جمہوریت کا اکھاڑہ

بہت سارے مشورے بہت ساری حمایتیں اور مخالفتیں اصولی نہیں ہوتے بلکہ وقت کی ضرورت ہوتے ہیں۔


Zaheer Akhter Bedari February 03, 2015
[email protected]

سندھ اسمبلی میں جو کچھ ہوا اس کا جائزہ لینے سے پہلے ہم دو اہم نکات پر نظر ڈالتے ہیں۔ ایک یہ کہ اختلاف رائے کو جمہوریت کا حسن کہا جاتا ہے، دوسرے یہ کہ ہندوستان کیوں تقسیم ہوا؟ ہمارے سیاسی رہنما اپنی منافقانہ سیاست کو چھپانے کے لیے بڑے فخر سے کہتے رہتے ہیں کہ ''اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے'' جمہوریت میں اختلاف رائے بلا شبہ ناگزیر ہے کیوں کہ اختلاف رائے بنیادی طور پر ایک مثبت نتیجے پر ختم ہوتا ہے ۔

معاشی اور معاشرتی ترقی میں بھی اختلاف رائے کی بڑی اہمیت ہوتی ہے لیکن ''اختلاف رائے ان جمہوریتوں میں جمہوریت کا حسن ہوتا ہے'' جہاں حقیقی معنوں میں جمہوریت ہوتی ہے اور جمہوریت ان ہی ملکوں میں کامیاب ہوتی ہے جہاں سیاسی رہنماؤں کی سیاسی ترجیح جمہوریت ہوتی ہے جمہوریت اصل میں سرمایہ دارانہ نظام کا پروڈکٹ ہے اس حوالے سے جمہوریت اسی معاشرے میں پروان چڑھتی ہے جہاں سرمایہ دارانہ نظام مضبوط ہو۔ بد قسمتی سے ہمارا ملک ابھی تک فکری حوالے سے نیم قبائلی جاگیردارانہ نظام کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے اور اس نظام کی ایک بہت بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس نظام میں اختلاف رائے عموماً دشمنیوں اور قتل و غارت تک پہنچ جاتا ہے۔

اس حوالے سے دوسرا بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ''ہندوستان کو کیوں تقسیم کیا گیا؟'' اس سوال کے جواب میں یہ دلیل یا جواز پیش کیا جاتا ہے کہ ہندو اکثریت والے ملک میں مسلم اقلیت ہمیشہ خوف کا شکار رہتی اور ہندو اکثریت کی معاشی اور معاشرتی برتری ہمارے قومی تشخص کے لیے ساز گار نہیں ہوسکتی اس لیے کہ اس قدر تگڑی اور متعصب اکثریت میں ہم یعنی مسلمان آزادی کے ساتھ اپنی تہذیب اور عقائد کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتے۔

یہ دلیل اور جواز بلا شبہ معقول بھی ہے اور منطقی بھی لیکن کیا ہم نے اس فیصلے کے وقت اپنے قومی مزاج، اپنی مذہبی تاریخ پر نظر ڈالنے کی زحمت کی تھی۔ بلا شبہ پاکستان کو علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر کہاجاتا ہے لیکن یہ تعبیر اس قدر بھیانک ہوسکتی ہے کیا اس امکان پر بھی نظر ڈالنے کی کسی نے زحمت کی تھی۔ یا صرف ''مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا'' جیسے مفروضوں ہی کو ہم نے اپنا ایمان بنالیا اور ''اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے'' کو نظر انداز کر گئے؟

ان دو بنیادی مفروضات پر نظر ڈالنے کے بعد آیئے اب ذرا سندھ اسمبلی میں لگائے جانے والے مچھلی بازار پر نظر ڈالیں۔ پہلی بات تو یہ کہ سندھ اسمبلی میں ہونے والا غل غپاڑہ پسماندہ جمہوریتوں کا ایسا لازمہ ہے جس کے بغیر ان ملکوں کی جمہوریت کی خوبیوں اور اسرار کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ اس حوالے سے ہمارا ملک سر فہرست اس لیے ہے کہ ہم ابھی تک نیم قبائلی جاگیر دارانہ نظام میں رہ رہے ہیں جہاں اختلاف رائے کا مطلب دشمنی ہوتا ہے۔ سندھ اسمبلی کے اس ہنگامے کی بنیاد بھی ''جمہوریت کا حسن یعنی اختلاف رائے ہی ہے۔''

متحدہ کے رہنماؤں کا کہناہے کہ وہ بار بار اپنے سیکٹر انچارج کی گرفتاری کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیتے رہے لیکن ان کی یہ کوشش صدا بہ صحرا ثابت ہوئیں اور موچکو سے سہیل احمد کی لاش ملی۔جیسا کہ بتایاگیا اگر ایسا ہی ہوا تھا تو متحدہ کا یہ حق تھا کہ وہ اسمبلی میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرائے۔ بات یوں خراب ہوئی کہ سندھ کے وزیراعلیٰ بوجوہ جلال میں آگئے، اتفاق سے اس وقت ہم بھی ٹی وی کے سامنے بیٹھے تھے ہم نے پہلی بار قائم علی شاہ کو متحدہ پر سخت تنقید کرتے دیکھا۔ پھر وہی ہوا جو جمہوریت میں ہوتا ہے اور بات نعروں سے نکل کر پورے سندھ میں پہیہ جام ہڑتال تک جا پہنچی۔

