کراچی میں موت کے کئی روپ
کراچی میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران ٹریفک حادثات میں 500کے قریب افراد...
صبیحہ علی اپنے بھائی حامد کے ساتھ موٹر سائیکل پر گھر سے امتحان دینے کے لیے نکلی،کراچی میں سخی حسن چورنگی کے قریب دو واٹر ٹینکر سڑک پر دوڑ لگارہے تھے۔ حامد کی موٹر سائیکل کو ایک ٹینکر نے ٹکر ماری ، صبیحہ علی ایک ٹینکر کے ٹائر کی زد میں اور حامد علی دوسرے ٹینکر کے ٹائر کی زد میں آکر دونوں بہن بھائی دنیا سے رخصت ہوگئے۔ کراچی میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران ٹریفک حادثات میں 500کے قریب افراد جاں بحق ہوئے۔
ان میں سے بیشتر پیدل سڑک پار کرنے والے اور موٹر سائیکل سوار تھے ۔کراچی کے سب سے بڑے سرکاری جناح اسپتال کے Road Traffic Injury Research & Prevention Centre کے مرتب کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ میں 400کے قریب افراد حادثات کا شکار ہوکر مردہ حالت میں سرکاری اسپتالوں میں لائے گئے تھے ۔RTIR&P کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال 16سال سے کم عمر کے 400افراد حادثات کی نظر ہوئے تھے اس طرح ٹریفک حادثات میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 12ہزار کے قریب ہے، اس طرح گزشتہ سال ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی وارداتوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ٹریفک کے حادثات میں ہلاک ہونے والے افراد سے کچھ زیادہ بنتی ہے ، جناح اسپتال کے اس سینٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹریفک کے حادثات سے متاثر ہونے والے بیشتر افراد پیدل چلنے والے یا موٹر سائیکل سوار تھے۔
اس رپورٹ پر ٹریفک پولیس کے ڈی آئی جی ڈاکٹر محمد ملک کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ معاشرے میں قانون کی پامالی اور ٹریفک پولیس کی نااہلی وہ وجوہات ہیں جن کی بناء پر کراچی شہر کی سڑکیں عام آدمی کے خون سے رنگی جارہی ہے ، یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شہر میں موٹر سائیکل چلانے والے لاکھوں افراد میں سے صرف ایک فیصد کے پاس ڈرائیونگ لائسنس ہے، کراچی میں نئی صدی کی آغاز سے بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ، جنرل پرویز مشرف کے آمرانہ دور حکومت کی خواہ کتنی ہی مذمت کی جائے وہ ایک تناظر میں بالکل درست ہے مگر ان کے دور میں نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی کے بلدیاتی نظام نے کراچی شہر کو دنیا کے جدید شہروں میں شامل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔
جنرل پرویز مشرف کے دور میں سن2000میں بلدیاتی نظام کے تحت انتخابات منعقد ہوئے ان انتخابات میں شہر کی سب سے بڑی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے بائیکاٹ کی بناء پر جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان شہر کے پہلے ناظم منتخب ہوئے ، نعمت اللہ خان کی زیر قیادت سٹی گورنمنٹ نے شہر میں اوور ہیڈ برج اور بڑی سڑکوں کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی ،ان کے دور میں شاہراہ فیصل پر دو اوور ہیڈ برج تعمیر ہوئے ، لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر کا آغاز ہوا اور مختلف علاقوں میں سڑکوں اور پارکوں کی تعمیر شروع ہوئی پھر دوبارہ انتخابات منعقد ہوئے اور متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن مصطفیٰ کمال شہر کے ناظم منتخب ہوئے ، مصطفی کمال کی نگرانی میں ایک نئے وژن کے ساتھ شہر میں خوبصورت سڑکوں اوراوورہیڈ برج کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہوا۔
شہر میں پہلی دفعہ سگنل فری سڑکیں متعارف ہوئیں، سب سے پہلے شاہراہ فیصل کو مثالی سڑک بنانے کے لیے سگنلز ختم کیے گئے ، شاہراہ فیصل کے درمیان درخت لگا کر اور خوبصورت گرل نصب کر کے راستے بند کیے اور دوسری سڑکوں کو بھی سگنل فری زون بنانے کا منصوبہ شروع ہوا ، اس ساری صورتحال میں پیدل چلنے والے لوگوں کو فراموش کردیا گیا روزانہ پیدل سڑک چلنے والے نوجوان، بوڑھے ،بچے تیز رفتار گاڑیوں کی زد میں آنے لگے، موٹر سائیکل ، رکشہ اور کار چلانے والوں نے پٹرول اور سی این جی کی بچت کے لیے شارٹ کٹ اختیار کرنے کی روایت ڈالی، یوں ون وے سڑک کی خلاف ورزی کا سلسلہ شروع ہوا، بظاہر تو توانائی کی بچت کو اہمیت دی گئی جب کہ دراصل قانون کی پامالی اور اس کے نقصانات کو ترجیح دی گئی ۔
