نجمہ صادق کی یاد میں
’’عالمی سطح پر دیے جانے والے کامیاب دھوکوں میں سے سب سے زیادہ دھوکے زرعی میدان میں دیے گئے۔
ہندوستانی فلموں کے رومانی جوڑوں کی طرح نجمہ سے میری پہلی ملاقات اُس بس میں ہوئی جو ہمیں تھر لیے جا رہی تھی۔ اندرونِ سندھ کا ایک مطالعاتی دورہ۔ کوثر سعید خان بھی اسی بس کی مسافر تھیں۔ وہ ایک یادگار سفر تھا جس میں ہم نے عمر کوٹ اور تھر کے دوسرے قصبوں اور بستیوں کے لوگوں کی محرومیاں دیکھیں۔ عمرکوٹ کی ایک سڑک پر بیٹھ کر کولہی عورتوں کے گیت سنے۔ یہ عورتیں تان اُڑاتیں تو ان کی آواز کا سوز دل کو دونیم کر تا تھا اور تو کچھ دھیان نہیں، یہ ضرور یاد ہے کہ ان میں سے ہر گیت میں پانی کا ذکر تھا۔ 'پانی' جو تھر کے لیے ایک نعمت ایک دولت ہے۔ یہی سفر تھا جس نے مجھ سے ایک افسانہ 'رنگ تمام خوں شدہ، لکھوایا اور اسی سفر نے مجھے نجمہ صادق اور کوثر کی دوستی سے مالا مال کیا۔
نجمہ نے ڈھاکا میں آنکھ کھولی۔ ہولی کراس اور وقار النسا نون سے پڑھ کر نکلیں۔ کم عمری کی شادی کے بعد زندگی ان کی اصل یونیورسٹی ثابت ہوئی جس نے انھیں سکھ اور دکھ سے آشنا کیا۔ وقت ان کے کڑے امتحان لیتا ہوا گزرا لیکن ان کی پیشانی پر شکن نہ آئی۔ انھوں نے کبھی ذاتی مسائل پر بات نہ کی لیکن گھروں میں کام کرنے اور کھیتوں میں کپاس چننے والی عورتوں پر کیا کچھ گزرتی ہے، ان کے مسائل نجمہ کو بے قرار رکھتے۔ ذاتی دکھ کو خاموشی سے جھیلنے کی یہ ایک شاندار ادا ہے۔ وہ ایک دانشور ماں ڈاکٹر سیدہ فاطمہ صادق کی بیٹی تھیں۔ سیدہ فاطمہ نے لندن کے اسکول آف اورینٹل اسٹڈیز سے ڈبل پی۔ ایچ ۔ ڈی کیا تھا اور اپنی تحقیق کے لیے مصر کے غلام بادشاہوں کا دور منتخب کیا تھا۔ ایسی دانشور ماں کی بیٹی کو زندگی جدید دنیا کے غلاموں اور کنیزوں کے لیے لڑتے ہوئے گزارنی چاہیے تھی۔
نجمہ کا خمیر بنگال کی مٹی سے اٹھا تھا، مزاج کی باغیانہ روش اور اپنی بات کو دو ٹوک انداز میں کہہ گزرنا ان کے لیے ایک عام سی بات تھی۔ بنگالیوں کے بدن میں سیاست لہو کی طرح گردش کرتی ہے۔ نجمہ کا بھی یہی حال تھا۔ انھوں نے عملی سیاست میں حصہ نہیں لیا لیکن اس کی جگہ انھوں نے ایکٹوازم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ عورتوں، کسانوں، مچھواروں اور مزدوروں کے حقوق کے لیے وہ اپنی آخری سانس تک لڑتی رہیں۔ ماحولیات کا بگاڑ ہماری زندگیوں کو کس طرح تہس نہس کر رہا ہے، اس بارے میں ان کی معلومات حیران کن حد تک زیادہ تھیں۔70ء کی دہائی سے انھوں نے انگریزی صحافت کو اختیار کیا تھا۔ وہ 'ڈان' سے وابستہ رہیں پھر انھوں نے فری لانس لکھنا شروع کیا اور پاکستان میں انگریزی صحافت کی چند اہم خواتین میں شمار ہونے لگیں۔
