حصص مارکیٹ میں مندی سے 147 پوائنٹس گرگئے

مندی کے باعث کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس146.76 پوائنٹس کی کمی سے 33796.44 کا ہوگیا۔


Business Reporter February 17, 2015
مندی کے باعث کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس146.76 پوائنٹس کی کمی سے 33796.44 کا ہوگیا۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

مقامی انسٹی ٹیوشنز ودیگر شعبوں کی پرافٹ ٹیکنگ، عالمی سطح پرمختلف کموڈٹیزکی قیمتوں پر دباؤاور کوئلے کی قیمتوں میں اضافے سے سیمنٹ سیکٹرمیں فروخت کا رحجان غالب ہونے سے کراچی اسٹاک ایکس چینج میں پیر کو اتار چڑھاؤ کے بعد مندی کے بادل چھائے رہے جس سے 2 نفسیاتی حدیں بیک وقت گرگئیں، سرمایہ کاروں کے 22 ارب 35 کروڑ55 لاکھ381 روپے ڈوب گئے۔

ماہرین اسٹاک کے مطابق انڈیکس کے بیشترشعبوں بالخصوص آٹوموٹیو سیکٹر میں پرافٹ ٹیکنگ کا رحجان غالب رہنے سے مارکیٹ دباؤ میں رہی حالانکہ ابتدائی اوقات کے دوران مارکیٹ میں ایک موقع پر89.36 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی جو حصص کی فروخت کا حجم بڑھنے سے زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔

ٹریڈنگ کے دوران صرف غیرملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے59 لاکھ92 ہزار293 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جبکہ اس دوران مقامی کمپنیوں کی جانب سے 3 لاکھ74 ہزار957 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے18 لاکھ 42 ہزار998 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے1 لاکھ1 ہزار252 ڈالر، این بی ایف سیز1 لاکھ28 ہزار619 ڈالر، انفرادی سرمایہ کاروں30 لاکھ43 ہزار894 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے5 لاکھ572 ڈالر کا انخلا کیا گیا۔

مندی کے باعث کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس146.76 پوائنٹس کی کمی سے 33796.44 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 76.48 پوائنٹس کی کمی سے 21979.78 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 19.09 پوائنٹس کی کمی سے 54455.82 ہوگیا، کاروباری حجم29.08 فیصد کم رہا،17 کروڑ70 لاکھ63 ہزار990 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ361 کمپنیوں تک محدود رہا جن میں124 کے بھاؤ میں اضافہ، 213 کے داموں میں کمی اور24 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