بے معنی الیکشن کو بامعنی بنایا جاسکتا ہے
اگر دھاندلیاں روک کر صاف اور شفاف الیکشن کرادیے جائیں تو ملک کی تقدیر بدل جائے گی
حکومت اوراپوزیشن اب انتخابات کی تیاری کرتے نظرآرہے ہیں۔ الیکشن کمیشن بھی انتخابات کی تیاریوں میں سرگرم نظر آرہا ہے۔
محترم فخر الدین جی ابراہیم بار بار یہ دلچسپ بات دہرا رہے ہیں کہ صاف اور شفاف الیکشن ملک کی تقدیر بدل دیں گے، ملک خوش حال ہوجائے گا۔ سب سے پہلے ہم صاف اور شفاف الیکشن کے مطلب پر نظر ڈالیں گے۔ ہماری انتخابی روایات کے مطابق انتخابات میں دھاندلیاں ہمارے انتخابی کلچر کا حصّہ ہیں اور یہ جرم سیاسی پارٹیاں بھی کرتی ہیں اور مذہبی جماعتیں بھی۔ بوگس ووٹنگ، انتخابی عملے کے ذریعے ڈبے بھروانا، ووٹوں کی گنتی میں دھاندلیاں، ووٹوں کی پرچیاں ہزاروں کی تعداد میں اپنے قبضے میں رکھنا، ووٹنگ کے دوران مار دھاڑ فائرنگ اور جانی نقصان، یہ انتخابات کے دوران ہونے والے وہ جرائم ہیں جن کا ارتکاب ہمیشہ ہوتا رہتا ہے۔
ہمارے چیف الیکشن کمیشن جناب فخرو بھائی کا خیال ہے کہ اگر مذکورہ دھاندلیاں روک کر صاف اور شفاف الیکشن کرادیے جائیں تو ملک کی تقدیر بدل جائے گی، ملک خوش حال ہوجائے گا۔ فخر الدین جی ابراہیم سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج ہیں اور ملک میں انھیں عزت کی نگاہ سے اس لیے دیکھا جاتا ہے کہ انھوں نے فوجی آمروں کے ہاتھوں استعمال ہونے سے انکار کیا اور ان کی حکمرانیوں کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوئے۔
ان کی ان ہی خوبیوں کی وجہ سے ملک میں ان کا احترام کیا جاتا ہے، لیکن ہم حیران ہیں کہ فخر الدین جی جیسا باخبر انسان اتنی بڑی غلط فہمی کا شکار کیسے ہورہا ہے کہ صاف اور شفاف انتخابات ہوں تو ملک کی تقدیر بدل جائے گی، ملک خوش حال ہوجائے گا۔
صاف اور شفاف الیکشن کا عمومی مطلب الیکشن کے دوران ہونے والی روایتی دھاندلیوں کو روکنا ہے۔ اور فخرو بھائی دعویٰ کررہے ہیں کہ وہ ہر حال میں صاف اور شفاف الیکشن کو یقینی بنائیں گے۔ اوّل تو صاف اور شفاف الیکشن کا انعقاد اس لیے ممکن نظر نہیں آتا کہ ہمارے سیاسی اوتاروں نے دھاندلیوں کے ایسے سائنٹیفک طریقے ایجاد کرلیے ہیں کہ فخرو بھائی جیسے سادہ لوح انسان ان جدید انتخابی کرائم کو نہ سمجھ سکتے ہیں نہ انھیں روکنا ممکن ہے۔
اگر بفرض محال انھیں کنٹرول کر بھی لیا گیا تو اصل سوال یہ ہے کہ پچھلے 65 برسوں سے جن خاندانوں نے سیاست، اقتدار اور انتخابی نظام پر قبضہ کر رکھا ہے، کیا ان کے علاوہ عوام کے حقیقی نمایندوں کی کامیابی کا کوئی امکان ہے؟ ہمارے انتخابی نظام میں انتخابات جیتنے کی اہلیت صرف ان محترم لوگوں میں پائی جاتی ہے جو الیکشن پر دس پندرہ کروڑ روپوں کی سرمایہ کاری کرنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں اور عوام کے حقیقی نمایندوں کی جیب میں عموماً ''زرِ ضمانت'' کی فراہمی بھی ممکن نہیں ہوتی۔
کامیابی کی دوسری شرط یہ ہے کہ امیدوار کا حلقۂ اثر کتنا وسیع ہے؟ اس حوالے سے اگر ہم انتخابی امیدواروں پر نظر ڈالیں تو وہی ھذا من فضل ربی کلاس سامنے آتی ہے جنھیں ہم وڈیروں، جاگیرداروں، صنعت کاروں، بیورو کریسی، نوابوں، سرداروں، خانوں کے نام سے جانتے ہیں۔
جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں، سیاسی اوتاروں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ موقع پرست اور وقت شناس نئے اور پرانے پاپی پارٹیاں بدل رہے ہیں۔ پارٹیوں میں شامل ہورہے ہیں اور ہماری سیاسی قیادت چن چن کر دیکھ بھال کرکے ایسے نئے اور پرانے امیدواروں کو اپنی پارٹیوں میں شامل کررہی ہے جو ان کے معیار پر پورے اترسکتے ہیں۔ ایک کیا ان میں دس پندرہ کروڑ روپے خرچ کرنے کی صلاحیت ہے، دوسرے ان کا حلقۂ اثر کتنا وسیع ہے۔ یہی دو خوبیاں ہمارے انتخابی نظام اور ہماری سیاست کے بنیادی اصول ہیں۔
