوران کسی ناظر کی گفتگو اور آواز کو برا سمجھا جاتا تھا۔ یوں بچوں کی اپنے جذبات پر قابو کرنے کی تربیت ابتدائی مراحل سے شروع ہوجاتی تھی۔ فلم پر تحقیق کرنے والے اسکالر راجہ کاشف اپنے ایک تحقیقی آرٹیکل میں لکھتے ہیں کہ بھارت میں فلم کا آغاز 7 جولائی 1886 میں ایک خاموش مگر متحرک فلم کی نمائش سے ہوا۔ یہ فلم بمبئی کے والسر ہوٹل میں دکھائی گئی۔
ہندوستان میں سب سے پہلے سنیما 1907 میں ممبئی میں بنایا گیا جسے مسٹر پھاٹے نے بنایا تھا، یوں ہندوستان میں فلم انڈسٹری کے جادوئی دور کا آغاز ہوا۔ بھارت میں پہلی خاموش فیچر فلم راجہ ہریش چندر 1913 میں نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ اس فلم کو دادا صاحب پھالکے نے بنایا تھا۔ اس فلم کا موضوع مہا بھارت تھا۔ اس فلم میں مذہبی عقائد و روایات اور خلوص و قربانی کا پرچار کیا گیا تھا۔ اسی طرح بھارت میں پہلی بولتی فلم ''عالم آرا 14'' مارچ 1931 کو نمائش کے لیے پیش کی گئی۔
اس مشہور فلم کے ہدایتکار دادا صاحب پھالکے تھے۔ ممتاز محقق عقیل عباس جعفری ہندوستان میں فلموں کی آمد کے موضوع پر اپنے ایک تحقیقی مقالے میں لکھتے ہیں کہ ہندوستان میں فرانس کے لومیر برادران نے ممبئی کے واٹسن ہوٹل میں برصغیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ متحرک فلم دکھانے کااہتمام کیا تھا۔ عقیل عباس جعفری لکھتے ہیں کہ لومیر برادران نے پریس کے بعد ریجنٹ اسٹریٹ لندن میں اپنی ایجاد کردہ فلم کی نمائش عوام کے سامنے کی تھی، یوں انتہائی دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی تھی۔ اس فلم The Arrival of Train at Laciotat Station میں ایک ریل گاڑی کو اسٹیشن میں داخل ہوتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
کیمرہ مین نے اپنا کیمرہ ریل کی پٹری پر اس مقام پر رکھا تھا جہاں سے کچھ فاصلے پر ٹرین کو آ کر رکنا تھا۔ فلم کے ناظرین کو یوں لگا جیسے ریل گاڑی پردہ فلم سے نکل کر ان کی جانب آرہی ہے اور چند لمحوں میں وہ لوگ اس کے نیچے آ کر کچلے جانے والے ہیں۔ چنانچہ فلم کی نمائش کے دوران بعض لوگ دہشت زدہ ہو کر اپنی نشستوں سے اٹھ کر دروازے کی طرف دوڑے تھے۔ بعض خواتین کو تو غش آگیا اور انتظامیہ کو طبی امداد فراہم کرنا پڑی۔ یوں فلم نے انسانوں کے ذہنوں پر اثرانداز ہونا شروع کیا۔ بھارت میں فلم کے ادارے کی سرکاری سطح پر سرپرستی کی گئی۔
حکومت نے معیاری اور تجرباتی بنیادوں پر فلمیں بنانے کے لیے قرضے دینے کے لیے کارپوریشنیں قائم کیں۔ سنسر بورڈ موجود تھا، فلم کے مضمون کی تدریس کے لیے ادارے قائم ہوئے، اداکاروں، کیمرہ مینوں، مصنفین اور ہدایتکاروں کی تربیت کے لیے اکیڈمیاں بنائی گئیں۔ یوں بھارت میں ہر قسم کی فلمیں بننا شروع ہوئیں اور بھارتی فلم انڈسٹری نے پوری دنیا میں اپنے لیے جگہ بنائی۔ گزشتہ دنوں معروف اداکار عامر خان کی فلم'' پی کے'' نمائش کے لیے پیش ہوئی جس نے تاریخ ساز بزنس کیا ہے۔ فلم پی کے میں عامر خان نے اجنبی سیارے سے آئے ہوئے فرد کا دلچسپ کردار ادا کیاہے ۔ اس فلم میں ہندومت کی بنیاد پر سخت حملے کیے گئے۔