1975ء میں انھوں نے مہر مار کر کے ساتھ مل کر ایک ادارے شرکت گاہ کو ویمن ریسورس سینٹر کے طور پر قائم کیا اور گزشتہ 15 برسوں کے دوران انھوں نے کئی رپورٹیں تیار کیں جن میں سے 'وہ پاکستان کو کیسے چلاتے ہیں' 'وہ دنیا کو کس طرح ہلاک کر رہے ہیں' اور 'مالیاتی دہشت گردی' بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ یہ رپورٹیں انھوں نے ترقی یافتہ صنعتی ممالک اور ان کی کارپوریشنوں کے بارے میں مرتب کی تھیں۔ گزرے ہوئے پندرہ اٹھارہ برسوں کے دوران وہ 'شرکت گاہ' سے وابستہ رہیں اور وہاں انھوں نے سبز معاشیات اور عالمگیریت کی تحریک، کے ڈائریکٹر کے طور پر کام کیا اور زمین کو زہریلے اجزا سے آلودہ کرنے کے مسئلے پر تحقیق اور تحریر کا فریضہ انجام دیا۔ ان کی مرتب کی ہوئی آخری رپورٹ زرعی 'ترقی یا دھوکا' کے عنوان سے 'شرکت گاہ' نے شایع کی۔ اس میں انھوں نے لکھا:
''عالمی سطح پر دیے جانے والے کامیاب دھوکوں میں سے سب سے زیادہ دھوکے زرعی میدان میں دیے گئے اور ان سب کے لیے سائنس اور دنیا کو غربت اور بھوک سے بچانے کے بہانے استعمال کیے گئے۔ ہماری مصیبتوں کا آغاز یک رنگی یعنی بڑے بڑے رقبوں پر ایک ہی فصل کی کاشت سے ہوا۔ اس سے نہ صرف ان سے مخصوص حشرات کی افواج امڈ آئیں بلکہ حیاتیاتی تنوع بھی تباہ ہوا۔ کیمیائی جنگ عالمی جنگوں کا بد ترین ورثہ تھا۔ چونکہ یہ کیمیائی دوائیں انسانوں کو مارنے میں موثر ثابت ہوئی تھیں اس لیے خیال کیا گیا کہ حشرات (insects) پر ان کے اثرات تو اور بھی بہتر ہوں گے۔ لیکن حشرات نے نمایاں مزاحمت اور قوتِ مدافعت پیدا کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔
کیمیا ساز کمپنیوں نے اس کا جواب بڑی خوشی سے اور بھی طاقتور کیمیائی آمیز ے تیار کر کے دیا اور یوں کرۂ ارض کو زہر سے بھر دیا۔ کینسر، نئی بیماریاں اور مختلف اعضاء کا کام کرنا چھوڑ دینا، وہ شکا یات ہیں جواب عام ہو چکی ہیں۔1970ء میں امریکا کی تحفظِ ماحول ایجنسی نے دیکھا کہ 62,000 ایسے کیمیائی آمیز ے مارکیٹ میں لائے جا رہے ہیں جن کی نہ کبھی آزمائش کی گئی اور نہ جائزہ لیا گیا ۔ اب تک ان میں سے صرف پانچ پر پابندی لگی ہے۔2001ء میں اقوام متحدہ کی تحفظِ ماحول کانفرنس میں 120 ممالک نے کیمیائی آمیزوں سے جان چھڑانے کا مطالبہ کیا۔ مگر ملٹی نیشنل کیمیکل کا ر پوریشنوں نے، جو صنعتی ممالک کی ہیں، ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔''
ان معاملات پر وہ مسلسل لکھتی رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ:
''ایک سو سال سے کارپوریشنیں کوشش میں ہیں کہ بیج اور زراعت پر مکمل کنٹرول حاصل کریں۔ گو کہ وہ دنیا کو دھوکا دینے میں خاصی کامیاب رہی ہیں لیکن کیمیائی مادوں اور جینیاتی تبدیلیوں پر مبنی زراعت کے تباہ کن نتائج اور زرعی شعبے کی ناگزیر ضرورت کا احساس دنیا کو ہوش میں آنے اور عملی اقدام اٹھانے کے لیے جھنجھوڑ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے خوراک و زراعت کے ادارے (UNFAO) نے بھی اقوامِ عالم کو خبردار کیا ہے کہ اگر محفوظ 'ماحول دوست' روایتی یعنی قدرتی کھاد پر مبنی کاشتکاری،کو دوبارہ اختیار نہ کیا گیا تو دنیا کا حیاتی اور زرعی تنوع ختم ہو جائے گا... اور اس کے ساتھ ہر ذی حیات بھی!''