یہ دو خوبیاں نہ انتخابات کے قوانین کے خلاف ہیں نہ ان خوبیوں کے مالکان کو فخرو بھائی انتخابات لڑنے سے روک سکتے ہیں۔ انتخابی اخراجات کو محدود کرکے انتخابات میں دولت کے استعمال کو روکنے کے لیے انتخابی اخراجات کو محدود کرنے کا جو قانون متعارف کرایا جاتا ہے، اس کی دھجیاں بڑے سائنٹیفک طریقوں سے اس طرح اڑائی جاتی ہیں کہ فخر الدین جی ابراہیم اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود انھیں روک نہیں سکتے۔ ان حقائق کی روشنی میں روایت کے مطابق وہی سیاسی گِدھ انتخابات میں کامیابی حاصل کریں گے جو 65 برسوں سے ملک کی تقدیر پر قبضہ کیے بیٹھے ہیں۔ پھر فخرو بھائی صاف اور شفاف الیکشن کے ذریعے ملک کی تقدیر کیسے بدل سکیں گے؟
ہمارے ایلیٹ کے شہزادے آج کل عوام کے موڈ اور سیاست دانوں اور سیاست سے عوام کی بڑھتی ہوئی نفرت کو دیکھ کر انقلاب اور نظام کی تبدیلی کی گمراہ کن اور مضحکہ خیز بات کررہے ہیں۔ یہ سیاسی پاپی عوام کو جس پرفریب انقلاب کا جھانسا دے رہے ہیں، اس کی حقیقت تو ایک انتخابی فراڈ سے زیادہ نہیں لیکن ان موروثی عوام دشمنوں کو شاید یہ اندازہ نہیں کہ اصل عوامی انقلاب دبے پائوں ان کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس کی پیش رفت کو جعلی انقلابی نعروں سے روکا نہیں جاسکتا۔
اس حقیقت کے باوجود موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ ملک انتخابی فراڈ کی طرف جارہا ہے۔ عوامی انقلاب کو جب آنا ہے، وہ آکر رہے گا لیکن آج ہم جس روایتی انقلابی فراڈ کے سامنے کھڑے ہیں، اسے بامعنی بنانے کی کوئی ایسی صورت ہے کہ عوام کے حقیقی نمایندے انتخابات لڑسکیں؟ ایک طریقہ یہ ہے کہ ہر حلقہ انتخاب میں عوام خود اپنے اعتماد کے مخلص، ایمان دار اور باصلاحیت نمایندوں کو ڈھونڈیں اور انھیں اپنا نمایندہ بنائیں۔ اس حوالے سے کراچی کے کچھ دوست ایک ایسا مرکزی رابطہ آفس بنانے کے لیے کوشاں ہیں جو ملک بھر کے حلقۂ انتخابات سے عوام کے چنے ہوئے امیدواروں کا پلیٹ فارم بن سکے۔ اور ان نمایندوں کی انتخابی مہموں کی منصوبہ بندی کی جاسکے۔ اس حوالے سے ہونے والی پیش رفت سے عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔
دوسرا راستہ طبقاتی نمایندگی کا ہے۔ اس حوالے سے بھی کچھ دوست کوششوں میں مصروف ہیں۔ تیسرا راستہ ملک کے ادیبوں، شاعروں، فنکاروں، دانشوروں، صحافیوں وغیرہ کے لیے قانون ساز اداروں میں نشستیں مہیا کرنے کا ہے، جنھیں ان کی تنظیمیں نامزد کریں اور یہ لوگ بلامقابلہ قانون ساز اداروں میں مختص کی گئی نشستوں پر پہنچ سکیں۔ اس طرح قانون ساز اداروں پر قابض مافیا کی طاقت کو کمزور کیا جاسکتا ہے۔ اور چوتھا اور سب سے زیادہ موثر طریقہ یہ ہے کہ زندگی کے مختلف شعبوں کے اچھی شہرت رکھنے والے لوگوں پر مشتمل ایک منشور مانیٹرنگ کمیٹی بنادی جائے۔
جس کے پاس انتخابات میں شرکت کرنے والی جماعتیں اپنا انتخابی منشور اور اس پر مرحلہ وار عمل درآمد کا شیڈول جمع کرائیں۔ منشور مانیٹرنگ کمیٹی برسر اقتدار آنے والی جماعت کے منشور پر عمل درآمد کا جائزہ لیتی رہے۔ اگر برسر اقتدار پارٹی اپنے منشور پر مرحلہ وار عمل درآمد میں ناکام رہتی ہے تو دو سال بعد کمیٹی اس حکومت کو فارغ کرکے نئے انتخابات کراکے اس پریکٹس سے بہت جلد فراڈسیاسی جماعتوں سے چھٹکارا حاصل ہوجائے گا۔