پاک افغان جوائنٹ چیمبر کے وفد کی افغان صدر سے ملاقات

ملاقات کا مقصد دونوں ملکوں کے باہمی دلچسپی کے امورپر تبادلہ خیال اورتجارت کی نئی راہیں تلاش کرنا تھا


Business Reporter February 01, 2015
افغان صدر کو چیمبراور اس کو درپیش مسائل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی اور پاکستان، افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت میں مزید اضافے پر بھی زور دیا۔ فوٹو فائل

پاک افغان جوائنٹ چیمبرآف کامرس کے5رکنی وفد نے اسلامی جمہوریہ افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی سے کابل میں ملاقات کی ۔

ملاقات کا مقصد دونوں ملکوں کے باہمی دلچسپی کے امورپر تبادلہ خیال اورتجارت کی نئی راہیں تلاش کرنا تھا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دیاجاسکے۔ کے سی سی آئی کے صدر افتخار احمد وہرہ نے پی اے جے سی سی آئی کے بانی صدر زبیر موتی والا کی طرف سے وفد کی سربراہی کی۔ وفد میں پی اے جے سی سی آئی کے ڈائریکٹرز بشمول جنید اسماعیل ماکڈا، اے کیو خلیل، حاجی عبدالقیوم کاکڑ اورضیاء سرحدی شامل تھے جبکہ پی اے جے سی سی آئی کے صدر خان جان الکوزئی اور افغانستان کی طرف سے بھی دیگر اہم شخصیات اجلاس میں شریک ہوئے۔

افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی نے اجلاس کے شرکا سے خطاب سے قبل پی اے جے سی سی آئی کے بانی صدر زبیر موتی والا کی والدہ اور بھتیجے کے انتقال پر دلی تعزیت کی۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پی اے جے سی سی آئی کے مؤثر کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ پی اے جے سی سی آئی حکومت پاکستان پر مختلف معاہدوں اور یقین دہانیوں پر کام تیز کرنے پر زور دے جس کی یقین دہانی پاکستانی حکام نے اُنہیں نومبر 2014 میں دورہ پاکستان کے موقع پر کرائی تھی۔

انہوں نے افغانستان کی معاشی سرگرمیوںمیں اہم شراکت دار اور قابل اعتماد کردار کے حامل ہونے پر کہاکہ دونوں ملکوں کے مابین قانونی طور پردوطرفہ تجارت کا فروغ پاکستان اور افغانستان کی عوام کے لیے خوشحالی لانے کا باعث ہو گا۔ افغان صدر نے اشیا کی اسمگلنگ کو کسی صورت قبول نہ کرنے پر زور دیا اورافغانستان میں ابھرتے ہوئے اقتصادی مواقع پر روشنی ڈالی۔ کراچی چیمبرکے صدر افتخاروہرہ نے اجلاس میں پی اے جے سی سی آئی کے بانی صدر زبیر موتی والا کی نمائندگی کرتے ہوئے کہاکہ پی اے جے سی سی آئی نے کامیابی کے ساتھ اپنے 3سال مکمل کیے ہیں اور وقت کے ساتھ چیمبر نے کئی اہم سنگ میل حاصل کیے۔

انہوں نے تجویز دی کہ افغان کسٹم حکام پاکستان سے آنے والے ہر کنٹینر پر100ڈالر وصول کرتے ہیں جسے ختم کرنے ضرورت ہے جبکہ افغانستان کے راستے سی آئی ایس ممالک سے جانے والی پاکستانی شپمنٹس پر110فیصدٹرانزٹ گارنٹی جمع کرانے کی شرط کوبھی ختم کیا جائے، اگرچہ ٹرکوں کی واپسی پر افغان حکام گارنٹی کی مد میں جمع کرائی گئی رقم واپس کردیتے ہیں مگر اس رقم کی واپسی کے حصول میں بہت زیادہ وقت لگ جاتا ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے سابق افغان صدرحامد کرزئی کے دورحکومت کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اُن کے دور میں پاکستان کے لیے سی آئی ایس ممالک سے ایل پی جی کی نقل وحمل پر پابندی عائد کردی گئی تھی جبکہ اس وقت ازبکستان اورترکمانستان میں ایل پی جی کی اضافی پیداوار ہور ہی ہے جو افغان حکومت کی جانب سے پابندی اٹھانے کی صورت میں پاکستان کے لیے خاطر خواہ فائدے کا باعث ہوسکتی ہے جس سے ملک میں جاری توانائی کے بحران سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔خان جان الکوزئی نے اس موقع پر افغان صدر کو چیمبراور اس کو درپیش مسائل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اور پاکستان، افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت میں مزید اضافے پر زور دیا۔