میں نے 10 برس تک 'شرکت گاہ' کے 2 ماہوار جرنل 'ہمارا ماحول' کی ادارت کی ۔ یہ کام مجھ سے مہر مارکر اور شگفتہ علی زئی نے شروع کرا یا تھا لیکن پھر برسوں تک نجمہ صادق سے اس اخبار کے موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی اور یہی وہ دن تھے جب ان کے اور میرے درمیان بہت سے معاملات پر تبادلۂ خیال ہوتا رہا اور اس دوران ان کو قریب سے جاننے کا موقع ملا۔
ان کی زندگی کا ایک پہلو رنگوں سے کھیلنا بھی تھا۔ انھوں نے فیگریٹو آرٹ کے بجائے ایبسٹریکٹ آرٹ کو اپنی فنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے اختیار کیا۔ کچھ عرصہ کراچی آرٹس کونسل سے وابستہ رہیں۔ نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کی ڈین لالہ رخ کی نمائش ہوئی تو وہ اس میں نظر آئیں پھر ان سے کئی ملاقاتیں مختلف آرٹ ایگزیبیشنز میں رنگون والا کی آرٹ گیلری میں ہوئیں۔
نجمہ کی ای میلز کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ کبھی نیویارک ٹائمز میں چھپنے والا ضیا الدین سردار کا ایک ایسا مضمون بھیج رہی ہیں جو پاکستانی بنیاد پرستوں کے لیے متنازعہ فیہ لیکن حقائق پر مبنی تھا۔ ملالہ کے بارے میں ان کی کئی ای میلز مجھے ملیں۔ ستمبر میں انھوں نے ارون دھتی رائے کا ایک مضمون بھیجا جس میں یہ اہم مسئلہ اٹھایا گیا تھا کہ دنیا بھر میں سیاسی مزاحمت کو این جی اوز نے کیا اور کتنا نقصان پہنچایا ہے۔ اس مضمون میں ارون دھتی رائے نے جو مؤقف اختیار کیا تھا اس سے ہم دونوں متفق تھے اور اس پر ہماری طویل گفتگو بھی ہوئی تھی اور اس کے اختتام پر ہم دونوں اداس ہوئے تھے۔
وہ غربت کو انسانی نفس کی تمام بیماریوں کی ماں سمجھتی تھیں، اسی احساس نے انھیں سائوتھ ایشیا الائنس فار پاورٹی ایراڈیکیشن سے جوڑ دیا اور وہ اس تنظیم کی بنیاد گزاروں میں شامل ہوئیں۔ 80ء کی دہائی میں جب پاکستانی عورتوں پر جنرل ضیا الحق کے سیاہ قوانین کے کوڑے برسے اور اس ظلم کی مزاحمت کے لیے ویمن ایکشن فورم وجود میں آئی تو نجمہ صادق اس کی بنیادی اراکین میں سے تھیں۔ 80ء کی دہا ئی میں کراچی کے اسی پریس کلب سے قانونِ شہادت کے خلاف ہم لوگوں نے ایک جلوس نکالا اور مارچ کرتے ہوئے گورنر ہائوس تک گئے تو یہ نجمہ صادق، انیس ہارون، شین فرخ اور دوسری بہت سی خواتین تھیں جو پُر جوش نعرے لگا رہی تھیں۔
وہ ایک آزاد روح تھیں جسے دنیا کے بکھیڑوں سے کوئی خاص تعلق نہ تھا۔ دنیب اور ہارون ان کی زندگی تھے جنھیں انھوں نے بہت محبت اور محنت سے تنہا پروان چڑھایا۔ دنیب کو اپنے کام سے جتنا گہرا لگائو ہے اسے دیکھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی ماں اور نانی کا پرتو ہے۔ نجمہ ایسی ماں سے جدا ہو جانا کچھ آسان نہیں، اس صدمے کو وہ کام میں ڈوب کر ہی جھیل سکتی ہے۔ صدمے کو سہنے کا یہی انداز نجمہ کو بھی پسند آئے گا۔