اوگرا اور رینٹل پاور کیسز میں نیب پر کوئی دباؤ نہیں سراج النعیم

قومی احتساب بیوروچھوٹے یا بڑے کرپشن میں ملوث تمام سرکاری افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے گا


Business Reporter February 20, 2015
گزشتہ سال لوٹی گئی ایک ارب40 کروڑ روپے کی رقم وصول کی گئی، کراچی چیمبر میں خطاب۔ فوٹو: فائل

اوگرا اور رینٹل پاورکیسز کی تحقیقات میں قومی احتساب بیورو پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ یہ بات قومی احتساب بیورو سندھ کے ڈائریکٹرجنرل کرنل ریٹائرڈ سراج النعیم نے جمعرات کو کراچی چیمبر آف کامرس کے دورے کے موقع پر ممبران سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے بتایا کہ نیب سندھ میں فی الوقت450 کیسز زیرسماعت ہیں، قومی احتساب بیوروچھوٹے یا بڑے کرپشن میں ملوث تمام سرکاری افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے گا، گزشتہ سال لوٹی گئی ایک ارب40 کروڑ روپے کی رقم وصول کی گئی، پلی بارگیننگ کا مقصد لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانا ہے، ٹیکس نظام کی خامیوں کوختم کرنے کے لیے ایف بی آر اور نیب ملکر ایک اسٹڈی پر کام کررہے ہیں جو اگلے 6 سے8 ماہ میں مکمل کرلی جائے گی جس سے ٹیکس نظام میں موجود سنگین نوعیت کی خامیوں کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر ٹیکس دھندگان کو یہ یقین ہوجائے کہ ان کا ادا کردہ ٹیکس کرپٹ ہاتھوں میں نہیں جائے گا اور یہ ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرکے عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ ہوگا تو عوام لازما ٹیکس باقاعدگی کے ساتھ ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کو ٹیکسوں سے متعلق تاجروں کی زیادہ تر شکایات کا تعلق ٹیکس ریفنڈ سے ہوتا ہے تاہم نیب کا ادارہ تفتیش کے مراحل میں تاجروں کی مشکلات کو کم سے کم کرنے کی بھرپورکوشش کرتا ہے۔ پاکستان اسٹیل سے متعلق اسٹیل مرچنٹس کی انکوائریز کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ان تمام کیسز کا ازسرنوجائزہ لیا جائے گا۔