ببلی بدمعاش کے بارے میں تحقیقی رپورٹ
اتنے ڈھیر سارے بچے اور ایک خوب صورت بیوی مفت میں مل کر رہی ہے ناجائز ہی سہی بدمعاش ہی سہی ۔۔۔ تو میرا کیا جاتا ہے
ببلی بدمعاش ہے یہ تو بڑی پرانی خبر ہے میڈیا پر اب آئی ہے لیکن اس وقت سے پتہ تھا جب یہ ابھی بہت چھوٹی سی، کچھ پگلی سی، کچھ ہشیار سی، کچھ کچی سی کچھ پکی سی، کچھ لڑکی سی کچھ لڑکا سی اور کچھ موٹی سی، کچھ پتلی سی بچی ہوا کرتی تھی نام بھی اس کا ببلی نہیں بلکہ جمہوریت بیگم تھا اپنے باپ سیاست خان یا ممی جس کا نام تو ہم نہیں جانتے تھے لیکن فرنگن تھی اور لوگ اسے میم صاحب میم صاحب کہتے، کے ساتھ ہماری دکان ''پاکستان دی ہٹی'' میں آیا کرتی تھی بڑی شریر تھی اور چورنی بھی، جب بھی موقع ملتا ووٹوں کے ''بیلون'' اور فنڈز کے ''ببل گم'' چرا لیتی، بیلون اور ببل گم چرانے ہی کی وجہ سے اس کا نام ''ببلی'' مشہور ہو گیا تھا۔
اس وقت یہ آمریت نامی ایک بدمعاش لڑکے سے آنکھ مٹکا کرتی تھی اور اکثر اس سے چھپ چھپ کر ملتی تھی اور آخر کار اس بدمعاش لڑکے کی بری صحبت میں پڑ کر یہ بھی بدمعاش ہو گئی اور بڑے بڑے ہاتھ مارنے لگی بلکہ ہمارے ''پاکستان دی ہٹی'' میں باقاعدہ نقب زنی اور ڈاکے ڈالنے لگی لیکن کوئی اسے پکڑ نہیں سکا کیوں کہ ایک تو بڑی ڈھیٹ اور بے شرم ہو گئی تھی اور دوسرے چوکیداروں کو شیشے میں اتارنے کی بھی ماہر ہو گئی تھی، وہ لڑکا آمریت جوان ہو کر لیڈر بن گیا اور سننے میں آیا کہ ان دونوں میں خفیہ سمبندھ ہو گئے تھے بلکہ اکثر بڑے بزرگ تو کہتے تھے لیکن دونوں نے آپس میں شادی کر لی ہے۔
لیکن پوچھنے پر صاف مکر جاتی تھی حالانکہ اب یہ جلوہ کثرت اولاد بھی دکھانے لگی تھی اور بہت سارے چھوٹے چھوٹے بڑے بڑے رنگ برنگے لیڈر گلیوں میں پھرنے لگے، لوگ اسی کو ان سب کی ماں بتاتے تھے لیکن اس نے خود کبھی اس رشتے کا اقرار نہیں کیا، دراصل بدمعاش ہونے کے ساتھ ببلی اداکاری میں بھی بڑی ماہر تھی اور اداکاری کو تو آپ جانتے ہیں کہ جو کرتے ہیں وہ بتاتے نہیں اور جو بتاتے ہیں وہ کرتے نہیں جو چھپانے کی ہوتی ہیں وہ خوب خوب دکھاتے ہیں اور جو کچھ دکھانے کا ہوتا ہے وہ ہمیشہ چھپا کر رکھتے ہیں، چنانچہ اکثر اداکارائیں اپنے بچوں کو بھائی بہن اور اپنے شوہروں کو کزن بتاتی ہیں کیوں کہ اداکاری کرتے کرتے یہ زندگی کو فلم سمجھنے اور فلم کو زندگی سمجھ لیتے ہیں بلکہ کچھ کچھ اونٹ سے بھی ہو جاتے ہیں پتہ نہیں چلتا کہ ان کی کون سی کل سیدھی ہے اور کون سی کل ٹیڑھی ہے۔
