جناب کیا ہم یہ سودا پکا سمجھیں
بادشاہ کو غصہ آیا اور سرزنش کرتے ہوئے بولا ، بے وقوف احمق تمہیں تو بھیک مانگنا بھی نہیں آتا،
بخدمت جناب عالی مقام واجب صد احترام حکمرانان کرام مملکت خداداد پاکستان' السلام علیکم، ہزاروں لاکھوں کروڑوں السلام علیکم۔
آخر سیاست بھی تو کوئی چیز ہے اور پھر درخواست گزار سچا پاکستانی یعنی سو پشت سے جس کا پیشہ، پیسہ گری ہو جب کہ دعائیں بالکل مفت دستیاب بھی ہوں تو دعا دینے میں بخل کیوں کیا جائے، ایک زمانے میں جب افغانستان کے مہاجرین پاکستان میں پورے شباب پر تھے، جو ہمیں براہ راست انصار بنا کر ''فیوض'' سے مالا مال کرتے تھے تو ہم ان کو اکثر یہ دعا دیتے تھے اور وہ اس پر بڑے خوش بھی ہو جاتے تھے کہ خدا تم سب کو افغانستان کا بادشاہ بنائے۔ سب سے پہلے تو ہم حکمرانوں کو سیاسی ہیٹ ٹرک کرنے پر دلی مبارک باد پیش کرتے ہوئے دعاگو ہیں اس کے بعد گزارش ہے کہ ہم آپ سے روٹھے ہیں۔ اس لیے کہ یہ جناب امیر مقام کو مشیر بنانے کی چٹکی کاٹ لی گئی ہے، ایسی ہی ایک چٹکی ہماری بھی کاٹ لی جائے تو کسی کا کچھ خرچ نہ ہوتا اور ہم دھینے ہو جاتے۔
خیر یہ تو ویسے ہی خوگر حمد کا چھوٹا سا گلہ تھا جو صرف اس غرض سے کیا گیا ہے کہ اب ایک مرتبہ پھر ''کچھ'' بٹنے والا ہے یعنی ٹہنی ایک مرتبہ پھر پھول دینے کی حالت میں ہے کیونکہ اس میں سرخ سرخ کلیاں صاف صاف دکھائی دے رہی ہیں اور ہر کسی کی کوشش ہے کہ باغ میں داخل ہو کر جھولی پھیلائے بلکہ پھیل چکی ہیں، اس لیے ہمارے بھی دل میں کچھ یوں یوں اور کچھ کچھ ہونے لگا ہے۔
ساقیا آج مجھے نیند نہیں آئے گی
سنا ہے تیری محفل میں رت جگا ہے
حکمران سمجھ گئے ہوں گے کہ ہمارا اشارہ کس طرف ہے یعنی بابا ایک سینیٹ کا ٹکٹ خدا کے نام پر، خدا حکمرانوں کی جھولی مرادوں سے بھر دے، ''روزگار'' میں برکت ہو، سلامت رہے، ہم جانتے ہیں کہ صرف حکمران ہی نہیں سارے لوگ چونک اٹھے ہوں گے کہ یہ منہ اور مسور کی دال یا بڑھیا کو دیکھو ہاتھ میں پاؤ بھر سوت کی اٹنی دیکھو اور یوسف کو خریدنے کے ارادے دیکھو بلکہ ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ ہم پر اس حکایت کی بھپتی بھی کس دیں کہ ایک فقیر نے ایک بہت بڑے بادشاہ سے ایک ''پیسے'' کا سوال کیا۔
بادشاہ کو غصہ آیا اور سرزنش کرتے ہوئے بولا ، بے وقوف احمق تمہیں تو بھیک مانگنا بھی نہیں آتا، میری حیثیت دیکھ کر کچھ مانگتے، بھلا میں ایک ایک پیسہ ۔۔ اس پر فقیر نے کہا، ٹھیک ہے حضور تو اب مانگتا ہوں، مجھے ایک کروڑ روپے عنایت فرما دیجیے۔ بادشاہ کو اور بھی غصہ آیا بولا ، تمہیں تو بالکل بھی بھیک مانگنا نہیں آتا، اب تم نے اپنی حیثیت بھول کر مانگا ہے، تمہیں تو بھیک مانگنے کی تربیت دینے کے لیے پاکستان بھیجنا چاہیے، اور یہ بالکل ہی ٹھیک ہو گا کیونکہ ہمیں واقعی بھیک مانگنے کا سلیقہ نہیں آتا کیونکہ بدقسمتی سے نہ تو ہم کبھی کسی حکومت میں وزیر رہے ہیں اور نہ ہی کسی پارٹی میں دعا گو رہے ہیں۔
ہم کو آتے ہی نہیں بھیک کے انداز ابھی
سیکھ لو بھائی کہ ہے بھیک کا ''در'' باز ابھی
کسی ماہر نے کہیں لکھا ہے کہ اگر تم کسی سے کچھ مانگو تو درخواست میں اپنے احتیاجات ضرورت اور استحقاقات کے بجائے ''دینے والے'' کے لیے پرکشش باتیں لکھو، مثلاً یہ نہیں کہ میں بے روزگار ہوں، غریب و لاچار ہوں، چار پانچ بوڑھے بچے ہیں اور دو چھوٹے چھوٹے والدین ہیں، چار بہنوں کی شادیاں سر پر ہیں، قرضے اتارنا ہیں وغیرہ وغیرہ، بلکہ یہ لکھو کہ میں یہ یہ خوبیاں رکھتا ہوں ، آپ کو یہ یہ فائدے پہنچاؤں گا، مجھے نوکری دے کر آپ اپنے کاروبار میں کئی گنا اضافہ کر لیں گے۔
