’’ عقل بڑی یا ٹیکنالوجی ‘‘
لالی وڈ کو ٹیکنالوجی سے زیادہ نئے موضوعات کی ضرورت ہے جب تک نئے موضوعات نہیں آتے جدید ٹیکنالوجی کی بھی ضرورت نہیں
ہالی وڈ عقل اوربولی وڈ نقل میں آگے، لالی وڈ ٹیکنالوجی کی تلاش میں۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
فنون لطیفہ میں سب سے زیادہ پسند کئے جانے والا میڈیم فلم کومانا جاتا ہے۔ دو سے تین گھنٹے میں جہاں فلم بین مکمل انٹرٹین ہوجاتے ہیں، وہیں فلم کے ذریعے انہیں معاشرے کے مسائل اوراس میں سدھارلانے کے طریقوں کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے منفرد نمونے بھی دیکھنے کوملتے ہیں۔
کہیں پردنیا کے خوبصورت مناظر پیش کئے جاتے ہیں توکہیں پرفلمی کہانی کے ذریعے رشتوں کو مضبوط کرنے کا سبق دیاجا تا ہے، کہیں پرجنگی مناظردکھائے جاتے ہیں توکہیں پرجدوجہد آزادی کی کہانی پیش کی جاتی ہے، کہیں تصوراتی کہانیوں کوفلم کی شکل دی جاتی ہے توکہیں زلزلے اورسمندری طوفان سے ہونے والی تباہی کوجدید ٹیکنالوجی سے حیران کن بنایا جاتا ہے۔ بس یوں سمجھ لیجئے کہ ہم دوسے تین گھنٹے دورانیے کی ایک فلم میں ہنسی، خوشی اورغم وغصے کے وہ تمام تاثرات دیکھ لیتے ہیں، جوہماری زندگیوں کے بہت قریب ہوتے ہیں۔
یہی نہیں اوربھی بہت سے موضوعات ہیں جن پردنیا کی سب سے بڑی اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ فلم انڈسٹری ہالی وڈ میں فلمیں بنائی جاتی ہیں۔ ''سپائیڈرمین، سپرمین، مائٹی ہمالین مین، اوتار، گاڈزیلا اور روبوکوپ''جیسی فلموں کو بنانے والوں نے اپنی عقل اورزہانت سے ایسے شاہکارتخلیق کئے ہیں جوان کی صلاحیتوں کا بہترین ثبوت پیش کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہالی وڈ کی ایک فلم دنیا بھرمیں جب نمائش کے لئے پیش کی جاتی ہے تویورپ اورخلیجی ریاستوں سمیت دنیا کے بیشترممالک میں انہیں مقامی زبانوں میں ڈبنگ کے ساتھ ریلیزکیا جاتا ہے۔
کروڑوں ڈالرمالیت سے بنائی جانے والی ایک فلم راتوں رات کروڑوں نہیں بلکہ اربوں ڈالرکا بزنس کرتی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں کام کرنے والے لوگ فلم میں حقیقت کا رنگ بھرنے کیلئے ہر وہ کام کرگزرتے ہیں جس کودیکھ کرہم حیران رہ جاتے ہیں۔ وہ سٹارڈم کوکیش کرنے کی بجائے اُن فنکاروں کا انتخاب کرتے ہیں جواس کردارکی ڈیمانڈ پرپورا اترتے ہوں۔ اسی لئے توہالی وڈ کی ہرفلم میں ہمیں ٹام کروز، براڈپٹ، لینارڈو، آرنلڈ، وین ڈیم، ہیری سن فورڈ، جیکی چن، انجلینا جولی، جوڈی فوسٹر، ڈیمی موور، ایما واٹسن، جولیا رابرٹس اور کیٹ ونسلنٹ سمیت دیگر پاپولر سٹار دکھائی نہیں دیتے۔
کیونکہ وہاں فلم کی کہانی کی ڈیمانڈ کو دیکھا جاتا ہے، کسی فنکارکی مقبولیت کونہیں۔ جبکہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت اورخاص طورپرپاکستان میں توایک نئے یا سینئر فنکارکی جب کوئی فلم کامیابی حاصل کرلیتی ہے توپھر ڈائریکٹر اورفلم میکرز کی اولین کوشش ہوتی ہے کہ اسی ہیرو یا ہیروئن کو اپنی فلم کا حصہ بنائیں۔ یہ بھی ایک بڑا بنیادی فرق ہے جس کی وجہ سے پاکستانی فلم انڈسٹری کا شماردنیا کی بڑی فلم انڈسٹریوں میں نہیں کیا جاتا۔ جہاں تک بات فلم کی کہانی اورکرداروں کے انتخاب کی ہے تواس پرتوجہ دینا توبے حد ضروری ہے لیکن شاید ہمارے ڈائریکٹروں اورفلم پروڈیوسروں کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ وہ ان پرکام کرسکیں۔
ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی فلم انڈسٹری بالی وڈ کا شمار اس وقت دنیا کی چند بڑی فلم انڈسٹریوں میں ہوتا ہے لیکن وہاں پرکام کرنے والوںکی بڑی تعداد ہالی وڈ فلموںکا چربہ بنانے پراپنی تر'' صلاحیتیں '' مرکوز رکھتی ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بھارت میں ہندی سمیت دیگرزبانوں میںبننے والی فلموں کی بڑی تعداد ہالی وڈ کا چربہ ہے لیکن جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ کام کرتے ہوئے بھارتی تکینک کاروں نے ''عقل کے ساتھ نقل'' کرنا شروع کی توفلم بین ان کی چربہ فلموں کوبھی دیکھنے سینما گھروں تک پہنچنے لگے اورآج وہی فلمیں 2 سے 3سوکروڑتک کا بزنس کررہی ہیں۔
ایک اوربات بھی ہے کہ بالی وڈ میں بننے والی سالانہ ایک ہزارسے زائد فلموں میں بہت سے نوجوان فنکاروں کوبھی کام کرنے کا موقع دیا جاتا ہے جو صرف اداکاری ہی نہیں بلکہ ڈائریکٹر، رائٹنگ اورمیوزک سمیت دیگرتکنیکی شعبوں میں قسمت آزماتے ہیں۔ اس کے علاوہ تھیٹراورٹی وی سے وابستہ فنکاروں کو بھی فلموں میں سائن کیا جاتا ہے۔ اس لئے بالی وڈ میں مختلف انداز کی فلمیں بنتی رہتی ہیں۔
پاکستان فلم انڈسٹری کی بات کی جائے توہمارے ہاں جہاں منفرد کہانی اورفنکاروں کا فقدان ہے، وہیں جدید ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی کی داستان بھی بہت پرانی ہوچکی ہے۔ پنجابی زبان میں بننے والی فلموں کی تعداد اردو اورپشتوزبان کی فلموں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے فلموں میں پنجاب کے اس کلچرکودکھایا جاتا ہے جوشاید اب نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ فلم بین اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ سینما گھروں کے منتظمین اب پنجابی فلم کا نام سن کرہی کترانے لگتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کی بات کی جائے تو بدقسمتی سے اگرحکومت یا کوئی ادارہ جدید ٹیکنالوجی کوملک میں امپورٹ کرلے تویہاں پرکوئی بھی ایسا تکنیک کارنہیں جو اس کو استعمال میں لا سکے۔ اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں جو کیمرے اور ٹیکنالوجی موجود ہے ، اس پرکام کرنے والوں نے حالیہ جدید ٹیکنالوجی کوکبھی استعمال نہیں کیا اورنہ ہی فلم انڈسٹری کی طرف سے انہیں اعلیٰ تربیت دلوانے کے لئے ہالی وڈ تودور کی بات ہے بھارت کے کسی انسٹی ٹیوٹ تک میں نہیں بھجوایا گیا ۔ اسی لئے حکومت بھی فلمسازی کے لئے جدید ٹیکنالوجی کوامپورٹ کرنے میں خاص دلچسپی نہیں رکھتی۔
ویسے بھی دیکھا جائے تولالی وڈ کو جدید ٹیکنالوجی سے زیادہ نئے موضوعات کی ضرورت ہے۔ جب تک نئے موضوعات ہمارے پاس نہیں آجاتے ، اس وقت تک جدید ٹیکنالوجی کی بھی کوئی ضرورت نہیں ۔ اگرہم نے معمول کی فارمولا فلمیں ہی بنانا ہیں توپھرجدید ٹیکنالوجی بھی ان کوبین الاقوامی معیار تک نہیں پہنچا سکتی۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم اس بات کا فیصلہ کرلیں کہ ''عقل سے کام کرنا ہے یا نقل سے ''۔ ایک بات توطے ہے کہ '' نقل کرنے اورجدید ٹیکنالوجی کے استعمال کیلئے بھی عقل کا ہونا بے حدضروری ہے''۔