قرآن حکیم کی حکمت

ایٹم کے اثرات ظاہر سے زیادہ باطن، بیرون سے زیادہ اندرون اور جسم سے زیادہ دل و دماغ پر ہوتے ہیں


Saad Ulllah Jaan Baraq October 06, 2012
[email protected]

یہ ایک چھوٹی سی سورۃ مبارکہ ہے جو چھوٹی چھوٹی مختصر اور دو تین لفظی آیات پر مشتمل ہے سورۃ ''الھمزہ'' جس کا نمبر 104 ہے۔

یہ ایک حیران کن سورۃ ہے۔ ہم نے کافی عرصہ پہلے اس کے بارے میں کہیں پڑھا تھا اب یاد نہیں کہ کس کا لکھا ہوا مضمون تھا اور کہاں پڑھا تھا، لیکن اپنی معجزانہ باتوں کی وجہ سے ہمیشہ یہ سورۃ یاد رہی اور جب بھی موقع ملتا اسے پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے رہتے۔ آج پھر اچانک اس نئی صورت حال نے، جو ایک بدبخت شاتم رسول ؐ کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے، ایک مرتبہ پھر یہ سورۃ یاد دلا دی۔ اس سورۃکی ابتداء یوں ہوتی ہے ۔۔۔ جو کہ اللہ تعالیٰ نے دو قسم کے لوگوں کے لیے خرابی کا حکم فرمایا ہے یہ دو اقسام کے لوگ ''ھمزہ'' اور ''لمزہ'' کے الفاظ سے یاد کیے گئے ہیں۔

یہ دو الفاظ نہایت ہی جامع الفاظ ہیں، ''ھمزہ'' وہ لوگ جو سامنے طعن و تشنیع کرتے ہیں اور ''لمزہ'' جو پیٹھ پیچھے برائیاں کرتے ہیں۔ دیکھا جائے تو آج کل یہ ہی ہو رہا ہے۔ مسلمانوں پر طعن و تشنیع کا یہ عالم ہے کہ ان کی مقدس ترین ہستی کا ٹھٹھا اڑایا جا رہا ہے اور پیٹھ پیچھے برائیوں میں وہ تمام سازشیں آ جاتی ہیں جو ہو رہی ہیں۔ دوسری بات میں ان لوگوں پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے جو ''مال'' جمع کرتے ہیں اور گنتے رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ مال ہی سب کچھ ہے۔ یہ تو ایک عام سی بات ہے جو ہر کسی کی سمجھ میں آ جاتی ہے لیکن اس کے بعد جو بات کہی گئی ہے وہ حیران کن ہے کیوں کہ اس میں ایٹم کا ذکر کیا گیا ہے۔

کہا گیا ہے ''افسوس ہے ان پر جو طعن و تشنیع کرتے ہیں برائیاں کرتے ہیں اور یہ سمجھ کر مال جمع کرتے اور گنتے رہتے ہیں کہ یہ ''مال'' ہی ان کی نجات اور خوشحالی کا ذریعہ ہے لیکن ۔۔۔ ''کلا'' کا لفظ رکھ کر کہا گیا ہے کہ ایسا ہر گز نہیں ہے بلکہ یہ سب ''حطمہ'' میں گھیرے جائیں گے اور یہ حطمہ ہی وہ لفظ ہے جو حیران کن حد تک '' ایٹم'' سے مماثل ہے۔ سب سے پہلے تو اس کی لفظی مشابہت بے پناہ ہے۔ حطمہ یا حطم تقریباً ''ایٹم'' ہے، کیونکہ ح اور الف اتنے قریب المخرج ہیں کہ عام طور پر لوگ ''ح'' اور الف کی ادائیگی ایک جیسی کرتے ہیں۔ ہمارے اکثر لوگ ''حیات'' کو ایات، حوا کو اوا بلکہ انگریزی تو حوا کو ''ایو'' کہتے ہیں۔

حلوہ کو اکثر ''الوہ'' کہا جاتا ہے۔ ایک بہت مشہور اصطلاح ہے، ''حشیشین'' اسے انگریزی، ''اساسین'' لکھا اور بولا جاتا ہے۔ یہی حال دو چشمی (ھ) کے ساتھ بھی ہے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ عربوں اور کچھ عربی زبان سے باقاعدہ طور پر واقف لوگوں کے علاوہ یہ دونوں (ھ) اور (ح) الف سے بدل جاتے ہیں اور (ط) تو ظاہر ہے کہ (ٹ) میں بدلتی ہے چنانچہ حطمہ کو ہم حطم، اطم یا ایٹم کہہ سکتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ایک یورپی زبان فرنچ میں بھی یہ ''حطم'' ہے، لیکن بات اگر لفظی مشابہت کی ہوتی تو پھر بھی نظر انداز کی جا سکتی تھی۔

لیکن یہاں تو دوسری آیت میں قرآن کے عام انداز بیان کے مطابق کہا گیا ہے کہ ''تم کیا جانو کہ ''حطمہ'' کیا ہے؟ اور پھر جواب یوں دیا گیا ہے ''نار اللہ موقدہ'' ۔۔۔ وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے، لیکن آگے مزید تشریح بھی ہے ۔۔۔ ایک ایسی آگ جو دلوں پر بھڑکتی ہے۔ عام آگ کا تعلق تو جسم سے ہوتا ہے جسم کو جلاتی ہے دلوں پر بھڑکنے والی آگ اس سے قطعی مختلف ہے۔ ایک دنیا جانتی ہے کہ ایٹم صرف جسموں کو بھسم نہیں کرتا بلکہ ہیرو شیما اور ناگا ساکی میں یہ ہوا کہ آگ اور بم کی آتش سوزی سے جسمانی طور پر دور کے لوگوں کے دل اور سینے بھی پھٹ گئے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ''ایٹمی تابکاری'' کے اثرات کہاں کہاں اور کیسے کیسے ہوتے ہیں، انسان کا وہ سارا جسمانی نظام جو دل کی مرکزیت پر مشتمل ہے تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔

