حصص مارکیٹ 34300 پوائنٹس کی نفسیاتی حد بھی عبور کر گئی

فرٹیلائزر، توانائی اور سیمنٹ سیکٹرمیں سرمایہ کاری، انڈیکس 208 پوائنٹس کے اضافے سے 34329 کی نئی بلند سطح پر بند


Business Reporter January 22, 2015
مارکیٹ سرمائے میں 28 ارب 37 کروڑ روپے کا اضافہ، کاروباری حجم 12 فیصد زائد، 35 کروڑ 54 لاکھ حصص کے سودے۔ فوٹو: پی پی آئی/فائل

کراچی اسٹاک ایکس چینج نے بدھ کو 34300 پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کر کے ایک اور نیا ریکارڈ قائم کردیا جبکہ 28 ارب سے زائد روپے کے اضافے سے مارکیٹ کا مجموعی سرمایہ 78 کھرب روپے کے قریب جا پہنچا۔

کاروباری لین دین منگل کی نسبت تقریباً 4 کروڑ حصص زائد رہا، کراچی اسٹاک مارکیٹ میں بدھ کو بھی تیزی کارجحان غالب رہا، مقامی اور غیرملکی سرمایہ کار فرٹیلائزر، توانائی اورسیمنٹ میں سرگرم رہے جبکہ مقامی انسٹی ٹیوشنز اوربروکریج ہائوسز کی جانب سے منافع بخش حصص کی خریداری بھی دیکھی گئی جس کے باعث ٹریڈنگ کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس 34200اور 34300 پوائنٹس کی نفسیاتی حد کو عبور کرتے ہوئے 34400 پوائنٹس کی تاریخ ساز سطح پر جاپہنچا تاہم منافع کے لیے فروخت کی وجہ سے کاروبار کے اختتام تک انڈیکس 34400 پوائنٹس کی سطح کوبرقرار نہ رکھ سکا لیکن ایک نیاریکارڈ بننے کے بعد ہی مارکیٹ میں کاروبار بند ہوا۔

سرمایہ کاروں کے مطابق بہترین نتائج سیزن کی امید مارکیٹ میں تیزی کا سبب ہے، ڈسکائونٹ ریٹ میں کمی سی سیمنٹ، فرٹیلائزر اور ٹیکسٹائل سیکٹر میں مزید تیزی کا امکان ہے، مستقبل میں اگر سیاسی صورتحال بہتر رہی تو مارکیٹ مزید نئے ریکارڈ بنا سکتی ہے، بدھ کوکاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں 208.20 پوائنٹس کے اضافے سے 34329.50 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند ہوا، کے ایس ای 30 انڈیکس 198.30 پوائنٹس بڑھ کر 22314.90 پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 91 پوائنٹس کے اضافے سے 24715.14 پوائنٹس پر بند ہوا۔

تیزی کے باعث مارکیٹ کے سرمائے میں 28 ارب 37 کروڑ 74 لاکھ 31 ہزار 733 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں مارکیٹ کا مجموعی سرمایہ 77 کھرب 64 ارب 54 کروڑ 45 لاکھ 73 ہزار 108 روپے سے بڑھ کر 77 کھرب 92 ارب 92 کروڑ 20 لاکھ 4 ہزار 841 روپے ہوگیا، بدھ کو کاروباری حجم منگل کی نسبت 12.59 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر 35 کروڑ 54 لاکھ 33 ہزار حصص کے سودے ہوئے، کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 400 کمپنیوں تک وسیع ہو گیا جس میں سے 180 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ، 198 میں کمی اور 22 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