فلم پی کے میں بھگوان کی کردار کشی کی کوشش کی گئی اور بھگوان کے نام پر عبادت کرنے والوں کے عملی کردار کو ایکسپوز کیا گیا اور اس فلم کے ایک ڈائیلاگ میں ''جو ڈرتا ہے وہ بھگوان کے پاس جاتا ہے'' ایک پورے فلسفے کو بیان کیا گیا۔ اس فلم کے خلاف بھارت کی مختلف ریاستوں میں احتجاج ہوا۔ ہندو انتہاپسندوں نے فلم پی کے کو ہندو دھرم کے خلاف سازش قرار دیا۔ پھر یہ معاملہ سپریم کورٹ تک گیا مگر سپریم کورٹ نے فلم کی اشاعت کو روکنے سے انکار کردیا۔ یوں انتہاپسند بھارتیہ جنتا پارٹی کے دورِ اقتدار میں ہندومت کے خلاف ایک فلم کامیاب ہوگئی۔ مگر یہ بھارت کی پہلی فلم نہیں ہے جس میں ہندومت کے بارے میں کوئی اختلافی و منفی رائے دی گئی ہے۔
اس سے پہلے بھی کئی فلموں میں اسی طرح ہندو دھرم کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ بھارت میں بہت سی فلمیں بنتی ہیں جن میں ہندو دھرم کی فرسودہ روایات کا دفاع کیا جاتا ہے مگر فلم کے ذریعے برداشت اور رواداری کے معاشرے کی روایات کو مستحکم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں فلموں پر پابندیاں لگیں۔ سنیما گھروں پر ٹیکس عائد کیے گئے اور سرکاری طور پر یہ کوشش کی گئی کہ سنیما گھر ختم ہوجائیں۔ یوں سنیما گھر مسمار ہونے لگے، مگر جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں ہی بھارت وڈیو فلموں کی اجازت دی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ میمن برادران، خاص طور پر ڈی کمپنی اور داؤد ابراھیم کے کاروبار کو تقویت دینے کے لیے جنرل ضیاء الحق نے بھارتی وڈیو فلموں کی اسمگلنگ کی اجازت دی۔
اس وقت جماعت اسلامی کے رہنما محمود اعظم فاروقی وزیر اطلاعات تھے، انھوں نے پی ٹی وی پر فلم دکھانے پر پابندی لگادی تھی اور سنیماؤں کی حوصلہ شکنی کے لیے پالیسی بنائی تھی۔ یوں لوگوں کی اجتماعی تفریح کے بڑے ادارے کو ختم کردیا گیا۔ سنیما ختم ہونے سے نوجوانوں کے لیے وقت گزارنے کا ایک اہم ذریعہ ختم ہوگیا۔ کتب بینی کی عادت نہ ہونے اور سنیما گھروں کے ختم ہونے کے بعد نوجوان جہاد کی طرف راغب ہوئے۔ اب حکومت نے انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے فوجی ایکشن پلان تیار کیا ہے۔اس پلان میں نوجوانوں میں برداشت، رواداری اور دیگر مذاہب کے احترام کا شامل ہونا چاہیے۔
یوں سنیماؤں کے ادارے کو مضبوط کر کے انتہاپسندی کے خلاف مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما قادر پٹیل، نجمی عالم اور لطیف مغل نے ایک بیان میں نشاط سنیما کو بچانے اپیل کی ہے۔ ایک سیاسی جماعت کے رہنماؤں کا سنیما کی اہمیت کو محسوس کرنا خوش آیند بات ہے مگر ان رہنماؤں کو اپنی حکومت سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ سنیماؤں کے تحفظ اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیکس ختم کرے اور ان کے تحفظ کو ممکن بنایا جائے۔