بلکہ جو کل سیدھی ہوتی ہے اسے ٹیڑھا کر کے دکھاتی ہیں اور جو ٹیڑھی ہوتی اسے سیدھا کر کے دکھاتی ہیں نہ ہی ان کی بیٹھنے والی کروٹ کا کوئی پتہ چلتا ہے، جھکاتی یہ ایک کروٹ ہیں اور بیٹھ جاتی ہیں دوسری کروٹ ۔۔۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ لیٹی ہیں یا بیٹھی ہیں، چنانچہ یہ ببلی جو پہلے جمہوریت بیگم تھی اور اب ببلی بدمعاش ہو گئی یہ بھی اپنی زبردست اور آسکر اسٹینڈرڈ کی اداکاری دکھا کر لوگوں کو باور کرائے ہوئے ہے کہ ''آمریت'' کے ساتھ اس کا کوئی رشتہ نہیں بلکہ زبانی کلامی آمریت کو برا بھلا بی کہتی ہے ویسے لوگ جانتے ہیں کہ
واعظاں کیں جلوہ بر محراب و منبر می کند
چوں بہ خلوت می رود آں کار دیگر می کند
یعنی یہ واعظ جو محراب و منبر پر وعظ کے جلوے دکھاتے ہیں جب تنہائی میں چلے جاتے ہیں وہاں یہ کچھ اور کرنے لگتے ہیں لیکن اس ''کچھ اور'' کا پتہ آج تک نہیں لگایا جا سکا ہے اس پر تو ایک مثال بھی ہے کہ اس طرح ایک شخص کی بیوی ببلی بدمعاش ہو گئی تو خاندان کے لوگوں نے ''نوٹس'' لے لیا اور محترمہ کے شوہر سے کہا کہ اپنی ببلی بدمعاش کو لگام دو خاندان کا نام پیچھے ڈبو رہی ہے لیکن شوہر نہیں مان رہا تھا آخر فیصلہ ہوا کہ ببلی بدمعاش کے پیچھے جاسوس لگا دیا جائے۔
جس جاسوس کو ہائر کیا گیا اس کی رپورٹ آئی تو خاندان کی ''اے پی سی'' پھر بلائی گئی رپورٹ پڑھ کر سنائی گئی جو کچھ یوں تھی کہ ۔۔۔۔ ایک ہوٹل میں گئی وہاں ایک کمرے کے دروازے پر دستک دی اندر سے ایک نوجوان نے دروازہ کھولا۔۔۔ اے پی سی کے سارے اراکین ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے کہ کون بات کی ابتدا کرے گا جب کافی دیر گزر گئی تو ببلی بدمعاش کا شوہر بولا بات صاف ہے ثبوت تو کوئی نہیں ملا نا ؟ اور اے پی سی پوری کی پوری سناٹے میں رہ گئی،
کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے،
ہاں تو یہ جو ہماری ببلی بدمعاش ہے جس کا نام ماں باپ نے جمہوریت رکھا تھا لیکن اس نے اپنی خداداد ''صلاحیتوں'' سے اسے بدل کر ''ببلی بدمعاش'' بنایا یہ بھی آمریت اور اپنے تعلقات کے بارے اسی ''عدم ثبوت'' کا فائدہ اٹھا رہی ہے کیوں کہ آج تک کوئی یہ طے نہیں کر سکا ہے کہ ''ثبوت'' کہتے کس کو ہیں دنیا اندھی تو نہیں ہے دیکھتی ہے کہ اس کے اور آمریت کے سارے ''بچے'' ایک جیسے ہیں خاص طور پر آمریت کی تو ساری نشانیاں ان میں پائی جاتی ہیں، ناک نقشہ، خوبو، نشست و برخاست، پسند و ناپسند بلکہ کرتوت بھی ۔۔۔ لیکن ببلی بدمعاش اب بھی انکاری ہے۔
لیکن ببلی بدمعاش کی بدمعاشی اس پر بھی چل رہی ہے اور اتنی بدمعاش ہے کہ لوگوں کا منہ بند کرنے کے لیے تو ایک دن اس نے حد ہی کر دی جب لوگ اس کنفیوژن کو کس طرح بھی دور نہیں کر پائے اور سر ہو گئے کہ اے او سابق جمہوریت بیگم عرف ببلی بدمعاش تم کب تک ایک دنیا کو اس کنفیوژن میں ڈالے رکھو گی صاف صاف بتاؤ اگر بدمعاش بلکہ ڈان آمریت کے ساتھ تم نے شادی نہیں