ٹریفک حادثات کی شرح بڑھنا شروع ہوئی تو اس وقت شاہراہ فیصل سے متصل سندھی مسلم سوسائٹی میں قائم اسکول کے طلبہ نے شاہراہ فیصل پر احتجاج کیا۔ یہ طلبہ سڑک پار کرنے کے دوران ہلاک ہونے والے ساتھیوں کی موت کے خلاف احتجاج کررہے تھے، طلبہ کے احتجاج کے بعد اخبارات ، ریڈیو ، ٹی وی کی رپورٹوں کے بعد اہم شاہراہوں پر پیدل چلنے والوں کے لیے پل تعمیر ہونے کا سلسلہ شروع ہوا ۔ یوں کراچی کی سڑکیں سگنل فری زون پہلے بنیں جب کہ پیدل چلنے والوں کے لیے پل بعد میں تعمیر ہوئے۔ جب موٹر سائیکل سواروں اور کار چلانے والے افراد نے اہم سڑکوں پر ون وے کا نظام منہدم کرنا شروع کیا تو ٹریفک پولیس نے خاموشی اختیار کرلی۔ یوں ون وے کے قانون کی پامالی کی روایت مستحکم ہوتی چلی گئی۔ پولیس والوں نے اس خلاف ورزی کی سنگینی کو محسوس نہیں کیا۔
یوں ہر ڈرائیور نے یہ وطیرہ اختیار کیا ۔اس طرح ٹریفک کے حادثات کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی۔ بعض صحافی کہتے ہیں کہ ایمبولینس ڈرائیوروں اور پولیس موبائل نے بھی ون وے کے قانون کو توڑنا شروع کیا۔ یوں دوسرے ڈرائیوروں کو بھی یہ راستہ نظر آیا مگر کراچی سائوتھ رسالہ تھانہ کے ڈی ایس پی محمد زاہد کا کہنا ہے کہ ایمبولینس اور پولیس موبائل کے لیے دنیا بھر کے بڑے شہروں میں سڑکوں پر فرنٹ لائن ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مریض کو اسپتال پہنچانے، حادثے کے مقام پر پہنچے ،پولیس موبائل کے لیے ملزمان کا پیچھا کرنے کے لیے چند لمحے بھی انتہائی قیمتی ہوتے ہیں، یوں ایمبولینس اور پولیس موبائل کے راستے کو عام گاڑی والا معیار نہیں بنا سکتا ۔
سی این جی اور پٹرول کے مہنگا ہونے سے رکشہ ٹیکسی ، موٹر سائیکل اور کار والوں کو قانون کی خلاف ورزی میں فائدہ نظر آنے لگا ، کراچی کی ترقی کے بارے میں رپورٹنگ کرنے والے ایک سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ شہر میں ریاست کی عملداری نہیں ہے۔ اس کے برعکس ٹارگٹ کلنگ ،اسٹریٹ کرائمز سے لے کرٹریفک کے قوانین کی دھجیاں اڑتی نظر آتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر کے بیشتر علاقوں میں سڑکوں اور گلیوں کو غیر قانونی رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردیا گیا ہے ، مالدار لوگ سڑکوں کے کنارے بیریئر لگا کر سیکیورٹی گارڈ کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔
یہ بظاہر ان کے گاڑیوںکو چوروں اور ڈاکوئوں سے محفوظ ہوجاتی ہیں، اس کی سڑک کے آخری حصے پر رہنے والوں کے اپنے گھر کے راستے بند ہوگئے ہیں، ان لوگوں کو اپنے گھروں تک پہنچنے کے لیے طویل راستے طے کرنے پڑتے ہیں ،خاص طور پر رات گئے جب تمام سڑکوں اور گلیوں کے راستے بیئریر لگا کر بند کردیے جاتے ہیں تو عام آدمی کے لیے ایمر جنسی میں اپنے گھر پہنچنا ناممکن ہوجاتا ہے ۔ کراچی کی انتظامیہ اور رینجرز حکام پر چھ ماہ بعد ان غیر قانونی رکاوٹوں کے خاتمے کا اعلان کرتے ہیں مگر سیاسی دبائو پر سب کچھ ختم ہوجاتا ہے۔ یوں ٹریفک میں خلل پڑتا ہے، موٹر سائیکل سوار رکشہ اور کار والے ون وے توڑنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
ایک سینئر صحافی شکیل سلاوٹ کا کہنا ہے کہ کراچی میں ٹریفک حادثات کی خطرناک شرح کی ذمے داری ٹریفک پولیس پر عائد ہوتی ہے ، شہر میں چلنے والی موٹر سائیکل سواروں میں اکثریت کے پاس لائسنس نہیں ہے پھر نوجوان ابتدائی عمر میں یہ شوق پورا کرنا شروع کردیتے ہیں ، قانون کی پامالی کی اس سے زیادہ بڑی مثال کیا ہوگی، موٹر سائیکل سوار سب سے آگے نکلنے کے شوق میں سگنل توڑنے میں بڑی گاڑیوں کو اوورٹیک کرکے اور بعض اوقات تو بڑی گاڑیوں کے درمیان راستہ بنانے کا خطرناک کھیل کھیلتے ہیں۔ سینئر صحافی نذیر لغاری کے قریبی عزیز حادثے کا شکار ہوئے ، ان کا کہنا ہے کہ قانون ناقص ہونے کی بناء پر حادثے کے ذمے دار ڈرائیور سزا سے بچ جاتے ہیں ، یہ ہی وجہ ہے کہ صبیحہ اور حامد کی موت کے ذمے دار دونوں ٹینکر ڈرائیو حادثے کے تیسرے دن ضمانت پر رہا ہوگئے۔
یہ سب خلاف ورزیاں قیمتی جانوں کے ضیاع کا باعث ہیں، کراچی میں سڑکوں پر حادثات کو روکنے کے لیے سخت قوانین اور ان پر عملدرآمد کرنے کے ساتھ تعلیمی اداروں ، دفاتر، فیکٹریوں اور ذرایع ابلاغ پر آگاہی کی مہم اشد ضروری ہے، اس مہم کے دوران نوجوانوںکو قانون کی پاسداری کے فوائد اور قیمتی جانوں کے ضیاع سے ہونے والی قومی نقصان سے نئی نسل کو آگاہ کرنا چاہیے ، ٹریفک کے حادثات کے یہ اعدادو شمار پر باشعور شخص کے لیے خطرے کی علامت ہے۔