سیاسی مڈل کلاس کی بے معنی لڑائیاں
پچھلے ہفتے متحدہ اور تحریک انصاف کے درمیان سخت بیانات کا جو سلسلہ چل پڑا تھا، وہ آخر کار بڑی حد تک تھم گیا ہے۔
پچھلے ہفتے متحدہ اور تحریک انصاف کے درمیان سخت بیانات کا جو سلسلہ چل پڑا تھا، وہ آخر کار بڑی حد تک تھم گیا ہے۔ متحدہ کے قائد اور تحریک انصاف کے سربراہ کے درمیان تلخ بیانات اور جوابی بیانات کی وجہ سے ملک خصوصاً سندھ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی ۔
برسر اقتدار پارٹی اور فرینڈلی اپوزیشن خوش تھے کہ اس لڑائی کا براہ راست انھیں فائدہ حاصل ہو رہا تھا کیونکہ متحدہ اور تحریک انصاف دونوں ہی' اسٹیٹس کو' توڑنے کی باتیں کررہے تھے، ان دو جماعتوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے 'اسٹیٹس کو' کے خلاف بیانات کی شدت میں کمی آگئی ہے اور سینیٹ کے انتخابات کی وجہ بھی اہل سیاست کی توجہ حکومت پر تنقید کرنے سے ہٹ کر سینیٹ کی زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے پر مرکوز ہو گئی ہے۔ اس صورت حال سے حکومت کو اطمینان کا سانس لینے کا موقع مل گیا ہے۔
موجودہ سسٹم یا اسٹیٹس کی سرپرست جماعتیں کسی ایسی تحریک کی حمایت نہیں کرسکتیں جو ان کے طبقاتی مفادات کے لیے نقصان رساں ہو۔ متحدہ ایک عرصے سے اسٹیٹس کو توڑنے کی باتیں کر رہی ہے اور 14 اگست 2014کے بعد تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک بھی اسٹیٹس کو کو ختم کرنے کی کوشش کرتی رہیں ۔ ان جماعتوں کی جذباتی سیاست اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے اگرچہ اسٹیٹس کو کے خلاف اٹھنے والی آوازیں سیاسی دھند میں غائب ہو رہی ہیں لیکن اس ملک کو ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں لانے کے لیے جلد یا بدیر اسٹیٹس کو توڑنا ہوگا۔
اس حوالے سے متحدہ، تحریک انصاف اور قادری کی عوامی تحریک اپنے نظم و ضبط اور کارکنوں کی معقول تعداد کے حوالے سے بہت اہمیت کی حامل جماعتیں ہیں اگر یہ جماعتیں آپس میں ایک دوسرے سے لڑتی رہیں تو حکمران طبقات اور ان کے طبقاتی ساتھیوں کو سانس لینے اور اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کی منصوبہ بندیوں کے لیے وقت مل جائے گا۔ اس نظام یا اسٹیٹس کو کو توڑنے کے لیے ایک بڑے اتحاد اور موثر حکمت عملی کے ساتھ لڑنا پڑے گا۔
ویسے توملک میں مڈل کلاس پر مشتمل بہت ساری جماعتیں موجود ہیں لیکن بوجوہ وہ اب تک متحد ہوکر اس نظام کے خلاف لڑنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں اس مایوس کن صورتحال میں متحدہ اورتحریک انصاف کے درمیان پیدا ہونے والے اختلاف اس ملک کے مستقبل کے لیے فال نیک نہیں ہوسکتے۔ پاکستان میں موثر طاقت رکھنے والی کوئی ایسی انقلابی پارٹی موجود نہیں ایسی صورت حال میں ہر ملک کے عوام ''دال دلیے'' پر ہی گزارا کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں دوسری اہم بات یہ ہے کہ دنیا کے حالات اس قدر بدل گئے ہیں کہ اب روس چین جیسے انقلابات کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی البتہ قدم بہ قدم اس سمت میں پیش قدمی کی جاسکتی ہے۔ اس حوالے سے اسٹیٹس کو توڑنے کا مطالبہ مثبت بھی ہے اور بامعنی بھی ہے کیونکہ 67سال سے برگد کی طرح اقتدار اور سیاست میں جڑیں رکھنے والے طبقات اس قدر مضبوط ہیں کہ انھیں کسی جھٹکے سے باہر نکال پھینکنا ممکن نہیں اس کے لیے ایک مربوط اور منظم جدوجہد کی ضرورت ہے۔
