آرمی پبلک اسکول کا زخمی طالبعلم 44 ویں روز بھی کراہتا رہا

صوبائی اوروفاقی حکومت کی جانب سے احمد نواز کو بیرون ملک بھجوانے کے اعلان سے بات آگے نہ بڑھ سکی۔


Numainda Express January 28, 2015
احمد نواز 44 روز سے حکمرانوں کی بے حسی پرحسرت ویاس کی تصویر بنارہا۔ی۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: آرمی پبلک اسکول کے شہید طالبعلم حارث نوازکے والد محمد نواز کی جانب سے اپنے دوسرے زخمی بیٹے احمد نواز کو علاج کیلیے بیرون ملک بھجوانے کیلیے وفاقی حکومت کودی گئی ڈیڈلائن گزرگئی مگر صوبائی حکومت اوروفاقی حکومت کی جانب سے احمد نواز کو بیرون ملک بھجوانے کے اعلان سے بات آگے نہ بڑھ سکی اور احمد نواز 43 ویں روز بھی پشاورکے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں اپنے زخم دیکھ دیکھ کر حکمرانوں کی بے حسی پرحسرت ویاس کی تصویر بنارہا۔

احمد نوازکے والدنے منگل سہہ پہرتین بجے تک الٹی میٹم دیاتھاکہ اگرتحریک انصاف کی صوبائی اورمسلم لیگ(ن)کی وفاقی حکومت نے اپنے اعلانات کو مقررہ وقت تک عملی جامہ نہ پہنایاتووہ اپنے بچے کے علاج کیلیے مخیرحضرات کی جانب دیکھنے پرمجبورہوجائے گا اور زخمی بچے کو لے کر وزیراعظم ہاؤس، بنی گالہ اور برطانوی سفارتخانے کے سامنے احتجاج کرنے سے دریغ بھی نہیں کریگا۔ گزشتہ روزبھی محمد نواز کے ساتھ کسی نے رابطہ نہیں کیا۔''ایکسپریس'' سے بات چیت کرتے ہوئے محمد نواز نے بتایاکہ وزیراعظم سیکریٹریٹ سے اب بھی ان کویقین دہانی کرائی جارہی ہے کہ بچے کوباہربھجوانے کاکیس پراسس میں ہے آئندہ دو دنوں میں اس کو برطانیہ روانہ کردیا جائیگا۔