حصص مارکیٹ پہلی بار 34500 پوائنٹس کی حد عبور کرگئی

کاروباری حجم پیر کی نسبت6.02 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر34 کروڑ2 لاکھ72 ہزار260 حصص کے سودے ہوئے۔


Business Reporter January 28, 2015
مارکیٹ میں تیزی کے باوجود57.81 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی تاہم حصص کی مالیت میں22 ارب 49 کروڑ55 لاکھ1 ہزار78 روپے کا اضافہ ہوگیا۔ فوٹو: آن لائن/فائل

ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی اور لسٹڈ کمپنیوں کے اچھے مالیاتی نتائج کراچی اسٹاک ایکس چینج کی سرگرمیوں پرمنگل کو بھی مثبت طور پر اثرانداز رہے جس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں اتار چڑھاؤ کے باوجود بہتری کی جانب گامزن رہیں اور تیزی کا تسلسل قائم رہنے سے ملکی تاریخ میں پہلی بار انڈیکس 34500پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کرگیا۔

مارکیٹ میں تیزی کے باوجود57.81 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی تاہم حصص کی مالیت میں22 ارب 49 کروڑ55 لاکھ1 ہزار78 روپے کا اضافہ ہوگیا۔ ماہرین اسٹاک وتاجران کا کہنا تھا کہ منگل کو سیمنٹ اور آئل سیکٹر میں بہتری رونما ہوئی تاہم ٹریڈنگ کے وسط میں پرافٹ ٹیکنگ اور حصص کی فروخت پر دباؤ بڑھنے کی وجہ سے ایک موقع پر85.29 پوائنٹس کی مندی بھی رونما ہوئی کیونکہ غیرملکیوں، مقامی کمپنیوں، بینکوں و مالیاتی اداروں اور این بی ایف سیز کی جانب سے مجموعی طور پر1 کروڑ64 ہزار670 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا تاہم اس دوران میوچل فنڈز کی جانب سے 39 لاکھ 31 ہزار707 ڈالر، انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے56 لاکھ50 ہزار628 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے 4 لاکھ82 ہزار335 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری سے مارکیٹ کا مورال بلندی کی جانب گامزن رہا جس کے نتیجے میں کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس71.92 پوائنٹس کی تیزی سے ریکارڈ34538.45 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس38.70 پوائنٹس کے اضافے سے 22435.72 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 694.59 پوائنٹس بڑھ کر 54472.94 ہوگیا۔

کاروباری حجم پیر کی نسبت6.02 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر34 کروڑ2 لاکھ72 ہزار260 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 384 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 152 کے بھاؤ میں اضافہ، 222 کے دام میں کمی اور10 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