بہت سارے مشورے بہت ساری حمایتیں اور مخالفتیں اصولی نہیں ہوتے بلکہ وقت کی ضرورت ہوتے ہیں ہم ایک عرصے سے سندھ کی دو بڑی جماعتوں پیپلزپارٹی اور متحدہ کو یہ مشورے دے رہے ہیں کہ وہ سندھ کے عوام ہی کے مفاد میں نہیں بلکہ خود اپنے مفاد میں متحد ہوکر اس صوبے خاص طور پر کراچی کے عوام کو ان خطرناک مسائل سے نکالنے کی کوشش کریں جو سانپوں، بچھوؤں کی طرح ان کے جسموں سے لپٹے ہوئے ہیں۔ اب یہ بات کوئی سیکریٹ نہیں رہی کہ پیپلزپارٹی سندھیوں کی سیاست کررہی ہے اور متحدہ مہاجروں کی اور سیاست کا یہی انداز ان گمبھیر مسائل کو جنم دے رہا ہے۔

جن کا سامنا سندھیوں، مہاجروں کو ہی نہیں بلکہ کراچی شہر میں رہنے والے ہر فرد کو ہے۔ ہم کالم کی تنگی کی وجہ سے اس سیاست کے فائدے اور نقصانات پر تو تفصیلی بات نہیں کرسکتے لیکن اتنا ضرور کہیں گے کہ چھری خربوزے پر گرے یا خربوزہ چھری پر، نقصان خربوزے کا ہی ہوتا ہے اس لیے کہ چھری مضبوط ہوتی ہے اور خربوزہ کمزور ہماری رائج الوقت سیاست میں تمام جماعتیں چھری بنی ہوئی ہیں اور بے چارے عوام کی حیثیت خربوزے کی ہوگئی ہے۔

کراچی میں جو کچھ ہورہاہے اس کی ذمے داری کسی ایک جماعت پر نہیں ڈالی جاسکتی کیوں کہ کراچی ایک ایسا معاشی حب یا بکرا ہے جس کے جسم سے ہر جماعت زیادہ سے زیادہ گوشت حاصل کرنا چاہتی ہے۔ پیپلزپارٹی ملک کی دوسری بڑی اور سندھ کی سب سے بڑی پارٹی ہے اس حوالے سے اس پر یہ بڑی ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بڑے پن کا ثبوت دیتے ہوئے تمام چھوٹی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلے لیکن ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے بلکہ معاملہ ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز کا نظر آرہاہے۔

متحدہ کو اس وقت بھی یہ شکایت تھی جب وہ سندھ حکومت کی اتحادی تھی اور اب بھی یہی شکایت ہے کہ سندھ خصوصاً کراچی میں اردو اسپیکنگ کے ساتھ سخت زیادتیاں ہورہی ہیں خواہ مسئلہ ملازمتوں میں میرٹ کا ہو یا 1973 میں 10 سال کے لیے نافذ کوٹہ سسٹم کا، متحدہ کی اس شکایت کو محض عادت کہہ کر نظر انداز نہ کیاجائے بلکہ اس کا ایمانداری اور غیر جانبداری سے جائزہ لے کر اس کا منصفانہ حل تلاش کیاجائے۔

کراچی میں ہونے والے خون خرابے کی ذمے داری کسی ایک جماعت پر نہیں ڈالی جاسکتی ہے کیوں کہ یہاں مختلف مفادات متحرک ہیں جن میں دہشت گرد بھی ایک بڑا فیکٹر بنے ہوئے ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ ہو یا بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان ہو یا بینکوں کی بڑی بڑی ڈکیتیاں دہشت گرد اس حوالے سے سرفہرست سمجھے جارہے ہیں چوںکہ دہشت گردی اب ملک و قوم کے لیے اس کی بقا کا مسئلہ بن گئی ہے لہٰذا پوری قوم سوائے چند جماعتوں کے متحد ہے۔

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی اتحاد ضروری ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سیاسی جماعتوں کا یہ انتہا کو پہنچا ہوا اختلاف رائے جمہوریت کا حسن بن کر یا بد صورتی بن کر دہشت گردی کے خاتمے میں مددگار ثابت ہورہاہے یا دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کا باعث بن رہا ہے؟

ماورائے قانون یا عدالت شہریوں کا قتل ہماری جمہوریت ہی نہیں ہماری تہذیب، ہماری عدلیہ، ہمارے قانون سب ہی کے چہرے کا کلنک بن گیا ہے اس برائی کی غلط صحیح تاویلوں کے بجائے اس کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوشش کی ضرورت ہے یا ذمے داری ہے لیکن چوں کہ ریاستی مشینری حکومت کی تحویل میں ہوتی ہے لہٰذا یہ حکومت کی بنیادی ذمے داری ہے کہ وہ ریاستی مشینری کا امتیازی استعمال نہ کرے بلکہ اس کا استعمال آئین اور قانون کے مطابق انتہائی غیر جانبداری سے کرے۔

مقبول خبریں