سانحہ ماڈل ٹائون کی انکوائری رپورٹ چھپا کرکیاحکومت گناہگاروں کو بچانا چاہتی ہے لاہور ہائیکورٹ

حکومت نے عدالتوں کو مذاق سمجھ رکھا ہے جواب داخل نہ کرانے پر برہمی،3 مارچ تک مہلت


Numainda Express February 19, 2015
رپورٹ پبلک کی تو معاشرے میں انارکی پھیل سکتی ہے،اظہر صدیق ایڈوکیٹ ۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے سانحہ ماڈل ٹائون کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ منظرعام پر لانے کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ رپورٹ منظرعام پرنہ لاکر کیا حکومت گناہ گاروں کو بچاناچاہتی ہے؟

سماعت کے دوران حکومت پنجاب کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ رپورٹ منظر عام پر لانے سے امن وامان کی صورت حال خراب ہوگی۔ انھوں نے جواب داخل کرنے کے لئے مزید مہلت کی استدعا کی، عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ 8 ماہ سے حکومت کو نوٹس جاری کر رکھے ہیں مگر جواب داخل نہیں کیاگیا، حکومت نے عدالتوں کو مذاق سمجھ رکھا ہے۔ رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ بھی عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ نوٹیفکیشن کے سوا ان کے پاس کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔

اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے بتایا کہ انکوائری رپورٹ حکومت پنجاب کے پاس موجود ہے، رپورٹ پبلک کی تو معاشرے میں انارکی پھیل سکتی ہے۔ جسٹس خالد محمود نے حکومت پنجاب کے وکیل سے استفسارکیا کہ رپورٹ پیش کیوں نہیں کی جارہی؟ کافی عرصے سے یہ کیس زیر التوا ہے اور عدالت کی معاونت نہیں کی جارہی۔ ہائیکورٹ نے حکومت کو جواب داخل کرنے کے لیے حتمی مہلت دیتے ہوئے سماعت3 مارچ تک ملتوی کر دی۔