بھارتی دھاگے کی آمدوتوانائی بحران کے باعث روئی کے نرخ گرگئے

ملک بھر میں پورا کاٹن سیکٹر اس وقت ایک انتہائی گھمبیر صورتحال سے دوچار ہے۔


Ehtisham Mufti January 26, 2015
ٹی سی پی نے کاٹن جنرز سے خریدی گئی روئی کی ادائیگی بھی ابھی تک شروع نہیں کی جس سے کاٹن جنرز میں زبردست تشویش دیکھی جا رہی ہے،احسان الحق۔ فوٹو: فائل

بھارت سے سوتی دھاگے اورروئی کی بڑھتی ہوئی درآمدی سرگرمیوں اور توانائی کے غیر معمولی بحران کے باعث گزشتہ ہفتے مقامی کاٹن مارکیٹس میں روئی کی قیمتوں میں ریکارڈ مندی دیکھی گئی جبکہ امریکا میں سال کی بہترین کاٹن ایکسپورٹ رپورٹ کے اجرا کے باوجود نیویارک کاٹن ایکس چینج میں بھی مندی کا رجحان غالب رہا۔

بھارت سے سوتی دھاگے اور روئی کی درآمدپر فوری طور پر پابندی عائد نہ کی گئی تو پاکستانی کاٹن انڈسٹری کے ایک بڑے مالی بحران میں دو چار ہونے کا خدشہ ہے۔ چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ بھارت سے سوتی دھاگے کی درآمد میں مسلسل اضافے اور ٹیکسٹائل سیکٹر کو بجلی اور گیس کی فراہمی میں مزید کمی کے باعث گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمتیں 200سے 250 روپے فی من کمی کے بعد پنجاب میں 5ہزار 50 روپے جبکہ سندھ میں 4ہزار 700 روپے فی من تک گرگئیں جبکہ ٹیکسٹائل ملز مالکان نے کاٹن جنرز سے خریدی گئی روئی کی ادائیگیاں بھی مزید موخر کر دیں ہیں جس سے ملک بھر میں پورا کاٹن سیکٹر اس وقت ایک انتہائی گھمبیر صورتحال سے دوچار ہے۔

کاٹن انڈسٹری کی بحالی کے لیے حکومت پاکستان کو فوری طور پر بھارت سے روئی اور سوتی دھاگے کی درآمد پر فوری پابندی عائد کر دینی چاہیے یا کم از کم سوتی دھاگے کی درآمد پر درآمدی ڈیوٹی 5 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دینی چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گندم کی قیمتوں میں غیر معمولی مندی کے بعد فلور ملز ایسوسی ایشن کی اپیل پر ایک بہترین گندم امپورٹ/ ایکسپورٹ پالیسی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت گندم اور گندم کی مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی جبکہ گندم کی برآمد پر سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے جس سے توقع ہے کہ اس سے ملک بھر میں گندم کی قیمتوں میں زبردست تیزی کا رجحان سامنے آئے گا لیکن شاید پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن ابھی تک اپنے مطالبات وزارت خزانہ یا حکومت پاکستان کو صحیح طور پر آگاہ نہیں کرسکی جس کے باعث اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ابھی تک نہ تو بھارت سے سوتی دھاگے کی درآمد بارے کسی تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا ہے اور نہ ہی آئل کیک پر عائد 5 فیصد جی ایس ٹی ابھی تک واپس لیا گیا ہے جس کے باعث پورے کاٹن سیکٹر میں زبردست تشویش کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔

تاہم گزشتے ہفتے کے دوران حکومت پاکستان نے روئی کی درآمد پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس 1 فیصد سے بڑھا کر 5.50 فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے روئی کی قیمتوں میں قدرے تیزی کا رجحان سامنے آسکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 1.50 سینٹ فی پاؤنڈ کمی کے بعد 66 سینٹ فی پاؤنڈ، مارچ ڈلیوری روئی کے سودے 1.93 سینٹ فی پاؤنڈ کمی کے بعد 57.30 سینٹ فی پاؤنڈ، بھارت میں روئی کی قیمتیں 1ہزار 276 روپے فی کینڈی کمی کے بعد 29ہزار 909 روپے فی کینڈی، چین میں 40 یو آن فی ٹن کمی کے بعد 12 ہزار 875 یو آن فی ٹن جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ 200روپے فی من کمی کے بعد 4ہزار 750 روپے فی من تک گرگئے جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ رواں ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں مزید مندی کا رجحان سامنے آئے گا۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران جرمنی میں ہونے والے ایک ٹیکسٹائل فیئر سے پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان کو بڑے پیمانے پر ہوم ٹیکسٹائل کے برآمدی آرڈرز ملے ہیں تاہم اطلاعات کے مطابق یورو کی قیمت میں مسلسل مندی کے رجحان کے باعث پاکستانیوں کو انتہائی کم قیمتوں میں ان آرڈرز کی تکمیل کرنی پڑے گی تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان بھر میں جاری بجلی اور گیس کے غیر معمولی بحران کے باعث ان آرڈرز کی بروقت تکمیل میں بھی ٹیکسٹائل ملز مالکان کو کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جبکہ اطلاعات کے مطابق پاکستان میں امن و امان، توانائی کے بحران اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث پاکستان 2014 کے دوران جی ایس پی پلس اسٹیٹس کا وہ فائدہ نہیں اٹھا سکا کہ جس کی توقع کی جا رہی تھی اور معلوم ہو اہے کہ پاکستان کاٹن ایکسپورٹس میں مندی کا رجحان مسلسل دیکھا جا رہا ہے اور دسمبر 2014 میں پاکستان کاٹن ایکسپورٹس میں دسمبر 2013 میں 6.38 فیصد کمی دیکھی گئی ہے جو کہ انتہائی قابل تشویش ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دسمبر 2014 میں پاکستان سے 1.175بلین ڈالر کی کاٹن ایکسپورٹس کی گئی ہیں جبکہ دسمبر 2013 میں پاکستان سے 1.255 بلین ڈالر کی کاٹن ایکسپورٹس کی گئی تھیں ۔احسان الحق نے بتایا کہ ٹی سی پی نے کاٹن جنرز سے خریدی گئی روئی کی ادائیگی بھی ابھی تک شروع نہیں کی جس سے کاٹن جنرز میں زبردست تشویش دیکھی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 15 جنوری کو ختم ہونیوالے ہفتے کے دوران امریکا نے 4 لاکھ 70 ہزار 300 بیلز کے برآمدی معاہدے کیے ہیں جو پچھلے ہفتے کے مقابلے میں 7 فیصد جبکہ پچھلے 4 ہفتوں کی اوسط کے مقابلے میں 89 فیصد زائد ہے اور یہ پچھلے ایک سال کے دوران بہترین امریکی کاٹن ایکسپورٹ رپورٹ ہے۔ امریکا کی جانب سے فروخت ہونے والی بیلز میں سے چین نے 1 لاکھ 74 ہزار 500 جبکہ ویت نام نے 1 لاکھ 58 ہزار بیلز خریدی ہیں۔

مقبول خبریں