ادبی میلہ کتاب کو زوال نہیں

سورج نے میرے شہر پر دھوپ کا سونا لٹایا اور سمندر کی لہریں سنہرے رنگ میں رنگی گئیں۔


Zahida Hina February 10, 2015
[email protected]

سورج نے میرے شہر پر دھوپ کا سونا لٹایا اور سمندر کی لہریں سنہرے رنگ میں رنگی گئیں۔ 50ء کی دہائی میں بننے والے کراچی کے اس شاندار ہوٹل بیچ لگژری کا سبزہ زار، اس کا پیش دالان اور اس کے ایوان، ادب دوستوں، ادیبوں اور فنکاروں سے بھرے ہوئے ہیں۔ فروری کی ابتدائی تاریخیں ہیں اور آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے زیر اہتمام کراچی لٹریچر فیسٹیول کا چھٹا سال۔ یہ ادبی جشن اب شہر کی پہچان بن گیا ہے۔

وہ شہر جو صبح و شام اپنے ہی لہو میں نہاتا ہے، اس کی جی داری اور حوصلے کی داد دیجیے کہ وہ آج بھی ادب کو سر آنکھوں پر رکھتا ہے، ادیبوں اور فنکاروں کی راہ میں آنکھیں بچھاتا ہے۔ امینہ سید اور آصف فرخی نے امریکی، برطانوی، اطالوی، فرانسیسی اور جرمن سفارت خانوں اور ان کے ثقافتی اداروں کے علاوہ چند پاکستانی تنظیموں اور انجمنوں کے اشتراک سے اس ادبی جشن کا اہتمام کیا اور خوب کیا۔ برصغیر کے بڑے نام اور دنیا کے مختلف ملکوں سے آئے ہوئے ادیب اور فنکار امن، تنازعات کے حل، کثیر المشربی، رواداری اور سیکولرازم جیسے اہم معاملات اور مسائل پر باتیں کر رہے ہیں۔ بات سے بات نکلتی ہے اور ذہن کی بہت سی گرہیں کھلتی ہیں۔

جشن کا دوسرا دن ہے۔ گمان گزرتا ہے صبح دس بجے بھلا کون آئے گا، لیکن صاحب بولنے والے بھی ہیں اور سننے والے بھی موجود۔ ہر نشست بھری ہوئی ہے۔ ایوان کا نام 'یاسمین' جہاں باتوں کی خوشبو ہے۔ حسینہ معین، اصغر ندیم سید، امجد اسلام امجد، خاکسار اور نیلوفر علیم موجود ہیں، سید نصرت علی پروگرام کے سہولت کار ہیں۔ موضوع ہے کتابی چہرے سے فیس بک تک۔ امجد کو جدید ٹیکنالوجی پریشان کر رہی ہے اور وہ اسے جنریشن گیپ کا نام دیتے ہیں۔

اصغر ندیم سید یہ باریک نکتہ اٹھاتے ہیں کہ آج ٹیکنالوجی اطلاعات کو عام کر رہی ہے لیکن، اگر ہم اپنے تعلیمی اداروں میں اسے دانش عام کرنے کے لیے استعمال نہیں کر رہے تو یہ ہمارا قصور ہے ۔ نیلوفر عباسی کو اس کی خوشی تھی کہ فیس بک کے ذریعے اپنی سالہا سال پرانی سہیلیوں سے ان کا رابطہ ہو گیا۔ اسی طرح وہ صدر اوباما کی جیت کو ٹوئیٹر کا ایک کارنامہ قرار دے رہی تھیں۔ یہ نسخہ اب اگلے امریکی صدارتی امیدوار کو بھی استعمال کرنا چاہیے۔ پرانی کہانیوں میں بادشاہ کے مرنے کے بعد ہُما اڑایا جاتا تھا، وہ صبح سویرے شہر میں داخل ہونے والے کسی فقیر کے سر پر بیٹھ جائے تو وہی بادشاہ ہوتا تھا۔ نیلوفر کی بات سن کر یوں محسوس ہوا جیسے ٹویٹر آج کا 'ہمُا' ہو گیا ہے، جسے چاہے امریکی صدر کے عہدے پر فائز کر دے۔

اس بارے میں حسینہ معین نے دوٹوک بات کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ کتاب سے عشق زندگی کا ایک ایسا خوبصورت تجربہ ہے جو آخری سانس تک ساتھ دیتا ہے۔ کتاب ہمیں انسانی زندگی کی نزاکتوں سے جس طور آشنا کرتی ہے اس کا نعم البدل نہ فیس بک ہے، نہ ٹوئیٹر اور نہ انٹرنیٹ۔

