امریکی صدارتی مباحثہرومنی نے اوباما کو پریشان کردیا

90 منٹ کے مباحثے میںدونوں نے ایک دوسرے کی معاشی پالیسیوںکوتنقیدکا نشانہ بنایا


News Agencies October 05, 2012
ڈینور : ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار امریکی صدر اوباما اپنے حریف ریپبلکن مٹ رومنی کی پہلے صدارتی مباحثے کیلیے یونیورسٹی آمد پر ان کا استقبال کررہے ہیں۔ فوٹو: رائٹرز

امریکا کے صدارتی انتخاب سے33 روز قبل صدر براک اوباما اوران کے حریف مٹ رومنی کے درمیان پہلے صدارتی مباحثے میں رومنی نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پرشدیدتنقیدکرتے ہوئے اوباماکوپریشان کردیا۔

یہ مباحثہ ریاست کولوراڈو کے شہر ڈینور میں منعقد ہوا جو 90 منٹ تک جاری رہا۔یہ مباحثہ مٹ رومنی کے لیے بہت اہم تھا کیونکہ ان کو حالیہ انتخابی مہم میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ رومنی نے کہا کہ صدر کے خیالات ابھی بھی بہت حد تک ان خیالات سے مماثلت رکھتے ہیں جو ان کے چار سال قبل تھے، یعنی اخراجات میں اضافہ کرو، ٹیکسوں میں اضافہ اور ریگولیٹ کرو۔ یہ خیال امریکی عوام کے لیے اچھا نہیں ۔ انھوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ امیروں کے لیے ٹیکسوں میں کمی نہیں کریں گے۔انھوں نے صدر اوباما پر بجٹ کے خسارے کو آدھا کرنے کے وعدے کے حوالے سے تنقید کی جو اوباما نے2008 میں کیا تھا۔

انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ امریکا کو یونان یا اسپین جیسے حالات تک نہیں پہنچنے دیں گے۔صدر اوباما نے اپنے حریف کی تنقید کے جواب میں رومنی کے اس وعدے کا ذکر کیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ ٹیکس میں اضافہ نہیں کریں گے۔انھوں نے رومنی کی خسارے کو کم کرنے کی حکمت عملی کو غیر متوازی قرار دیا۔انھوں نے کہا کہ وہ تیل کی کمپنیوں اور کارپوریٹ جیٹس پر دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کو ختم کریں گے۔ این بی سی نیوز اور وال اسٹریٹ جرنل کی جانب سے منگل کو شائع کیے جانے والے قومی جائزے کے نتائج کے مطابق اس وقت مٹ رومنی کو 46جبکہ براک اوباما کو 49 فیصد عوام کی حمایت حاصل ہے۔