تارے توڑ لاؤں گا، چار چاند لگاؤں گا، آٹھ سورج چمکاؤں گا، اور اب ہم وہی کرنے جا رہے ہیں، بینک ہمارے ہاتھ میں سوت کی اٹنی ہے لیکن اس انٹی میں جو سوت ہے وہ کوئی ایسی ویسی سوت نہیں بلکہ بہت ہی خاص قسم کا سوت ہے اس سوت سے ہم آپ کے مخالفوں کو ایسا جکڑ کر باندھیں گے کہ ہاتھ پیر تو کیا زبان تک نہیں ہلا پائے گا، بظاہر تو یہ سوت نظر آتا ہے لیکن یہ صرف کسٹمز کو دھوکا دینے اور انکم ٹیکس والوں سے بچنے کے لیے ہے ورنہ اصل میں تو یہ ''اسپائیڈر مین'' کا دھاگہ یا جالا جو ہم نے بڑی محنت اور اپنی عمر کا سارا اندوختہ خرچ کر کے حاصل کیا ہے، اس سے ہم وہ تمام کام لے سکتے ہیں جو آپ چاہتے ہیں۔
اگر غم لشکر انگیزد کہ خون عاشقاں ریزد
من و ساقی بہم سازیم و بنیادش بر انداز یم
یعنی اگر غم لشکر لے کر ہم پر چڑھ دوڑ رہا ہے تو ''میں اور ساقی'' بھی مل کر یعنی آپس میں اتحاد کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے بلکہ اگر اس وقت آپ کے نکمے نکھٹوؤں کی جگہ ہم آپ کے ساتھ ہوتے تھے، جب کپتان اسلام آباد پر چڑھائی کر کے دھرنے کی توپیں چلا رہا تھا یقین کریں دھرنا تو کیا ہم اسے بہت پہلے ہی راضی کر لیتے۔ ہمارا طریقہ نہ صرف سو فیصد پارلیمانی ہے بلکہ 200 فی صد کامیاب بھی ہے، اتنا عرصہ صحافت یعنی سیاست کے پڑوس میں رہ کر ہم یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کسی کے گرد کس طرح اپنا جال بن کر اسے جکڑا جا سکتا ہے۔
آپ ہمیں ایک مرتبہ سینیٹر بنا کر تو دیکھیے جہاں کہیں سے بھی کوئی گردن لمبی کرے گا ہم اسے ''کوکڑوں کوں'' کے پہلے ''ک'' ہی میں جکڑ چکے ہوں گے۔ ہمیں مصر کی بڑھیا سمجھ کر، سوت کی انٹی لیے ہو یوسف کی خریداری کے اداروں پر ہنسنے والے شاید یہ کہیں کہ یہ کوئی ''مٹی کا مادھو'' نہیں بلکہ دور جدید کا یوسف خریدنے یعنی سینیٹر کا بازار ہے یہاں نہ جانے کہاں کہاں کے امیر و کبیر تاجر اور سوداگر بریف کیس بھر بھر کر جواہرات لائے ہیں اور مٹھیاں بھر بھر کر نیلام شروع ہونے کے منتظر ہیں تو ہم کیا اور ہماری سوت کی اٹنی کا بساط کیا، تو ان سب کے جواب میں ہم اتنا کہنا چاہیں گے
تامرد سخن نہ گفتہ باشد
عیب و ہنرش نہفتہ باشد
ہر پیشہ گماں مبر کہ خالی ست
شاید کہ پلنگ خفتہ باشد
یعنی کسی کے عیب و ہنر کا فیصلہ تب تک نہ کرو جب تک اس کا مظاہرہ نہ دیکھ لو اور ہر جنگل پر گمان مت کرو کہ خالی ہے ہو سکتا ہے کہ اس وقت بھیڑیا سو رہا ہو ٹھیک اسی طرح کسی بڑھیا کی سوت کی انٹی پر بھی گمان نہ کرو کہ صرف سوت ہی ہے ہو سکتا ہے وہ اسپائیڈر مین کا دھاگہ ہو جیسا کہ ہماری انٹی میں ہے، خیر بولنے والے تو بولتے رہیں گے جناب وزیراعظم صاحب آپ کا کیا خیال ہے، ہم یہ سودا پکا سمجھ لیں، ایک سینیٹری سیٹ ہی کی تو بات ہے، وہ ادھر کر دیجیے، ہماری اسپائیڈر مین کی انٹی حکمرانوں کی ۔۔۔ پھر دیکھیے کہ ہم کیسے کیسے کشتوں کے پشتے لگاتے ہیں،
نہ یہ دھرنے رہیں گے نہ دھرنوں کے دھارے رہیں گے
مگر ہم ہمیشہ تمہارے رہیں گے
سوچیے مت ہاتھ بڑھایے اور ایک سینیٹری ادھر پھینک دیجیے پھر ہم بھی آپ کے اور ہماری انٹی بھی ۔۔۔۔۔