میرا کہنا تھا کہ کتاب وہ شے ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور محال ہے۔ ٹیکنالوجی جن نئی ایجادات کو لے کر آئی ہے، وہ آج کی حقیقت ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کتاب ختم ہونے والی ہے۔ وہ چھ ہزار برس سے کسی نہ کسی رنگ روپ میں ہمارے ساتھ ہے اور اس سے عشق دوسرے بہت سے لوگوں کی طرح میری زندگی کا سب سے خوبصورت پہلو ہے۔

اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ٹی وی، فیس بک اور ٹوئیٹر، دوسرے لفظوں میں یہ کہہ لیجیے کہ سوشل میڈیا کے دور میں مطالعے کے شوق میں کمی واقع ہوئی ہے۔ بہت سے عالمی شہرت یافتہ رسائل اور جریدے بند ہوئے ہیں اور اخبارات اور رسائل کی اشاعت میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ بہ طور خاص ٹیلی وژن نے انسانی ذوق اور پسند کے ہر شعبے کا احاطہ کر لیا ہے۔ ہر اس موضوع پر جس کے ناظرین موجود ہیں، ان کے لیے ایک یا بہت سے ٹی وی چینل موجود ہیں جن پر ہمہ وقت 24/7 نشریات کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور کوئی بھی فرد کسی بھی وقت اپنے پسندیدہ موضوع پر کوئی پروگرام دیکھ سکتا ہے۔

اس حوالے سے پاکستان کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ایسے بہت سے رسائل اور جرائد بند ہو چکے ہیں جو ایک دہائی قبل نیوز اسٹال پر آتے ہی ختم ہو جاتے تھے۔ اسپورٹس چینلز نے کھیل کے رسائل کا خاتمہ کر دیا ہے۔ پکوان چینل کھانوں سے متعلق رسالوں کو ختم کر رہے ہیں۔ اسی طرح فلمی اور تفریحی چینلوں نے بہت سے متعلقہ رسالوں اور جرائد کو بند ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔

کتابیں دو طرح کی ہوتی ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کتاب 'رحلت' کر گئی ہے۔ ایک وہ ہیں جو نصابی ہیں اور جن کا مطالعہ ناگزیر ہوتا ہے۔ ہرچند کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی مطلوبہ معلومات حاصل ہو جاتی ہیں لیکن اب بھی نصابی کتابوں اور دیگر علمی کتابوں کی ضرورت موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شرح تعلیم میں اضافے کے ساتھ ساتھ نصابی یا تعلیمی، تدریسی، تحقیقی اور فنی کتابوں کی اشاعت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ ٹی وی اور سوشل میڈیا نے ان کتابوں کی طلب پر کسی قسم کا منفی اثر مرتب نہیں کیا ہے۔

جہاں تک ادب کا تعلق ہے تو بلاشبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ انٹرنیٹ پر ادب سے متعلق ویب سائٹ قاری کو بہت زیادہ مواد فراہم کرتی ہیں۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کے سبب ادب سمیت ہر موضوع پر ای ۔ کتاب کا رواج بہت تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ اب کتاب ایک نئی شکل یعنی الیکٹرونک کتاب کی شکل میں سامنے آ رہی ہے۔

ترقی یافتہ ملکوں میں ایسی کتابوں کے پڑھنے کا شوق تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ اب آپ کے لیپ ٹاپ، آئی فون یا اسمارٹ فون کے ذریعے ان تک رسائی اور ان کتابوں کا مطالعہ ہر صورتحال میں ممکن ہے۔ آپ کے لیپ ٹاپ یا آئی پیڈ میں موجود کتابوں کی تعداد ہزاروں بلکہ لاکھوں ہو چکی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں کتابیں کوئی ساتھ لے کر نہیں چل سکتا۔ لیکن اب ایسی کوئی مشکل نہیں ہے۔ پوری لائبریری آپ کے ساتھ چلتی ہے اور انگلی کے اشارے سے دنیا کے تمام علوم آپ کی دسترس میں ہوتے ہیں۔

تیسری دنیا میں یہ عمل فی الحال خاصا سست ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ای بکس تک عام لوگوں کی رسائی اس لیے ممکن نہیں کہ لوگوں کے پاس لیپ ٹاپ، کمپیوٹر، اسمارٹ فون بہت کم ہیں۔ اسی لیے چھپی ہوئی کتابیں اب بھی ہمارے یہاں خاصی تعداد میں خریدی اور پڑھی جا رہی ہیں۔

