ہوتی تری ہوتا ترا تیرا ترا میرا ترا
گرامر کے موضوع سے ہم خود بھی اتنا بور ہوتے ہیں جتنا کوئی کسی تقریب میں کسی وزیر کی تقریر سے ہو سکتا ہے
اس سے پہلے کہ آپ عنوان پڑھ کر دل میں کچھ ایسا ویسا خیال لائیں اور صرف سونگھ کر ہی ہمارا کالم چھوڑ کر کسی اور طرف نکل جائیں کہ ہم آج آپ ''گرامر'' کے انتہائی ''بور'' موضوع پر بوری کھول کر ''بوریت'' پھیلائیں گے تو پلیز ایسا مت سمجھئے، یہ معاملہ گرامر کا نہیں کچھ اور ہے۔
گرامر کے موضوع سے ہم خود بھی اتنا بور ہوتے ہیں جتنا کوئی کسی تقریب میں کسی وزیر کی تقریر سے ہو سکتا ہے، بلکہ یوں کہیے کہ اسکول میں جب گرامر کی کلاس ہوتی جو جغرافیے سے کچھ کم اور ریاضی سے بہت زیادہ بور ہوا کرتی تھی تو ہم یا تو پہلے ہی بھاگ چکے ہوتے اور یا سردست کوئی لنگڑا لولا بہانہ بنا کر نکلنے کی کوشش کرتے اس سلسلے میں کئی بار ہمیں سزا بھی ملتی تھی لیکن دو چار ڈنڈے ہتھیلیوں پر کھانا بہرحال اتنا اذیت ناک نہیں ہوتا جتنا گرامر کے ساتھ ایک ہی چھت کے نیچے ایک گھنٹہ بتانا درد ناک ہوتا، ویسے بھی گرامر میں ''گر'' اور ''مر'' کے سوا اور ہوتا ہی کیا ہے اور ساری دنیا کو پتہ ہے کہ جو ''گرا'' ۔۔۔۔ وہ ''مرا'' اور جو ''مرا'' وہ اس کا گرنا یا گرانا طے ہے قبر کے گڑھے میں ۔۔۔۔ یعنی جو گرتے ہیں ۔
وہ مرتے ہیں اور جو مرتے ہیں ڈیفنئلی گرتے ہیں حالاں کہ ''گبر سنگھ'' کا کلیہ اس سے مختلف تھا اصلی کلیہ یہی ہے کہ جو گر گیا وہ مر گیا اور جو مر گیا وہ گر گیا، چاہے یہ ''گرنا'' کسی کی نظروں میں اور ''مرنا'' کسی خوب صورت چہرے پر ہی کیوں نہ ہو، کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ہم ''گرامر'' سے بھی زیادہ بور کلاس میں آگئے اور کسی وزیر کی تقریر سے بھی زیادہ فضول بولنے لگے ہیں؟ اس لیے ٹاپک چینج ... اور اصلی بات پر بات شروع ... یہ جو ہم نے ہوتا، ہوتی اور اگر مگر کے الفاظ یکجا کیے ہوئے ہیں یہ ایک ہی خاندان کے ''سدیسئے'' یا ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں اور دنیا میں آج تک جتنے بھی فساد برپا ہوئے، تباہیاں پھیلی ہیں اور آفات زمینی و سماوی نازل ہوئی ہیں وہ اسی خاندان کا کیا دھرا ہے، مثلاً یہ جو ''ہوتا ہوتی'' ہے اس کی مار ازل سے ابد تک پھیلی ہوئی ہے صرف ہم ہی نہیں بے چارا غالب بھی اس سے نالاں تھا
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
مثلاً اگر قائداعظم کی وفات اتنی جلدی نہ ہوتی، غلام محمد فالج گرنے سے مر گیا ہوتا، سکندر مرزا ایوب خان پر مہربان نہ ہوتا، ایوب خان کی اتنی تیز رفتار ترقی نہ ہوتی، بنگالیوں کو بھگانے کے لیے ہر پارٹی سے ون یونٹ اور بہت ساری اور اسٹوپڈ حرکتیں نہ ہوتیں، لیاقت علی خان روس کا دورہ منسوخ کر کے امریکا کے لیے نہ روانہ ہوتا، لیاقت علی خان لیاقت باغ میں گولی چلتے وقت موجود نہ ہوتا، بلکہ اس ''ہوتا'' سے لے کر بینظر تک اور بھی کچھ نہ ہوتا یا نہ ہوتی تو کتنا اچھا ہوتا، درمیان میں اس کے علاوہ بھی بہت سارے ''ہوتا'' نہ ہوتے اور ہوتیاں ہوتیں تو شاید اب تک بہت کچھ ہو چکا ہوتا اور شاید اچھا بھی ہوتا، اب اس ''ہوتا'' مسلمہ کی بہن مسماۃ ''ہوتی'' کو لیجیے مسماۃ پر زور اس لیے دیا جارہا ہے کہ اکثر اس ہوتا ہوتی کی کنفیوژن پیدا ہو جاتی ہے۔
