بورڈکوخزانے بھرنے کیلیے ٹی وی معاہدے سے امیدیں

2015 سے 2019تک کے حقوق فروخت ہونے سے150 ملین ڈالر سے زائد کی توقع


Saleem Khaliq January 22, 2015
بڑا ’’گیم‘‘ ہونے کی وجہ سے کوئی پاکستانی چینل دوڑ میں شامل نہیں ہوسکے گا فوٹو : فائل

پاکستان نے خزانے بھرنے کیلیے ٹی وی رائٹس معاہدے سے امیدیں باندھ لیں، بورڈ کو2015 سے 2019تک کے حقوق فروخت ہونے سے150 ملین ڈالر سے زائد کی توقع ہے، بڑا ''گیم'' ہونے کی وجہ سے ممکنہ طور پر کوئی پاکستانی چینل دوڑ میں شامل نہیں ہوسکے گا۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ برس پی سی بی میں اختیارات کی رسہ کشی کے سبب طویل المدتی ٹی وی کنٹریکٹ نہیں کیا جا سکا، عدالت کی جانب سے بڑے فیصلوں سے روکنے کی وجہ سے ایک، ایک سیریز کے حقوق فروخت ہوئے، اب یہ مسئلہ حل ہو چکا، اس لیے بورڈ نے 2015سے 2019تک کے5سالہ معاہدے کا فیصلہ کیا ہے، اس دوران ٹیم64 انٹرنیشنل میچز کھیلے گی، ان میں بھارت سمیت انگلینڈ، ویسٹ انڈیز، سری لنکا اور آسٹریلیا سے2 جبکہ نیوزی لینڈ سے ایک ہوم سیریز شامل ہے، سیکیورٹی مسائل کے سبب ممکنہ طور پر یہ سب مقابلے یو اے ای میں ہی ہونگے، اس ضمن میں چند روز قبل ٹینڈر جاری کیا گیا، جس پر دلچسپی ظاہر کرنے کی آخری تاریخ4 فروری ہے۔

خواہشمند پارٹیز کو ناقابل واپسی ایک ہزار ڈالر بھی جمع کرانے کا کہا گیا، تکنیکی تجاویز27 فروری کو پی سی بی ہیڈکوارٹر قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھولی جائیں گی، مالی تجاویز کا ٹینڈر 3مارچ کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں کھلے گا۔ بورڈ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بار 150ملین ڈالر سے زائد کا معاہدہ متوقع ہے جس سے خزانے بھرنے میں مدد ملے گی، انھوں نے کہا کہ اگر ہوم سیریز واقعی اپنے میدانوں میں ہوتیں تو مزید رقم مل سکتی تھی مگر نیوٹرل وینیوز کے سبب مالیت میں کمی ہو گئی، انھوں نے مزید بتایا کہ چونکہ یہ بڑا ''گیم'' اور بہت زیادہ رقم کی سرمایہ کاری کرنا ہوگی اس لیے کسی پاکستانی چینل کے بڈز جیتنے کا امکان بہت کم ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بورڈ نے 5سالہ حقوق 140.5ملین ڈالرز میں فروخت کیے تھے۔