تاریخ میں کتاب پر بہت سے دور گزرے ہیں۔ چشم تصور سے دیکھیے کہ لگ بھگ 6 ہزار برس پہلے کا زمانہ ہے ۔ مصر کے گلی کوچوں میں گیلی مٹی کی تختیوں پر کسی تاجر کا بہی کھاتا، کسی ملاح کی اجرت کا حساب، کوئی کہانی یا کسی شاعر کی نظم لکھی جا رہی ہے۔ مٹی کی یہ تختیاں دھوپ میں سکھا کر آگ میں پکائی جا رہی ہیں ۔ کتاب کا یہ پہلا روپ ہے اور اس کے بعد پیڑ کی چھال اور ہرن کی کھال پر لکھی جانے والی کتابیں مٹی کی تختیوں کی جگہ لے لیتی ہیں۔ کتاب کے روپ بدلتے جاتے ہیں اور اب عالم یہ ہے کہ 37 جلدوں پر مشتمل ہزاروں صفحے کی انسائیکلو پیڈیا برٹینکا، ایک سی ڈی میں سما جاتی ہے۔

یہ کتاب کی رخصت نہیں اس کی وسعت کی کہانی ہے۔ اب سے پہلے کون تصور کر سکتا تھا کہ افلاطون، ارسطو، بقراط کی کتابیں، پلوٹارک کی تاریخ، ہومر کی ایلیڈا اور اوڈیسی اور ایسی ہی نہ جانے کتنی کلاسیکی کتابیں ہتھیلی میں سما جائیں گی اور علم و دانش کا جویا ایک مفلس بھی ان خزانوں سے استفادہ کر سکے گا۔ ابھی تک یہ کام مغرب کے چند مخیر حضرات نے کیا تھا کہ دنیا بھر کے انسانوں تک علم کے یہ خزانے کوڑیوں کے مول پہنچ سکیں لیکن اب ہندوستان کے ایک ارب پتی نرائن مورتی خاندان نے دو ہزار برس پر پھیلی ہوئی ہندوستانی دانش کو بھی اسی رنگ روپ میں پیش کر دیا ہے۔

ان کتابوں میں بلھے شاہ کا صوفیانہ کلام، ابوالفضل کی تاریخ اکبری، سُرساگر اور ایسی ہی متعدد کلاسیکی کتابیں ہیں۔ انھیں اپنی جیب یا اپنے پرس میں رکھئے اور آپ سفر میں ہوں یا رات کی تنہائی میں، انھیں اپنی بک ریڈر پر پڑھ لیجیے۔ اسی طرح 'ریختہ' کی ویب سائٹ ہے جس پر قدیم اور جدید سیکڑوں اردو کتابیں آن لائن موجود ہیں۔ اکبر الہٰ آبادی کا کلام ہو یا غالب کا دیوان، آغا حشر کا ڈراما ہو یا اقبال کی بال جبریل اپنے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ پر پڑھیے اور اس ہندو بچے کو داد دیجیے جس کا نام سنجیو صراف ہے اور جس نے 'صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے' کے مصداق سیکڑوں اُردو کتابیں پڑھنے والوں تک پہنچا دی ہیں۔ آپ ہی سوچیے کہ جب خاکسار کی 3 کتابیں ریختہ ویب سائٹ پر موجود ہیں تو کس کس کی تحریریں اس پر پڑھی نہ جا سکتی ہوں گی۔

میرا خیال ہے کہ کتاب الیکٹرانک اور ڈیجیٹل دور میں ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ اس نے ایک نیا روپ دھار لیا ہے۔ یہ نیا روپ ای بک ہے۔ جب تبدیلی کا یہ عمل مکمل ہو گا تو دنیا بھر میں اربوں قاری ہزاروں اور لاکھوں کتابوں کا مطالعہ کرتے نظر آئیں گے۔ لوگوں تک صرف اطلاعات کی ہی نہیں، علم و دانش کی رسائی بھی بہت آسان ہو جائے گی۔

ٹی وی اور سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ سے کتاب کو زوال نہیں آئے گا' درحقیقت اس کو عروج اور کمال حاصل ہو گا لیکن یہ بات حسینہ نے پتے کی کہی کہ کسی کتاب کے ورق الٹنے کا جو لطف ہے، اس کا جواب نہیں۔

مقبول خبریں