حکومت خیبر پختونخوا کی توجہ کے لیے

یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں ہر سال ان گنت بچے بڑے بھوک سے مرجاتے ہیں،


Zaheer Akhter Bedari February 10, 2015
[email protected]

ہمارا حکمران طبقہ اپنی تقاریر،اپنے بیانات،اپنے انٹرویوز، اپنی پریس کانفرنسوں میں عوام کے لیے مگر مچھ کے آنسو بہاتا تو نظر آتا ہے لیکن عوام کے مسائل جب سامنے آتے ہیں تو اسے سانپ سونگھ جاتا ہے۔ آئے دن اخبارات میں بھوک بیکاری سے تنگ آکر خودکشیاں کرنے والوں کی خبریں چھپتی رہتی ہیںلیکن ہم نے کبھی کسی حکمران کو بھوک سے تنگ آکر اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے والوں کے بارے میں ہمدردی کے دو بول کہتے نہیں سنا۔

ایسے مرحومین کے لواحقین کے گھر جاکر تعزیت کرتے اور ان کی مالی امداد کرتے دیکھا ہے۔ اس حوالے سے اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس ملک کے ہر شہری کو روٹی روزگار فراہم کرنے کی ذمے داری حکومت پر آتی ہے، یہ محض اخلاقی ذمے داری نہیں ہے بلکہ آئینی ذمے داری ہے۔ قتل کے جو مختلف طریقے ہمارے ملک میں رائج ہیں، ان میں ایک قتل بالواسطہ قتل ہے، قتل بالواسطہ ہو یا بلا واسطہ وہ قتل ہی ہوتا ہے۔ انسان کی جان محض گولیوں، دھماکوں ہی سے نہیں جاتی ہے بلکہ بھوک اورعلاج سے محرومی سے بھی جاتی ہے اور ان حوالوں سے ہونے والا جانی نقصان مصنوعی طور پر قتل عمد ہے اور اس کی ذمے داری حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔

مختلف سروے کرنے والے اداروں کی جانب سے ہر سال ملک میں اور دنیا میں بھوک، بیماری وغیرہ سے مرنے والوں کے اعداد و شمار مہیا کیے جاتے ہیں جو لاکھوں میں ہوتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھوک اور علاج سے محرومی کے سبب جان سے ہاتھ دھونے والے لاکھوں انسانوں کی موت کیا طبعی کہلاسکتی ہے یا یہ قتل ہے؟ اگر یہ قتل ہے تو اس کا ذمے دار کون ہے اور اسے کون سزا دے گا، ہمارے سیاسی، مذہبی اور برسر اقتدار عمائدین عموماً حضرت عمرؓ کے ایک فرمودے کا حوالہ دیتے ہیں کہ اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوک سے مرجائے تو اس کی ذمے داری حکومت وقت پر آتی ہے۔

یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں ہر سال ان گنت بچے بڑے بھوک سے مرجاتے ہیں، ہزاروں علاج معالجے کی سہولتوں سے محرومی کی وجہ سے جان سے جاتے ہیں، ہزاروں خواتین زچگی کی سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے موت کا شکار ہوجاتی ہیں اس کا ذمے دار کون ہے؟

ہمارے اسلامی ملک میں سماجی اداروں اور مخیر حضرات کی طرف سے مستحقین کو زکوٰۃ، خیرات کے نام پر امداد دی جاتی ہے اور ہر بڑے اسپتال میں ایک زکوٰۃ فنڈ رکھا گیا ہے جس سے 'نادار' مریضوں کی مدد کی جاتی ہے، کراچی جیسے ترقی یافتہ شہر میں بھوکوں کے لیے کھانا فراہم کرنے والے بہت سارے ادارے موجود ہیں ، لیکن ان حوالوں سے مدد حاصل کرنے والے غیرت نفس کی پامالی کا جس طرح شکار ہوجاتے ہیں اس کا احساس یا غیرت حکمرانوں کو بھلا کہاں ہوسکتا ہے؟

کراچی جیسے ملک کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ شہر میں بڑے سرکاری اسپتالوں کے باہر اندرون ملک سے علاج کے لیے آنے والے سیکڑوں مریض اسپتال سے ملحق فٹ پاتھوں پر اپنی باری کا ہفتوں، مہینوں انتظار کرتے ہیں لیکن ''باریاں'' لینے والے حکمرانوں کو توفیق نہیں ہوتی کہ وہ علاج کے لیے اپنی باری کا فٹ پاتھوں پر پڑے انتظار کرنے والوں کو اس ناروا اور جابرانہ انتظار سے بچائیں۔ جب کہ تعلیم اور علاج ہر ملک کے حکمرانوں کی آئینی ذمے داری ہے۔

شخصی اور شاہانہ حکومتوں میں ضرورت مند عوام کی مدد کرنے کو ثواب کہا جاتا ہے ،کسی کی مدد کرنا یقیناً بڑی اچھی بات ہے اگر پڑوس میں کوئی بھوکا ہوتا ہے تو اس کی ذمے داری پڑوسی پر آتی ہے۔ یہ سارے کام بلا شبہ نیکی کے ہیں لیکن جمہوری حکومتوں کی یہ آئینی ذمے داری ہے کہ وہ بھوکے کو غذا، ننگے کو کپڑا، مریض کو علاج ، بچوں کو تعلیم اور بڑوں کو روزگار فراہم کرے، خیراتی ادارے ضرورت مندوں کو امداد فراہم کرکے حکمرانوں کی نا اہلی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔

کالم نگاروں کے پاس ملک کے مختلف حصوں خصوصاً خیبرپختونخوا سے بے شمار ضرورت مندوں کے خطوط آتے ہیں کہ وہ ان ضرورت مندوں کی ضرورت کا اپنے کالموں میں ذکر کرکے مخیر حضرات سے مدد کی اپیل کریں۔ میرے پاس بھی ملک کے مختلف حصوں خصوصاً خیبرپختونخوا سے ضرورت مندوں کے خطوط آتے ہیں، فون اور ایس ایم ایس آتے ہیں لیکن میں فطرتاً اور نظریاتی طور پر اس حوالے سے با خبر ہوں کہ ضرورت مند عوام کی مدد کرنا حکومتوں کی قانونی اور اخلاقی ذمے داری ہے۔ اس لیے مخیر حضرات سے مدد کی اپیل سے گریز کرتا ہوں۔

مجھے خیبر پختونخوا کے علاقے سیارگئی تحصیل تیمرگرہ سے رحمان اﷲ ولد صاحب اﷲ کا ایک چار صفحے کا خط ملا ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس کے کم عمر بیٹے کے دل میں سوراخ ہے۔ آپریشن پر 4 لاکھ روپے کا خرچ آئے گا۔ حکومت خیبر پختونخوا کی توجہ صحت کے اوپر مبذول کرارہاہوں۔

عمران خان نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں اور نئے پاکستان کی شرط اول Status quo کو توڑنا ہے جس میں صرف رحمان اﷲ کے بیٹے ہی کے دل میں سوراخ نہیں بلکہ اس ملک کی 90 فی صد آبادی کے دلوں میں غربت، بھوک، بیماری، بیکاری کے سوراخ ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ عمران خان نیا پاکستان بنائیں گے یا نہیں اور نئے پاکستان کی شرط اول Status quoکو توڑیں گے یا اس کا حصہ بن جائیں گے۔ خیبر پختونخوا کی حکومت اپنی سرکاری ذمے داری سمجھ کر کرے گی اپنے صوبے کے عوام کے علاج معالجے پر توجہ دے کیونکہ حکومت کا اصل فرض اپنے عوام کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔

مقبول خبریں