جسے ہم ہوتا سمجھتے ہیں وہ ہوتی نکلتا ہے اور جو ہوتی دکھتی ہے وہ ''ہوتا'' ہو جاتا ہے، اس لیے گرامر پر نہ جایئے مطلب سمجھنے کی کوشش کیجیے اور مطلب کی بات یہ ہے کہ انسان کی ساری زندگی ہی اس ''ہوتا ہوتی'' کے ہونے سے جہنم بنی ہوئی ہے، کاش ایسا ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا اور کتنا اچھا ہوتا اگر یہ نہ ہوتا حالاں کہ جسے ہونا ہوتا ہے وہ ہو جاتا ہے اور جو نہیں ہوتا اسے نہیں ہونا ہوتا ہے کیوں کہ جب جب جو جو ہوتا ہے تب تب سو سو ہوتا ہے۔
اگر ''ککھ پتی'' لوگوں کی زبان پر ''ہوتا ہوتی'' ہوتے ہیں تو لکھ پتی کروڑ پتی کھرب پتی بلکہ ''عرب پتی'' بھی اس ''ہوتا ہوتی'' سے جان نہیں چھڑا پایا، اگر ''عرب پتی'' کی اصطلاح کو آپ نہیں سمجھے ہیں تو کسی عرب کے ساتھ اس کے ''حرم'' اور ہندی لفظ صرف ''پتی'' لگا کر دیکھیے، اگر اور مگر بھائیوں کا رشتہ بھی اگرچہ ہوتا ہوتی سے بنتا ہے لیکن یہ اکیلے بھی کسی سے کچھ کم نہیں ہیں، خاص طور پر ہماری سیاست کے میدان میں جہاں تک نظر دوڑایئے یہ اگر مگر ہی دکھائی دیتے ہیں بلکہ اگر کہیے تو ہماری سیاست ہماری معیشت ہماری حکومت سب کچھ اسی دو ستونوں اگر اور مگر پر کھڑی ہے۔
اگر پاکستان نہ ہوتا، اگر مسلم لیگ اپنے سبز قدموں سمیت نہ ہوتی، اگر پاکستان میں یہ خالص ہوم میڈ جمہوریت نہ ہوتی، اگر یہ باریاں نہ ہوتیں، اگر عمران خان دھرنے نہ دیتا، اگر عمران خان کے دھرنے کامیاب ہوتے، اگر طاہر القادری صاحب بیمار نہ ہوتے'جمہوریت جمہوریت ہوتی، انتخابات انتخابات ہوتے، لیڈر لیڈر ہوتے، سچ سچ ہوتا اور جھوٹ جھوٹ ہوتا، دھرنا کامیاب ہوتا، عمران خان وزیراعظم ہوتا، علامہ طاہر القادری تندرست ہوتے' ہوتی ہوتا ہوتا اور ہوتا ہوتی ہوتی، میڈیا، میڈیا ہوتا، سیاست سیاست ہوتی اور تجارت تجارت ہوتی اور سب سے بڑا ''ہوتی ہوتا'' یہ کہ جو نہیں ہوا وہ ہوتا، شاید آپ سوچ رہے ہوں کہ خاندان کے تین سدیسوں کا ذکر تو ہو گیا لیکن وہ بے چارا کہاں گیا، تو وہ کہیں گیا نہیں بلکہ اسے ہم نے اپنے استعمال کے لیے بچا کر رکھا ہوا ہے بلکہ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت ہم اسی کے جبڑوں میں ہیں مگر کیوں؟ مگر کیسے، مگر کہاں، مگر کون، مگر کب اور مگر مگر، اور ہمارے پاس ہو بھی کیا سکتا ہے کیوں کہ ہوتا ہوتی اور اگر سب ان کے
اس ملک میں کس سے کہیں ہم سے تو چھوٹی محفلیں
ہوتی تری، ہوتا ترا، تیرا ترا میرا ترا