متحدہ اور تحریک انصاف کے درمیان حالیہ جنگ کا آغاز دونوں طرف سے ناشائستہ زبان کے استعمال سے ہوا۔ لیکن دونوں جماعتوں میں ناشائستہ زبان کا مسئلہ اختلافات کی اصل وجہ نہیں ہے بلکہ اصل وجہ کراچی کے ووٹ بینک کا تحفظ اور اس میں مداخلت ہے۔
عمران خان کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ چاروں صوبوں میں آزادی کے ساتھ اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں جب کہ متحدہ کو یہ شکایت ہے کہ اسے سندھ کے علاوہ کسی صوبے میں سیاسی سرگرمیوں کی آزادی حاصل نہیں۔ متحدہ قومی سیاست کی طرف جانا چاہتی ہے لیکن جب وہ ان کوششوں میں ناکام ہوجاتی ہے تو پھر وہ لسانی سیاست کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ یہ وہ صورت حال ہے جو عرصے سے جاری ہے۔ جیساکہ ہم نے نشان دہی کی ہے دونوں جماعتوں کی قیادت کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف ناشائستہ زبان استعمال کرنا اصل مسئلہ نہیں ہے بلکہ سندھ میں اپنی اپنی سیاسی پوزیشن کا تحفظ اصل مسئلہ ہے۔ اس لڑائی سے ان دونوں مڈل کلاس کی جماعتوں کی اصل لڑائی پس پشت جا رہی ہے یعنی 67 سالہ اسٹیٹس کو توڑنا۔
2008 سے 2013 تک پیپلز پارٹی کی گورننس نے اسے عوام سے دور کردیا ہے، 2013 کے بعد (ن) لیگ کی حکومت کی کارکردگی اس قدر خراب رہی ہے کہ وہ بھی عوام کی حمایت کھو چکی ہے، اس کے علاوہ عوام ان دونوں پارٹیوں پر لگائے جانے والے کرپشن کے الزامات سے سخت برہم ہیں اور وہ اس لسٹ میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ اور یہ تبدیلی نہ تحریک انصاف لا سکتی ہے نہ متحدہ بلکہ ان دونوں جماعتوں کو پہلے اپنے اختلافات ختم کرکے اسٹیٹس کو توڑنے کے ایک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہونا پڑے گا اور کھل کر اسٹیٹس کو کے خلاف کھڑے ہونا پڑے گا اور اسٹیٹس کو کی پارٹنر جماعتوں سے اپنے تمام رشتے توڑنا ہوں گے۔
ہم نے بار بار نشان دہی کی ہے کہ پاکستان میں اسٹیٹس کو کی مخالف کئی اور جماعتیں موجود ہیں اگرچہ یہ جماعتیں چھوٹی ہیں لیکن اگر یہ جماعتیں تحریک انصاف اور متحدہ کے ساتھ کھڑی ہوجائیں تو ایک ایسی بڑی طاقت بن سکتی ہیں جن کے لیے موجودہ کرپٹ سسٹم توڑنا ہرگز مشکل نہیں ہوسکتا۔ اگر یہ جماعتیں اس 67 سالہ اسٹیٹس کو کو توڑ دیتی ہیں تو پھر ان کے لیے میدان کھلا ہوگا پھر انھیں ایک دوسرے کے ووٹ بینک پر قبضے کا خطرہ باقی نہیں رہے گا۔ بلکہ اس ملک میں حقیقی معنوں میں عوامی جمہوریت کے لیے راستہ کھل جائے گا، لیکن اس کے لیے نان ایشوز پر لڑنے کی نفسیات بلکہ حماقتوں سے باہر نکلنا پڑے گا۔
اس بڑے کام میں طاہر القادری بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ متحدہ تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک تین ایسی طاقتیں ہیں جو مفاداتی سیاست سے باہر نکل کر صرف اسٹیٹس کو توڑنے کے ایک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہوجائیں تو عوام کا سمندر ان کے ساتھ ہوگا اور اسٹیٹس کو کوئی نہیں بچا سکے گا۔ اب فیصلہ متحدہ اور تحریک انصاف کے ہاتھوں میں ہے کہ کیا وہ آپس میں نان ایشوز پر لڑنے جھگڑنے کی سیاست کر کے بڑی کرپٹ جماعتوں کو عوام پر مسلط رکھنے کا کردار ادا کرتی ہیں یا ان باری والوں سے عوام کی جان چھڑا کر ایک ترقی یافتہ پاکستان بنانے کی ذمے داری نبھاتی ہیں۔ لیکن اس کے لیے اولین شرط اسٹیٹس کو کی حامی جماعتوں سے علیحدگی ہے۔