بظاہر کچھ بھی نظر نہیں آتا لیکن اندرونی طور پر بہت زیادہ نقصان پہنچ جاتا ہے۔ اور اندرون ہم دل ہی کو کہتے ہیں۔ دل فیل ہو جاتے ہیں۔ شریانیں پھٹ جاتی ہیں اور پورا نظام تباہ ہو جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ ایٹم کے اثرات ظاہر سے زیادہ باطن، بیرون سے زیادہ اندرون اور جسم سے زیادہ دل و دماغ پر ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ لفظ ''افئدہ'' دل اور دماغ دونوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، گویا حطمہ یا ایٹم کی جو آگ بتائی گئی ہے وہ عام آگ سے قطعی جدا اور مختلف ہے زیادہ تباہ کن اور زیادہ طاقت ور ہے۔

یہاں تک بات یہ بنی کہ یہ سب و شتم کرنے والے، یہ طعن و تشنیع کرنے والے اور سازشیں بُننے والے اپنے مال کی گنتی سے مسرور و مغرور ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ہمارے پاس اعداد کے لحاظ سے چونکہ مال زیادہ ہے اس لیے ہم محفوظ و مامون ہیں، کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ لیکن یہ بچ نہیں پائیں گے۔ کیونکہ انھوں نے ایٹم کی صورت میں ''مال'' ہی کے زور پر اپنے لیے ''آگ'' بنا لی ہے۔ ایک ایسی آگ جو جسمانی اور مادی لحاظ سے ان محفوظ اور مامون لوگوں کے دلوں پر بھڑکے گی۔ لیکن آگے اس آگ کی مزید نشانیاں بھی بتائی گئی ہیں۔

ایک تو اس آگ کے دلوں پر بھڑکنے کے لیے لفظ ''تطلع'' استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی یہ آگ ''طلوع'' ہو گی دلوں پر ۔۔۔ طلوع میں بجائے خود ایٹم بم سے مماثلت پائی جاتی ہے۔ کسی مطلع کسی افق یا آسمان سے طلوع ہو گی اور دلوں پر طلوع ہو گی۔ آگے کی آیت میں اسے ''بند آگ'' کہا گیا ہے، اس سے زیادہ مماثلت ایٹم کے ساتھ اور کیا ہو گی۔ ایک بہت ہی چھوٹے ذرے میں ''بند'' ایک عظیم الشان آگ کا دیو ۔۔۔ ہی تو ایٹم بم ہوتا ہے۔ اور بھی بہت سارے بم اور اسلحہ جات اس میں آتے ہیں وہ بھی بند آگ پر مشتمل ہوتے ہیں لیکن پھر بھی دکھائی تو دیتے ہیں۔

بارود اور اس طرح کی دوسری چیزیں عام سی مادی اور وجود رکھنے والی اور دکھائی دینے والی چیزیں ہیں لیکن ''ایٹم'' تو ایک نہایت چھوٹے ذرے کے اندر کے دوزخ کا نام ہے جو بظاہر آگ نہیں دکھائی دیتی وہ ذرہ جو تقسیم بھی نہیں ہو سکتا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کی تقسیم ہی تو وہ عظیم الشان آگ ہے، لیکن ایک اور نشانی بھی بتائی گئی ہے، ''عمد ممددہ'' ۔۔۔ عمد ممددہ یعنی لمبے لمبے ستونوں کی صورت میں یہ آگ ہو گی اور یہ ہر کوئی جانتا ہے کہ ایٹم جب پھٹتا ہے تو آگ کے لمبے لمبے ستون بن جاتے ہیں جو آخر میں چھتری نما ہو جاتے ہیں جسے اکثر لوگ ''مشروم نما'' بھی کہتے ہیں۔ گویا یہی ستونوں کی صورت میں اس کا پیدا ہونا ہی طلوع ہونا بھی ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ آج سے پندرہ صدیاں پہلے جب بارود کا بھی وجود نہیں تھا اس قسم کی باتوں پر کیا سوچا جائے اور کیا سمجھا جائے۔

اتنی ٹھیک ٹھیک نشانی دی اور خواص بیان کرنا تو آج کے لوگوں کے لیے بھی ممکن نہیں ہے۔ اور اس کا صاف مطلب یہی نکلتا ہے کہ یہ کسی انسان کا بیان نہیں ہے۔ یہ کسی ایسی ہستی کا کلام ہے جسے یہ سب کچھ پہلے ہی سے معلوم تھا۔ اور اس نے خود ہی کہا بھی ہے کہ ''غیب کا علم میں نے کسی کو بھی نہیں دیا'' اسی لیے تو وہ اکثر کہہ دیتا ہے ''جو کچھ میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے کوئی نہیں جانتا'' قرآن عظیم الشان میں ایسا اور بھی بہت کچھ ہے لیکن اگر خود اس کی ہدایت کے مطابق غور و حوض کیا جائے تو مل سکتا ہے۔