پاکستان کی امداد میں کٹوتی اورسفری پابندیاں لگائی جائیںامریکی کانگریس کمیٹی

اصل شراکت اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک پاکستان تمام دہشت گردتنظیموں کے ساتھ تعلقات مکمل ختم نہ کرے،چیئرمین خارجہ کمیٹی


News Agencies February 15, 2015
امریکاکوپاکستان کے معاملے میں ایک نیارخ اپنانے کی ضرورت ہے،چیئرمین ایڈوائس کاجان کیری کوخط،فوٹو: فائل

امریکی کانگریس کی خارجہ امور کمیٹی نے امریکی وزیرخارجہ کوایک خط میں پاکستان پر دہشت گردوں کے خلاف دوغلی پالیسی جاری رکھنے کاالزام لگاتے ہوئے امریکی پالیسی کوتبدیلی کرنے اور پاکستان کے خلاف پابندیاں عائدکرنے اورپاکستان کے بارے میں پالیسی تبدیل کرنے کامطالبہ کیاہے۔

ایوان نمائندگان میں امورخارجہ کمیٹی کے چیئرمین ایڈوائس اوررپبلکن سینئررکن ایلیٹ اینگل نے خط میں امریکاکو پاکستان کے بارے میں پالیسی میں بڑی تبدیلی کرنے کامطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ دونوں ملکوں میں صحیح معنوں میں تب تک کوئی شراکت نہیں ہوسکتی جب تک کہ پاکستان تمام دہشتگردتنظیموں کے ساتھ تعلقات مکمل ختم نہیں کرتا۔ایوان نمائندگان میں امورخارجہ کی کمیٹی کے چیئرمین ایڈوائس نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کو خط لکھ کر کہاہے کہ امریکاکوپاکستان کے معاملے میں ایک نیارخ اپنانے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے لکھاکہ ہم گزارش کرتے ہیں کہ آپ پاکستان پرسفری پابندیاں لگائیں،ان کوجومدددی جاتی ہے اس کے کچھ حصوں پرلگام کسیں اورجن پاکستانی اہلکاروں کے دہشت گرد اداروں کے ساتھ تعلقات ہیں ان پرپابندیاں عائد کریں۔انھوں نے لکھاکہ پاکستانی حکومت نے القاعدہ اورتحریک طالبان پاکستان کیےخلاف کچھ اقدامات کیے ہیں لیکن ایسے کئی ادارے جنھیں دہشت گردقرار دیاگیاہے جیسے لشکرِطیبہ، لشکرِجھنگوی اورجیشِ محمد،ان کےخلاف کچھ خاص کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھاکہ یہ پالیسی اس سوچ کے تحت ہے جس میں سمجھا جاتاہے کہ کچھ دہشت گرد ادارے بھارت اورافغانستان میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے کام آ سکتے ہیں۔ انھوں نے لکھاکہ ہم پاکستان کے اس اعلان کاخیرمقدم کرتے ہیں کہ وہ حقانی نیٹ ورک پرجلدہی پابندی لگادے گا لیکن ہمیں شک ہے کہ اس سے پاکستان کی پالیسی میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی،آخرلشکرِطیبہ اور جماعت الدعوۃ جیسی تنظیموں پرتو پابندی لگی ہے لیکن وہ آزادی سے گھوم رہے ہیں، کچھ ہی دنوں پہلے25 جنوری کو کراچی میں جماعت الدعوۃ کی ریلی ہوئی جسے دیکھ کرلگ رہا تھا کہ حکومت نے اس کی منظوری دے رکھی ہے۔

انھوں نے لکھا کہ پاکستان خودبھی دہشت گردی کا شکار بناہے اور 2013 میں 3 ہزار سے زیادہ پاکستانی شہری اس کا شکاربنے لیکن پاکستان کو صحیح معنوں میں اپنے لوگوں کی زندگی بہتر کرنی ہے تو اس کے رہنمائوں کو پرانی پالیسی کوتبدیل کرنا ہوگا۔ادھر دفترِ خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے کہاکہ انھوں نے فی الحال یہ خط نہیں دیکھا اورنہ ہی وہ اس بات کی تصدیق کر سکتی ہیں کہ وزیر خارجہ جان کیری نے اسے دیکھا ہے۔ ان کا کہناتھا کہ اس خط کا جواب دیا جائے گا،اس سے پہلے پاکستان اور بھارت کے وزرائیِ اعظم کے درمیان ٹیلیفون پر ہونے والی بات چیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے رشتوں میں بہتری جنوبی ایشیامیں امن و امان اورسلامتی کیلیے اہم ہے۔

مقبول خبریں