کسٹمز انٹیلی جنس نے قیمتی موبائل فونز کی اسمگلنگ ناکام بنا دی

پاکستان کسٹم ایکٹ مجریہ 1969 کے تحت سامان ضبط کرنے اور کسٹم کورٹ میں مقدمہ دائر کرنے کے لیے کارروائی بھی کے جا رہی ہے۔


Business Reporter February 17, 2015
پاکستان کسٹم ایکٹ مجریہ 1969 کے تحت سامان ضبط کرنے اور کسٹم کورٹ میں مقدمہ دائر کرنے کے لیے کارروائی بھی کے جا رہی ہے۔ فوٹو: فائل

ڈائریکٹوریٹ کسٹمز انٹیلی جنس کراچی نے ایک اور کامیاب آپریشن کے دوران 2 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے الیکٹرونک آلات بشمول آئی فون، آئی پیڈ، قیمتی گلیکسی اینڈرائڈ موبائل فونز، ہزاروں میموری کارڈز قبضے میں لے لیے ہیں جو کسٹمز انٹیلیجنس کراچی کی ٹیم نے شاہراہ فیصل پرٹی سی ایس ڈلیوری وین نمبرKN-0852 سے بازیاب کرائے۔

مذکورہ ڈلیوری وین کی تلاشی کے دوران بھاری مقدار میں اینڈرائڈموبائل فونز آئی فون، آئی پیڈز، میموری کارڈز ودیگر اشیا نظر آئیں جن کی قانونی درآمدات سے متعلقہ دستاویزات دستیاب نہیں تھیں لہٰذا ٹی سی ایس کی اس ڈلیوری وین کو تفصیلی جانچ پڑتال کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف کسٹمز انٹیلی جنس کراچی کے دفتر لایا گیا، تفصیلی چھان بیں کے نتیچے میں ویں سے 388 نہایت قیمتی موبائل فونز، 41 آئی فونز، 12 آئی پیڈز، 3ہزار638 میموری کارڈز برآمد ہوئے۔

یہ سامان ٹی سی ایس کی کوریئر سروس وین سے مختلف مقامات پر اور مختلف ناموں سے بھیجا جا رہا تھا، یہ بات بھی سامنے آئی کے یہ سارا سامان ناجائز طریقے سے ملک میں اسمگل کیا گیا تھا اور اس سامان کی قانونی درآمد کے کسٹم کے دستاویزات بھی موجود نہیں تھیں، اسمگل شدہ سامان کی مالیت 2 کروڑ سے زائد ہے، آپریشن میں حصہ لینے والی کسٹمز انٹیلی جنس کراچی کی ٹیم سپرنٹنڈنٹ رفعت حسین، ایس آئی او حاجی محمد اسلم، انٹیلی جنس افسران اکمل ہاشمی، قاسم علوی، سید منور علی، منیر چانڈیو اور پونم چند پرمشتمل تھی۔

ڈائریکٹوریٹ اس کیس کا مقدمہ درج کررہا ہے اور مذکورہ اشیا کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کا پتا چلاکر انہیں گرفتارکرنے کے وارنٹ بھی جاری کیا جائے گا جبکہ پاکستان کسٹم ایکٹ مجریہ 1969 کے تحت سامان ضبط کرنے اور کسٹم کورٹ میں مقدمہ دائر کرنے کے لیے کارروائی بھی کے جا رہی ہے۔ اس ضمن میں ڈائریکٹر کسٹمزانٹیلی جنس محمد آصف مرغوب صدیقی نے بتایا کہ مذکورہ کارروائی خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹی سی ایس انتظامیہ نے ایک خط کے ذریعے کیس میں ملوث ہونے کی تردیدکردی ہے تاہم ڈائریکٹریٹ تفصیلی تفتیش اور قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے کسی ادارے یا فرد کو مذکورہ کیس میں ناجائزملوث نہیں کرے گا اور نہ ہی اس غیرقانونی سرگرمی میں ملوث عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت برتی جائے گی۔