آئین کا اردو ترجمہ غیر معیاری ہےسپریم کورٹ

قانون کو ماننے والامعاشرہ تبھی تشکیل پاسکتاہے جب شہریوں کو قانون کا ادراک اورغلطیوں سےپاک قانون تک رسائی ہو، جسٹس جواد


Numainda Express February 18, 2015
وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتیں قوانین کے معیاری ترجمے اور پاکستان کوڈ چھاپنے کیلیے طریقہ کاربنا کر رپورٹ دیں،عدالت کاحکم فوٹو:فائل

DAVOS, SWITZERLAND:

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ قانون کو ماننے والامعاشرہ تبھی تشکیل پاسکتا ہے جب شہریوں کو قانون کا ادراک ہواور غلطیوں سے پاک درست قانون تک ان کی آسانی سے رسائی ہو لیکن درست قانون تک رسائی تو بعدکی بات ہے یہاں تو ملک کے آئین کا اردو ترجمہ غیر معیاری ہے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں فل بنچ نے قانون کی کتابوں میں غلطیوں سے متعلق مقدمہ میں وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوںکو ہدایت کی ہے کہ قوانین کے معیاری ترجمے اور پاکستان کوڈ چھاپنے کیلیے طریقہ کار وضع کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔ عدالت نے ترجمے کے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا حکم دیا اور غلط تراجم اور قانون کی کتابیں شائع کرنے والوںکیخلاف کارروائی کی رپورٹ بھی مانگی ہے۔

سیکریٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ دستیاب بجٹ میں یہ کام نہیں ہوسکتا کیونکہ ان کے ادارہ کے پاس کل8کروڑکا بجٹ ہے، جس کا 70فیصد تنخواہوں کی ادائیگی میں خرچ ہو جاتا ہے،اگر بجٹ ہو تو ان کا ادارہ اپنی خدمات دے سکتا ہے۔عدالت کے استفسار پر بتایا گیا پاکستان کوڈ آخری دفعہ 1967میں چھاپا گیا تھا ۔ جسٹس جواد نے کہا اس کے بعد2010 میںگزٹ سے اٹھا اٹھا کرکچھ چیزیں شامل کرکے چھاپتے رہے ہیں اور اس کا نام بھی'' پاکستان کوڈ ''رکھ دیا گیا۔جسٹس جواد نے کہا یہ اس کیس کی پانچویں سماعت ہے اور ہم یہاں بیٹھ کر صرف ''پانی کچھ'' رہے ہیں۔جسٹس جواد نے آئین پاکستان کی اردو میں ترجمہ شدہ ایک کتاب کو لہراتے ہوئے کہا کیا آپ کے خیال میں یہ معیاری کتاب ہے ؟اگر آپ نے اس کتاب کا مطالعہ کیا ہوتا تو معلوم ہوتاکہ اس میں لکھی گئی بہت سی چیزیں ناقابل فہم ہیں، یہ کتاب مجھے بھی سمجھ نہیں آرہی۔

اس میں املاء اورگرائمرکی غلطیاں ہیں اورانتہائی ناقص کتاب ہے،قانون کی کتابوں کے قومی اور صوبائی زبانوں میں ترجمہ کے کام سے کسی کوکوئی دلچسپی نہیں ہے،اگر آپ سے یہ کام نہیں ہوسکتا تو ہاتھ کھڑے کردیں۔فاضل جج نے کہا ملک میں چھپنے والی90 ہزارکتابوں میں سے شاید 9کتابیں ہی غلطیوں سے مبرا ہوںگی اور وکلاء دھڑا دھڑ یہ کتابیں خرید رہے ہیں۔

ایک مقدمے میں اگر فاضل جج صاحب اپنی یادداشت کی بنیاد پرکتاب کی غلطی کی نشاندہی نہ کرتے توان غلطیوں کی وجہ سے قومی خزانے کو80،90ارب روپے کا نقصان ہو جانا تھا۔فاضل جج نے کہا ملک میں جس طرح کے حالات جارہے ہیںکوئی بھی شخص وزارت قانون کی ویب سائٹس کو ہیک کرسکتا ہے اور اس پر لکھ سکتا ہے کہ ڈکیتی کے ملزم کو 6کلو مٹھائی اور 2کلو موتی چور کے لڈو دیے جائیں گے ، سپریم کورٹ کی ویب سائٹ دو دفعہ ہیک ہو چکی ہے۔