مقدمہ واپسی اسکیم کا ڈیٹا نہ دینے پر ایف بی آر ماتحت اداروں پر برہم

اہم معاملہ ہے،اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کا ڈیٹا پیر تک بھیج دیاجائے، سیکریٹری لیگل


Irshad Ansari February 07, 2015
مذکورہ اقدام کا بنیادی مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ مذکورہ اسکیم کے باجود ابھی تک کتنے مقدمات زیر التوا و زیر سماعت ہیں اور ان مقدمات میں کتنا ریونیو پھنسا ہوا ہے،ذرائع۔ فوٹو: فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے تمام ماتحت اداروں سے ٹیکس دہندگان کے لیے متعارف کرائی جانے والی ایف بی آر کے خلاف دائر مقدمات کی واپسی کی اسکیم کے بارے میں تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آر نے ملک بھر میں قائم تمام ریجنل ٹیکس آفسز (آر ٹی اوز)، لارج ٹیکس پیئر یونٹس(ایل ٹی یوز)، ڈائریکٹرجنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو سمیت دیگر ماتحت اداروں کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کسٹمز ایف بی آر، ڈائریکٹر جنرل ویلیو ایشن کسٹمز، نارتھ، سائوتھ اور سینٹرل کے چیف کلکٹرزسمیت تمام کلکٹرز کسٹمز کو خطوط لکھے ہیں جس میں بار بار ریمائنڈر بھجوانے کے باوجود مقدمات کی واپسی کی اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے ٹیکس دہندگان کے بارے میں تفصیلات فراہم نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا ہے۔

ایف بی آر کے سیکریٹری لیگل (ڈائریکٹ ٹیکس) نوشیروان خان کی جانب سے ایف بی آر کے مذکورہ ماتحت اداروں کو لکھے جانے والے خطوط میں کہا گیا ہے کہ مقدمات کی واپسی کی اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے ٹیکس دہندگان کے بارے میں ڈیٹا کی فراہمی انتہائی اہم نوعیت کا معاملہ ہے اور چیئرمین ایف بی آر خود اس کی مانیٹرنگ کررہے ہیں، ایف بی آریہ ڈیٹا وزیر خزانہ کے قائم کردہ ٹیکس اصلاحات کمیشن کو فراہم کرے گا لہٰذا تمام ماتحت اداروں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ معاملے کی اہمیت و سنجیدگی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ٹیکس دہندگان کے لیے متعارف کرائی جانے والی ایف بی آر کے خلاف دائر مقدمات کی واپسی کی اسکیم ''ڈی لگنگ لیٹی گیشن اسکیم'' کے بارے میں تفصیلات 9 فروری 2015 تک بذریعہ ای میل سیکریٹری لیگل ایف بی آر ہیڈکوارٹرز کو بھجوائی جائیں۔

ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے غیرضروری مقدمہ باری ختم کرنے کے لیے ون ٹائم اسکیم متعارف کرائی تھی جس کا مقصد ٹیکس دہندگان کی جانب سے مختلف قانونی فورمز پر ایف بی آر کے خلاف دائر مقدمات کو واپس لینے کا موقع دینا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر کو کوئی معلومات نہیں کہ کتنے ٹیکس دہندگان کی جانب سے مذکورہ اسکیم کے تحت ایف بی آر کے خلاف دائر مقدمات واپس لیے گئے، اس سے مقدمات کی تعداد میں کتنی کمی ہوئی اور مقدمات کے تصفیے کے باعث ٹیکس دہندگان نے رضاکارانہ طور پر ایف بی آر کو کتنا ریونیو جمع کرایا۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ اقدام کا بنیادی مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ مذکورہ اسکیم کے باجود ابھی تک کتنے مقدمات زیر التوا و زیر سماعت ہیں اور ان مقدمات میں کتنا ریونیو پھنسا ہوا ہے۔