رچائی ہے تو پھر یہ اتنے سارے بچے کہاں سے پیدا کیے کیا ان کو گملوں میں اگایا ہے یا یہ خود رو ہیں، ببلی بدمعاش سابقہ جمہوریت بیگم جب سمجھ گئی کہ اب آئیں بائیں شائیں سے کام نہیں چلے گا تو کم بخت نے حد کر دی اور بدمعاشی کی، ایک بے چارے بے زبان کم زور اور بے یارو مددگار یتیم و یسر بے گھر بے در بھکاری ''عوام خان'' کی طرف انگلی اٹھا دی کہ وہ عوام خان پیدائشی طور پر نہ صرف بہرا گونگا ، لولا لنگڑا اور ٹیڑھا میڑا ہے بلکہ پیٹ، جیب، گھر اور کھوپڑی کی طرف سے بھی ''ڈس ایبل'' ہے لیکن یہ چاروں ہی خالی ہوتے ہیں اس لیے جب ببلی بدمعاش کے اشارے پر اس کے سارے بچے دوڑ کر ابو ابو کہتے ہوئے عوام خان سے لپٹ گئے تو اس کی سمجھ میں صرف یہی آیا کہ
ہم نے مانا کہ کچھ نہیں غالب
مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے
اتنے ڈھیر سارے بچے اور ایک خوب صورت بیوی مفت میں مل کر رہی ہے ناجائز ہی سہی بدمعاش ہی سہی ۔۔۔ تو میرا کیا جاتا ہے اوپر سے سہاگہ یہ کہ ببلی بدمعاش نے لوگوں کو نظر بچا کر اور ذرا ٹیڑھی ہو کر اپنی آڑ میں کچھ نوٹوں کی جھلک بھی دکھا دی تھی، ببلی بدمعاش نے لوگوں کے منہ تو بند کر دیے لیکن وہ اپنے ان بچوں کی شکلوں کو، ان کے خدوخال کو اور ان کے قد و قامت کو اور پھر خاص طور پر ان کے کرتوتوں کو بدمعاشیوں کو اور خو بو کو کہاں چھپائے گی جو سب کے سب اپنے باپ آمریت پر گئے ہوئے ہیں
تو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے
پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے
اس گیدڑ کا قصہ تو ہر کسی کو معلوم ہے جو رنگ کے مٹکے میں گرا تھا اور پھر اس نے آئینے میں جب شیر جیسے رنگ کا پایا تو جنگل کا بادشاہ بن بیٹھا تھا وہ بھی صرف اس لیے کہ وہ جنگل بھی پاکستان کی طرح ''شاملات دیہہ'' یا چراگاہ عام کے زمرے میں آتا تھا اور اس کے جانور بھی پاکستانی عوام کی طرح تھے کہ جھٹ سے ہر کسی کو مان کر کاندھوں پر بٹھا لیتے ہیں، کچھ عرصے تک تو ''رنگے سیار'' نے عیش کیا بادشاہت کے خوب خوب مزے لیے لیکن ایک دن بارش ہو ہی گئی اور جب بارش نے اس کا رنگ اتار دیا تو اندر سے گیدڑ نکل آیا، چنانچہ ببلی بدمعاش کے یہ بچے بھی تب تک اس بے چارے عوام خان سے اپنی ولدیت کا رشتہ جوڑے رہیں اور آمریت کی ولدیت سے انکار کرتے رہیں
لے لے مزے زندگی کے زندگی ہے جب تلک
اس طرح تم عیش کرو عیش مگر کب تلک
خلاصہ اس ساری کتھا کا یہ ہے کہ ببلی بدمعاش بچپن ہی سے بدمعاش اور غنڈی تھی ماں باپ نے اس کا نام بے شک جمہوریت رکھا تھا لیکن اس نام کو اس نے کبھی دل سے قبول نہیں کیا تھا اور قدم قدم پر یہ ثابت کرتی رہی کہ وہ ببلی بدمعاش تھی ببلی بدمعاش ہے اور ببلی بدمعاش ہی رہے گی ۔