گیس بحران صنعتکاروں کا یونٹس کی منتقلی کیلیے ابوظہبی حکومت سے رجوع

ابوظبی کو زمین کی فراہمی کیلیے خط لکھ دیا، جاوید بلوانی، اہم ملکی صنعتی علاقے سائٹ کراچی میں گیس قلت پراحتجاج


Business Reporter January 27, 2015
صوبہ سندھ سے70فیصد اور بلوچستان سے 17فیصد گیس نکلتی ہے لیکن دونوں صوبوں کو مجموعی طور پر صرف26فیصد گیس مہیا کی جا رہی ہے،زبیر موتی والا۔ فوٹو: فائل

QUETTA: پاکستان کے سب سے پہلے اور اہم صنعتی علاقے سائٹ کراچی کی صنعتوں کو گیس کی شدید قلت کا سامنا ہے جس سے پیداواری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہورہی ہیں، صنعت کاروں نے گیس کی بندش کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے گورنر اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کی دھمکی دے دی ہے۔

سائٹ کے صنعتی علاقے میں گیس کی بندش کے خلاف سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید بلوانی، پیٹرن انچیف سراج قاسم تیلی، زبیر موتی والا و دیگر نے کہا کہ سائٹ میں واقع صنعتیں رواں ماہ کے 25 روز میں 13 روز جبکہ اکتوبر2014 سے اب تک مجموعی طور پر43 روز گیس سے محروم رہیں، سندھ پاکستان میں سب سے زیادہ گیس پیدا کرتا ہے مگر سائٹ کی صنعتیں گیس کو ترس رہی ہیں اور تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہیں، گیس آتی بھی ہے تو پریشر انتہائی کم ہوتا ہے۔

جاوید بلوانی نے کہا کہ سائٹ کے علاقے میں گیس پائپ لائن صنعتوں کو گیس کی فراہمی کے لیے بچھائی گئی تھی لیکن اسی پائپ لائن سے سی این جی اسٹیشنز کو گیس فراہم کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ ایس ایس جی سی اور اوگرانے سائٹ انڈسٹریل ایریا میں34سی این جی اسٹیشنز قائم کرنے کی اجازت کیسے دے دی، سی این جی اسٹیشنز کے لیے مخصوص فاصلوں کی دوری کا قانون بنایا گیا ہے مگر سائٹ انڈسٹریل ایریا میں اس قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے سی این جی اسٹیشنز قریب قریب قائم کیے گئے ہیں جس کے نتیجے میں گیس کے پریشر میں کمی ہوجاتی ہے، صنعتوں میں پیداواری عمل رک جاتا ہے۔

یہ المیہ ہے کہ 100فیصد برآمدی صنعتوں کو بھی گیس سے محروم رکھا جارہا ہے جس سے نہ صرف بیش قیمت زرمبادلہ کا نقصان ہورہا ہے بلکہ صنعتیں بند ہونے سے بے روزگاری میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ جاوید بلوانی نے مطالبہ کیا کہ سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی فراہمی کے سلسلے میں علیحدہ پائپ لائن بچھائی جائے تاکہ سائٹ کی انڈسٹریز کو بلا تعطل پورے پریشر سے گیس دستیاب ہوسکے۔ جاوید بلوانی نے کہا کہ ہم نے گیس نہ ملنے سے مایوس ہونے پر ابوظبی حکومت کو خط لکھ دیا ہے کہ ہمیں وہاں صنعتیں قائم کرنے کے لیے زمین مہیا کرے۔

اس موقع پر سراج قاسم تیلی نے کہا کہ ملکی آئین کی شق158 میں واضح طور پر لکھا ہے کہ گیس کی فراہمی کے سلسلے میں اس صوبے کو ترجیح دی جائے گی جس صوبے میں گیس پیدا ہوتی ہے، صوبہ سندھ گیس کی مجموعی پیداوار کا 70 فیصد فراہم کرتا ہے مگر صوبہ سندھ کی صنعتوں کو گیس سے محروم کر کے نہ صرف اس کے حقوق بلکہ دستور پاکستان کی بھی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ امر حیرت انگیز ہے کہ حکومت سندھ نے ایس ایس جی سی کی جانب سے سائٹ کو گیس کی فراہمی میں غفلت پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے جبکہ سندھ سے مینڈیٹ حاصل کرنے والی سیاسی جماعتوں نے بھی چپ سادھ لی ہے حالانکہ سائٹ کے لاکھوں مزدور اور ہنر مند روزگار سے محروم ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سائٹ کی صنعتوں کو گیس کی سپلائی متاثر ہونے اور قلت پر پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی قیادت بھی ہمارا ساتھ دیں، دوسری صورت میں صنعتکار وزیراعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس پر دھرنا دیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ کے سابق مشیر اور کراچی چیمبر آف کامرس کے سابق صدر زبیر موتی والا نے کہا کہ سائٹ صنعتی علاقہ7روز سے بند ہے اور صنعتی پیداواری عمل شدید متاثر ہے، ایس ایس جی سی کے ذمے داران سائٹ صنعتی علاقے میں گیس کا پریشر زیرو کردیتے ہیں جبکہ رات کو ایک بجے کے بعد گیس کا پریشر کچھ بہتر کیا جاتا ہے جو انڈسٹری کے لیے بے فائدہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبہ سندھ سے70فیصد اور بلوچستان سے 17فیصد گیس نکلتی ہے لیکن دونوں صوبوں کو مجموعی طور پر صرف26فیصد گیس مہیا کی جا رہی ہے، حکومت 1250ایم ایم سی ایف ڈی کوٹہ سندھ اور بلوچستان کو فراہم کرے۔