جیپ ریلی کے دوران’’چولستانی کلچر نائٹ‘‘ میں مقامی فنکار پھر نظر انداز

لاہور، کراچی، ملتان سے فنکار بلانا مقامی فنکاروں کے ساتھ زیادتی ہے، احتجاج کریں گے، گلوکار موہن بھگت


Qaiser Iftikhar February 12, 2015
لاہور، کراچی، ملتان سے فنکار بلانا مقامی فنکاروں کے ساتھ زیادتی ہے، احتجاج کریں گے، گلوکار موہن بھگت، صرف سائیں ظہور کو بلایا، تنویر خان فوٹو: فائل

چولستان میں منعقدہ جیپ ریلی کے دوران 14 فروری کو ہونے والی '' چولستانی کلچرنائٹ '' میں ایک مرتبہ پھر مقامی فنکاروں کو نظرانداز کردیا گیا ہے جس پر مقامی فنکاروں نے حکومت اور انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاج کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

اس موقع پر پہلے پہل تو فوک سنگرز، سازندے اور رقاص کو پرفارمنس کے لیے مدعو کیا جاتا رہا ہے لیکن آہستہ آہستہ چولستان سے تعلق رکھنے والے مقامی فنکاروں کو اس ایونٹ سے دورکرتے ہوئے لاہور، کراچی اورملتان سمیت دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے فنکاروںکوپرفارمنس کے لیے مدعو کرنے کا سلسلہ زور پکڑ رہا ہے جس سے مقامی فنکاروں کی حق تلفی ہورہی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی فنکاروں نے اس مرتبہ جیپ ریلی کے دوران شدید احتجاج کرنے کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔ اس سلسلہ میں چولستان کی دھرتی کے معروف فوک گلوکار فقیرا بھگت (تمغہ امتیاز) کے صاحبزادے فوک گلوکارموہن بھگت نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ چولستان کی دھرتی پر بسنے والے پہلے ہی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں' یہاں ہمیں پینے کو صاف پانی تک میسرنہیں ہیں۔ ایسے میں سال بھر میں ایک ایونٹ ''جیپ ریلی'' ہے۔ جس کا یہاں کے باسیوں کو شدت سے انتظار رہتا ہے۔

دوسری جانب فنکار برادری کو بھی اس ایونٹ کے ذریعے روزگار ملتا ہے اور وہ اپنے فن سے یہاں آنے والوں کو خوب محظوظ کرتے تھے مگر منتظمین نے آہستہ آہستہ مقامی فنکاروںکا پتہ ہی کاٹ دیا' یہ اس دھرتی کے فنکاروں کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے جس پر حکومت کو خود ایکشن لینا چاہیے۔ دوسری جانب ٹی ڈی سی پی کے جنرل مینجر تنویر خان کا کہنا تھا کہ جیپ ریلی کا ایونٹ اب بین الاقوامی شہرت حاصل کر رہا ہے۔

اس مرتبہ بھی 90 کے قریب ٹیمیں ریلی میں حصہ لینگی۔ جہاں تک بات لوکل فنکاروں کوایونٹ میں شامل کرنے کی ہے توصرف ایک مرتبہ لاہور سے سائیں ظہور کو پرفارمنس کے لیے خاص طورپرمدعو کیا گیا تھا، اس کے علاوہ تمام مقامی فوک گلوکاروں، سازندوں کو ہی یہاں پرفارمنس کا موقع ملتا ہے۔ اس ایونٹ کی بدولت اب چولستان کے صحرائی علاقہ میں بجلی پہنچ چکی ہے، اسکول بن رہے ہیں اورترقیاتی کام تیزی کے ساتھ جاری ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ یہاں کے لوگوں کو بہتر روزگار ملے۔